پالم آتشزدگی کا سانحہ : ایک ہی راستے کی چلی گئی نو زندگیاں
نئی دہلی، 18 مارچ (ہ س)۔ دہلی کے پالم علاقے میںبدھ کی صبح اس وقت افراتفری اور خوف و ہراس مچ گیا جب سادھ نگر کے گلی نمبر 2 میں واقع ایک چار منزلہ عمارت میں زبردست آگ لگ گئی۔ صبح لگی اس آگ نے چند منٹوں میں ہی پوری عمارت کو اپنی زد میں لے لیا۔ حادثے م
DELHI-PALAM-FIRE-9-DEAD


نئی دہلی، 18 مارچ (ہ س)۔ دہلی کے پالم علاقے میںبدھ کی صبح اس وقت افراتفری اور خوف و ہراس مچ گیا جب سادھ نگر کے گلی نمبر 2 میں واقع ایک چار منزلہ عمارت میں زبردست آگ لگ گئی۔ صبح لگی اس آگ نے چند منٹوں میں ہی پوری عمارت کو اپنی زد میں لے لیا۔ حادثے میں نو افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں تین معصوم بچیاں بھی شامل ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق، آگ لگنے کے وقت عمارت کے زیادہ تر مکین سو رہے تھے۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔بلڈنگ کے اندر صرف ایک ہی تنگ راستہ تھا، جو باہر نکلنے کا ذریعہ تھالیکن بدقسمتی سے، وہیں سب سے زیادہ آگ بھڑک رہی تھی۔ لمحوں میں زہریلا دھواں کمروں میں بھر گیا جس سے لوگوں کا دم گھٹنے لگا۔ بالکونیوں پر کھڑے لوگوں نے مدد کے لیے چیخیں مارتے رہے لیکن شعلوں کی شدت کے آگے کوئی اندر جانے کی ہمت نہیں کر سکا۔

اس ہولناک منظر کے درمیان ایک باپ کا جرات مندانہ قدم سامنے آیا۔ راجندر کشیپ کے بیٹے انل نے اپنی ایک سالہ بیٹی میتالی کو بچانے کے لیے دوسری منزل سے پھینک دیا۔ نیچے کھڑے لوگوں نے لڑکی کو بچانے کی کوشش کی۔ اسی دوران انل بھی نیچے کود گیا جس سے ان کے سر میں شدید چوٹ آئی۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک شخص فائر ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھی سے نیچے اتر رہا تھا کہ توازن کھو کر گر گیا۔ اس واقعے نے بچاو¿ کی کوششوں کو مزیدمشکل بنا دیا۔

مقامی لوگوں کے مطابق ،یہ عمارت مارکیٹ کے پردھان راجندر کشیپ کی تھی اور اس کا ڈھانچہ کسی ڈیتھ ٹریپ سے کم نہیں تھا۔ تہہ خانے اور گراو¿نڈ فلورز میں ایک بیوٹی پارلر، ایک بڑی چوڑی اور کاسمیٹک شو روم تھا، جس میں آتش گیر مواد کی ایک بڑی مقدار موجود تھی۔ اس کے علاوہ کپڑے کا کاروبار بھی تھا۔ اسی وجہ ہے کہ آگ نے چند منٹوں میں ہی تباہ کن رخ اختیار کر لیا۔ خاندان کے تقریباً 15 افراد بالائی منزل پر رہتے تھے۔ عمارت کے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں تھا، جس کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

مقامی رہائشی راجیش نے بتایا کہ آگ صبح 6:45 بجے کے قریب دیکھی گئی، لیکن فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تقریباً آدھے گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ اتنا ہی نہیں، ہائیڈرولک مشین کو شروع کرنے میں کافی وقت لگا۔ مشتعل رہائشیوں نے قریبی عمارت کی دیوار کو توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن گہرے دھوئیں کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر سکے۔فائر بریگیڈ کی تقریباً 30 گاڑیوں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا۔

پولیس کے مطابق، حادثے میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مرنے والوں میں پرویش (33)، کمل (39)، آشو عرف انل (35)، لاڈو (70)، ہمانشی (22) اور تین نابالغ بچیاں (15، 6 اور 3 سال) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دیپیکا (تقریباً 28) کو اسپتال لے جانے پر مردہ قرار دے دیا گیا۔

زخمیوں میں انل (تقریباً 32 سال) اور ایک دو سالہ بچی کا علاج چل رہا ہے۔ سچن (29) تقریباً 25 فیصد جھلسنے کے ساتھ صفدر جنگ اسپتال میں داخل ہے۔

واقعے کے بعد زخمیوں کو منی پال اور آئی جی آئی اسپتال سمیت مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ بہت سے لوگوں کو تشویشناک حالت میں لایا گیاجن میں سے زیادہ تر کو ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔

اس حادثے نے ایک بار پھر دارالحکومت میں غیر قانونی تعمیرات اور فائر سیفٹی کے ضوابط کو نظر انداز کرنے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سنگل ایگزٹ والی عمارتیں، آتش گیر مواد کا ذخیرہ اور حفاظتی اقدامات کا فقدان اس واقعے کو اتنا خوفناک بنا دیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر فائر سیفٹی کے اقدامات کئے گئے ہوتے اور فائربریگیڈ کی گاڑیاںوقت پر پہنچتیں تو کئی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں ہے بلکہ غفلت اور نظامی خامیوں کی دردناک مثال ہے جس نے بہت سے خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے اجاڑ دیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande