
نئی دہلی، 18 مارچ (ہ س)۔
قبائلی کاریگروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے، قبائلی امور کی مرکزی وزارت نے ریسا - ٹائم لیس ٹرائبل کے نام سے ایک برانڈ شروع کیا۔ سندر نرسری میں بدھ کو ملک کی قبائلی فن اور روایت کے فروغ کیلئے مرکزی وزیر جویل اورام نے ریسا ٹائم لیس ٹرائبل نام سے ایک پریمیم سگنیچر برانڈ لانچ کیا ہے ۔ اس موقع پر مرکزی وزیر مملکت برائے خواتین و اطفال بہبود ساوتری ٹھاکر ، قبائلی امور کی وزارت کی سکریٹری رنجنا چوپڑا، ایم راجاموروگن اور مشہور فیشن ڈیزائنر منیش ترپاٹھی سمیت کئی معززین موجود تھے۔
اس موقع پر مرکزی وزیر جویل اورم نے کہا کہ ریسا برانڈ کے آغاز کا مقصد قبائلی ب±نائی، کڑھائی اور دستکاری کو قومی اور بین الاقوامی منڈیوں میں فروغ دینا، کاریگروں کو بہتر آمدنی اور پائیدار روزگار فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی دستکاریوں کو مناسب قیمت نہیں ملی ہے، لوگ قبائلی فنکاروں کی مصنوعات مہنگے داموں خرید رہے ہیں۔ تاہم، ریسا جیسے پلیٹ فارم مارکیٹ تک رسائی اور مناسب منافع کو یقینی بنائیں گے۔
وزارت کے مطابق، اس اقدام کے پہلے مرحلے میں 10 کلسٹرز شامل ہیں، جن میں ملک کی بڑی روایتی بنائی، کڑھائی اور دستکاری کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان میں آسام سے ایری اور موگا ریشم، لداخ سے پشمینہ، اوڈیشہ سے کوٹ پیڈ کی بنائی، اور تمل ناڈو سے ٹوڈا کڑھائی شامل ہیں۔
اس پروجیکٹ میں کئی نامور ڈیزائنرز بھی شامل ہیں، جن میں ابو جانی، سندیپ کھوسلہ، انجو مودی، اور گورو جئے گپتا شامل ہیں۔
حکومت نے کہا کہ یہ اسکیم کاریگروں کو تربیت، اختراعی ڈیزائن، بہتر انفراسٹرکچر، اور ماحول دوست پیکیجنگ بھی فراہم کرے گی۔اس اقدام کو قبائلی برادریوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور ان کے روایتی فن کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم سمجھا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ