
نئی دہلی، 18 مارچ (ہ س)۔ دہلی کے دوارکا ضلع کے پالم علاقے میں واقع رام چوک مارکیٹ کی ایک کثیرالمنزلہ عمارت میں بدھ کی صبح لگنے والی آگ میں اب تک نو افراد کی موت ہو چکی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں تین معصوم بچیاں بھی شامل ہیں۔ حادثے میں کئی لوگ جھلس گئے، اور کچھ نے اپنی جان بچانے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگا دی۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اس واقعے پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور مرنے والوں کے لواحقین کو وزیر اعظم کے قومی ریلیف فنڈ سے ہر ایک کو 200,000 روپے اور زخمیوں کو 50,000 روپے دینے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ وزیر اعلیٰ گپتا نے ایکس پوسٹ پر لکھا، پالم میں ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت میں لگنے والی تباہ کن آگ کے بارے میں جان کر مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ ضلع انتظامیہ، دہلی فائر ڈپارٹمنٹ، اور دہلی پولیس بچاو¿ کاموں میں مصروف ہیں۔ مجسٹریل انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مرنے والوں میں دو مرد، پرویش (33) اور کمل (39) اور چار خواتین، آشو (35)، لاڈو (70)، ہمانشی (22) اور دیپیکا (28) شامل ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں تین نابالغ لڑکیاں بھی شامل ہیں جن کی عمریں 15، 6 اور 3 سال ہیں۔ ایک 19 سالہ شخص کو 25 فیصد جھلسنے کے ساتھ صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔پولیس کے مطابق، اس عمارت (ڈبلیو زیڈ-124اے) کے تہہ خانے، گراو¿نڈ فلور اور پہلی منزل میں کپڑے اور کاسمیٹک شو روم ہے۔ مارکیٹ کے مالک راجندر کشیپ مبینہ طور پر اس عمارت کے مالک ہیں۔ ان کا خاندان دوسری اور تیسری منزل پر رہتا ہے۔ آگ تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی اور اندر موجود افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی پالم گاو¿ں تھانے کے ایس ایچ او سمیت پولیس کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ فائر بریگیڈ کی 20 گاڑیاں اور 11 ایمبولینسیں روانہ کی گئیں۔ فائر فائٹرز نے کافی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا۔پولیس کے مطابق آگ لگنے کے دوران دو افراد نے اپنی جان بچانے کے لیے عمارت سے چھلانگیں لگائیں جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا گیا۔ فائر فائٹرز نے اب تک 10 افراد کو بچا لیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایف ایس ایل ٹیم کو طلب کر لیا گیا ہے۔ آگ لگنے کی وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس، فائر بریگیڈ، بی ایس ای ایس، ایئر فورس، پولیس اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan