
نئی دہلی، 18 مارچ (ہ س)۔ اتر پردیش میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت نے بارہ بنکی اور بہرائچ کے درمیان چار لین،ایکسس کنٹرولڈ قومی شاہراہ 927 کی تعمیر کو منظوری دی ہے۔ اس پروجیکٹ پر کل 6,969.04 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور اسے ہائبرڈ اینوئٹی موڈ (ایچ اے ایم ) کے تحت تیار کیا جائے گا۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے اقتصادی امور (سی سی ای اے) نے پروجیکٹ کی منظوری دی۔ اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے بدھ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ تقریباً 101.515 کلومیٹر طویل شاہراہ بارہ بنکی اور بہرائچ اضلاع کے درمیان بہتر رابطے کو یقینی بنائے گی۔ یہ پروجیکٹ سڑک کی موجودہ جیومیٹرک کمیوں، تیز گھماو¿ اور شہری علاقوں میں بھاری بھیڑ کو دور کرے گا۔ نئی ہائی وے بڑی آبادی والے علاقوں کوبائی پاس کرے گا، جس سے سفر کا وقت تقریباً ایک گھنٹہ کم ہو جائے گا۔
یہ شاہراہ لکھنو¿ سے روپئی ڈیہا کوریڈور کا حصہ ہوگی اور ہندوستان-نیپال سرحد تک ہموار رابطہ فراہم کرے گی۔ اس سے روپئی ڈیہا لینڈ پورٹ تک رسائی بھی آسان ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سفر کو فروغ ملے گا۔
پروجیکٹ کے تحت 48.28 کلومیٹر طویل بائی پاس تعمیر کئے جائیں گے ۔ یہ راستہ این ایچ-27، این ایچ-330بی ، اور این ایچ -730 سمیت کئی قومی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ ریاستی شاہراہوں سے بھی منسلک ہوگا۔ اس کے علاوہ لکھنو¿ اور شراوستی ہوائی اڈوں، کئی ریلوے اسٹیشنوں اور بڑے لاجسٹک اور اقتصادی مراکز کو بھی اس جوڑنے کا منصوبہ ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ اس منصوبے سے علاقائی اقتصادی سرگرمیوں خاص طور پر زرعی تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں کو فروغ ملے گا۔ اس سے لاکھوں لوگوں کے لیے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ مکمل ہونے پر، یہ پروجیکٹ دور دراز کے اضلاع جیسے بہرائچ اور شراوستی سے رابطے میں نمایاں طور پر بہتری لائے گا، جس سے خطے کی مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد