
کولکاتا، 17 مارچ (ہ س)۔ سابق ہوم سکریٹری جگدیش پرساد مینا، جنہیں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات-2026 کے اعلان کے بعد انتظامی ردوبدل میں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، اب انہیں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے تمل ناڈو میں انتخابی مبصر کے طور پر مقرر کیا ہے۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق مینا کو تمل ناڈو کے ایک اسمبلی حلقے میں ووٹنگ کے عمل کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ تقرری اس وقت ہوئی ہے جب انہیں حال ہی میں انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد مغربی بنگال کے ہوم سکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
الیکشن شیڈول کا اعلان کرنے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی کمیشن نے ریاست کے انتظامیہ اور محکمہ پولیس میں بڑی تبدیلیاں کیں۔ دیر رات کی تبدیلی میں، چیف سکریٹری نندنی چکرورتی کی جگہ دشمنتا ناریالا کو تبدیل کیا گیا، جب کہ سنگمترا گھوش کو نیا ہوم سکریٹری مقرر کیا گیا۔اس کے علاوہ پولیس انتظامیہ میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں اور نئے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس، کولکتہ پولس کمشنر اور ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (لا اینڈ آرڈر) کا تقرر کیا گیا۔ان تبادلوں نے ریاستی سیاست کو گرما دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو خط لکھ کر آدھی رات کے تبادلوں پر سخت اعتراض کیا۔ انہیں ’آدھی رات کی صفائی‘ کہتے ہوئے انہوں نے رات گئے ہٹانے کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔
اپنے خط میں چیف منسٹر نے یہ بھی الزام لگایا کہ کمیشن کے فیصلے سے ریاست کا انتظامی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی طور پر اہم عہدوں پر تقرریوں یا تبادلوں سے قبل ریاستی حکومت سے تین ناموں کے پینل کی درخواست کی جاتی ہے لیکن اس بار ایسا نہیں کیا گیا۔
ممتا بنرجی نے اس کارروائی کو یکطرفہ اور من مانی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کی ساکھ پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ کمیشن کی ساکھ اس کی غیر جانبداری، شفافیت اور طریقہ کار کے انصاف پر مبنی ہے۔دریں اثناءاپوزیشن لیڈر شبیندو ادھیکاری پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ صرف عہدیداروں کو ہٹانا کافی نہیں ہے بلکہ انہیں ریاست سے باہر بھیج دیا جانا چاہئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کمیشن کا مینا کو ریاست سے باہر بھیجنے کا فیصلہ سیاسی ماحول کو مزید بھڑکا سکتا ہے، جس سے اپوزیشن کو یہ الزام لگانے کا موقع ملے گا کہ کمیشن مخصوص سیاسی دباو¿ کے تحت کام کر رہا ہے۔انتخابی عمل کے آغاز میں ہی ریاستی انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan