
نئی دہلی، 17 مارچ (ہ س)۔ سماجی انصاف اور بااختیاریت کے مرکزی وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے منگل کو کہا کہ سال 2027 کی مردم شماری ملک میں معذور افراد کی جامع اور درست شناخت کے لیے ایک تاریخی موقع ثابت ہوگی، جس کے ذریعے تمام 21 زمروں کی معذوریوں کی منظم طریقے سے شناخت کی جائے گی۔ اٹھاولے نے یہاں معذور افراد کے لیے روزگار کے فروغ کے قومی مرکز (این سی پی ای ڈی پی) کے ذریعہ تیار کردہ ارکان پارلیمنٹ کے لیے معذوری کی شمولیت پر ایک کتابچہ جاری کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ شمار کنندگان اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے جدید نظام کے ذریعے حاصل کیا جانے والا ڈیٹا حکومت کو معذور افراد کے لیے مزید موثر، ٹارگٹڈ اور جامع پالیسیاں بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔
اس تقریب میں ایم پی ای ٹی محمد بشیر، ایٹالہ راجندر، ڈاکٹر فوزیہ خان، ڈاکٹر گرو پرکاش پاسوان، نیہا جوشی اور انیش گاونڈے سمیت کئی معززین نے شرکت کی۔ این سی پی ای ڈی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ارمان علی نے کہا کہ ہینڈ بک ارکان پارلیمنٹ کو معذور افراد کو درپیش چیلنجوں کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دے گی۔ اس سے معذور افراد کے حقوق کے قانون 2016 کے موثر نفاذ میں بھی مدد ملے گی۔اٹھاولے نے کہا کہ مودی حکومت نے معذوروں کو بااختیار بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں سوگمیا بھارت ابھیان، یو ڈی آئی ڈی پورٹل، پی ایم-دکش سکل ڈیولپمنٹ پروگرام اور آیوشمان بھارت شامل ہیں۔اس موقع پر ماہرین نے معذور افراد کے لیے ہیلتھ انشورنس کوریج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 80 فیصد سے زائد معذور افراد ہیلتھ انشورنس سے محروم ہیں۔ یہ بنیادی طور پر اعلی پریمیم اور محدود کوریج کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ آیوشمان بھارت جیسی اسکیموں میں معذور افراد کے لیے جامع اور طویل مدتی صحت کی مدد شامل ہونی چاہیے۔راجیہ سبھا کے رکن جے بی ماتھر نے کہا کہ یہ ہینڈ بک ممبران پارلیمنٹ کو معذوری سے متعلق مسائل کے تئیں زیادہ حساس بنائے گی اور پارلیمنٹ میں ان مسائل کو مو¿ثر طریقے سے اٹھانے میں مدد کرے گی۔پروگرام کو ایک جامع ہندوستان کی تعمیر کی طرف ایک اہم قدم بتاتے ہوئے، اٹھاولے نے کہا کہ حکومت کا مقصد ترقی کے عمل میں کسی کو پیچھے نہ چھوڑنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan