
سارن، 15 مارچ (ہ س)۔ بہار کے سارن ضلع کے ڈیرنی تھانہ علاقہ کے شیتل پٹی گاؤں میں 11 مارچ کو ایک نابالغ لڑکی کی مشتبہ موت سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔
پولیس نے اپنی ابتدائی تفتیشی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مقتولہ اور گرفتار کلیدی ملزم انسٹاگرام کے ذریعے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ ڈوب کر بتایا گیا ہے ، جسم پر کسی باہری چوٹ کے نشان نہیں ملے ہیں۔
پولیس کی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ 11 مارچ 2026 کو دوپہر 2:30 بجے کے قریب پیش آیا۔ ڈیرنی تھانہ انچارج کو شام 4:45 بجے اطلاع ملی کہ شیتل پٹی گاؤں میں ایک نابالغ لڑکی کی مشتبہ حالات میں موت ہوگئی ہے۔ جب پولیس ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی تو لڑکی کی لاش اس کے خستہ حال پرانے مکان سے تقریباً پانچ میٹر کے فاصلے پر ایک کنویں کے کنارے پڑی ہوئی ملی۔ گاؤں والوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے لاش کو کنویں سے نکال کر کنارے پر رکھ دیا ہے۔
پولیس نے فوری طور پر موت کی جائزہ رپورٹ تیار کی، جس میں متوفی کی ماں اور ایک مقامی لوگ نے الزام لگایا کہ لڑکی کو کنویں میں دھکیل دیا گیا تھا۔ لاش کو فوری طور پر پوسٹ مارٹم کے لیے چھپرہ صدر اسپتال بھیج دیا گیا۔
12 مارچ 2026 کو واقعہ کے تقریباً 24 گھنٹے بعد متوفی کی والدہ نے تحریری درخواست جمع کرائی جس کی بنیاد پر ڈیرنی تھانہ میں مقدمہ نمبر 96/26 درج کیا گیا۔ پولیس نے پانچ نامزد ملزمین کے خلاف سنگین ترین دفعات اورپاکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جس میں دفعہ 103(1)، 70(2)،پاکسو ایکٹ کی دفعہ 4/6/8، (بی این ایس) کی دفعہ 238، 351(2) اور 61(2) شامل ہیں۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سون پور کے سب ڈویزنل پولیس افسر نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ مظفر پور سے فرانزک سائنس لیبارٹری کی ایک ٹیم کو شواہد اکٹھا کرنے کے لیے بلایا گیا، اور جائے وقوعہ کا سائنسی معائنہ کیا۔
دوران تفتیش دو اہم گواہ سامنے آئے۔ ایک پربھاوتی دیوی ان کا گھر جائے وقوع سے صرف تیس فٹ کے فاصلے پر ہے، انہوںنے بتایا کہ انہیں متوفی کی ماں نے انہیں فون کر کے بیٹی کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ جب انہوں نے جا کر دیکھی تو لڑکی وہاں موجود تھی۔ اس کے بعد ماں اور بہن بھی وہاںپہنچ گئی۔ وہاں ایک ٹوٹے ہوئے گھر میں ملزم یوراج کمار اپنی بہن کے ساتھ موجودتھے۔ دوسرے پربھو رام ان کا گھر بیس فٹ کے فاصلے پر ہے۔ انہوں نے بھی تقریباً ملتا جلتا بیاندیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق جب گاؤں والے جمع ہونے لگے تو خوف و ہراس پھیل گیا اور ملزم فرار ہو گیا۔ حالانکہ متوفی کنویں میں کیسے گری اس کے بارے میں معمہ برقرار ہے۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کلیدی ملزم یوراج کمار ولد راج کشور مانجھی عرف کمل مانجھی کو گرفتار کر لیا ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران یوراج نے جائے وقوعہ پر اپنی موجودگی کا اعتراف کیا۔
پولیس کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مقتول اور ملزم ایک ہی گاؤں کے رہنے والے تھے اور انسٹاگرام کے ذریعے رابطے میں تھے۔ انہوں نے واقعہ کے دن دوپہر میں بات بھی کی تھی۔ 14 مارچ 2026 کو صدراسپتال چھپرا کی طرف سے جاری کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کئی نکات سامنے آئے۔
موت کی وجہ ڈوبنے سے دم گھٹنا تھا۔ متوفی کے جسم پر کوئی بیرونی زخم نہیں پایا گیا۔ آرآر لیبارٹری کی تحقیقات کے مطابق کوئی سپرم نہیں ملا۔
مکمل تحقیقات کی تصدیق کے لیے پولیس نے متوفی کے کپڑے، خون کے نمونے، ناخن اور دیگر حیاتیاتی نمونے محفوظ کر لیے ہیں اور تفصیلی جانچ کے لیے انہیں ایف ایس ایل، مظفر پور بھیجنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔
سارن پولیس نے وضاحت کی ہے کہ یہ ابتدائی تفتیش ہے۔ اگرچہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈوبنے کی بات کہی گئی ہے، خاندان کے الزامات اور جائے وقوعہ کے حالات کو دیکھتے ہوئے قتل کی دفعات اور پاکسو ایکٹ کے تحت تفتیش جاری ہے۔
پولیس کی ایک سرکاری ریلیز کے مطابق معاملے کے تمام پہلوؤں پر مکمل تفتیش جاری ہے۔ سائنسی شواہد اور ایف ایس ایل کی حتمی رپورٹ کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ہم وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹس کا اشتراک کرتے رہیں گے۔ پولیس دیگر نامزد ملزمین کی تلاش کے لیے چھاپہ ماری کر رہی ہے اور گاؤں میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے حالات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan