
کینبرا، 15 مارچ (ہ س)۔ آسٹریلیائی حکومت کے ایک وزیر نے اتوار کو مقامی وقت کے مطابق بتایا کہ ایران کی خواتین فٹ بال ٹیم کی تین ارکان نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ ان کا آسٹریلیا میں رہنے کے لیے پناہ گزین ویزا قبول کیا جا چکا تھا، اس کے باوجود انہوں نے اپنے وطن واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے یہ معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے جانے کے بعد ٹیم کی ابتدائی سات ارکان میں سے اب صرف تین ارکان ہی آسٹریلیا میں ہیں۔ ٹونی برک نے ایک بیان میں کہا، ’’رات بھر میں ایران کی خواتین فٹ بال ٹیم کی تین ارکان نے باقی ارکان کے ساتھ ایران واپس جانے کا فیصلہ کیا۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ ایران کی ٹیم گزشتہ ماہ خواتین کے ایشیائی کپ کے لیے آسٹریلیا پہنچی تھی۔ اس کے فوراً بعد 28 فروری کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہو گئی۔ اس کے بعد ہوا یہ کہ 2 مارچ کو جنوبی کوریا کے خلاف میچ سے پہلے ایرانی خاتون کھلاڑیوں نے اپنا قومی ترانہ گانے سے انکار کر دیا۔ اسے ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے ساتھ یکجہتی کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا اور وہاں کے اعلیٰ حکام نے ان خاتون کھلاڑیوں کو ’’جنگ کے دور کی غدار‘‘ قرار دیا۔ یہ ایک سنگین الزام ہے جس کے لیے ایران میں سزائے موت تک کی گنجائش موجود ہے۔ ان کھلاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان آسٹریلیائی حکومت نے ٹیم کی کئی ارکان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزا فراہم کیا۔
شروع میں سات ارکان (چھ کھلاڑی اور ایک اسٹاف) نے پناہ قبول کی تھی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے آسٹریلیا سے کھلاڑیوں کو پناہ دینے کی اپیل کی تھی۔ ایرانی فٹ بال فیڈریشن نے آسٹریلیا پر کھلاڑیوں کو اغوا کرنے اور انہیں زبردستی پناہ لینے کے لیے اکسانے کا الزام لگایا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن