
واشنگٹن،15مارچ(ہ س)۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے کئی ممالک امریکہ کے ساتھ مل کر جنگی جہاز بھیجیں گے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ” ٹروتھ سوشل “ پر کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے کو بند کرنے کی کوششوں سے متاثر ہونے والے کئی ممالک بین الاقوامی بحری کوششوں میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ جیسے ممالک کا ذکر کیا جو عالمی توانائی کی تجارت کے لیے اس راستے پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی 100 فیصد فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، لیکن ایران اب بھی ڈرونز، بارودی سرنگوں یا مختصر فاصلے کے میزائلوں کے ذریعے جہاز رانی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ امریکی افواج ساحل کے ساتھ فوجی آپریشن جاری رکھیں گی تاکہ آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھا جا سکے۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب تہران نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس اہم آبی راستے سے آمد و رفت کو بڑے پیمانے پر روک دیا ہے۔ اس آبنائے سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے دو مارچ کو آبنائے کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہر اس جہاز پر حملہ کریں گے جو وہاں سے گزرنے کی کوشش کرے گا۔ ایک سینئر ایرانی اہلکار نے سی این این کو کہا ہے کہ اگر تیل کی قیمت یوآن میں ادا کی جائے تو تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔دوسری طرف ایرانی بحریہ نے دو روز قبل کہا تھا کہ وہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے احکامات پر عمل پیرا ہے جنہوں نے اس راستے کو بند رکھنے پر زور دیا ہے۔ جبکہ ٹرمپ نے حال ہی میں امریکی جہازوں کو تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے بھیجنے کا اشارہ دیا ہے اور جہازوں کے مالکان پر زور دیا ہے کہ وہ ہمت کا مظاہرہ کریں اور اس راستے سے سفر کریں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan