
واشنگٹن،15مارچ(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ وہ اس مرحلے پر ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر تیار نہیں ہیں، حالانکہ تہران اس کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ شرائط ''کافی مناسب نہیں ''اور کوئی بھی ممکنہ معاہدہ ''انتہائی مضبوط ''ہونا چاہیے۔ایک نصف گھنٹے کے ٹیلیفون انٹرویو میںاین بی سی نیوز کے ساتھ ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ اس وقت ممکن ہوگا جب ایران اپنے جوہری عزائم سے مکمل طور پر دستبردار ہو، تاہم انہوں نے شرائط کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
ابنائے ہرمز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ دوسری ریاستوں کے ساتھ مل کر اس اسٹریٹجک گذرگاہ کی حفاظت کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے امریکی خدشات کو مسترد کیا۔ٹرمپ نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کے جواب میں مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر حملے کیے، جن میں متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، بحرین اور کویت شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ممالک شاندار تھے اور بلا وجہ حملوں کا نشانہ بنے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حملوں نے ایران کے جزیرہ خارک کو بری طرح نقصان پہنچایا، تاہم امکان ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس پر دوبارہ حملہ کیا جا سکتا ہے۔ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی فوج نے ایران میں 90 فوجی اہداف پر درست حملے کیے اور اس دوران تیل کی بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور ضرورت کے مطابق مزید اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔امریکی صدر نے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور بقاءکے بارے میں شکوک کا اظہار کیا اور کہا:مجھے معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے اسے نہیں دیکھا۔ سنا ہے کہ وہ شاید فوت ہو چکا ہے اور اگر زندہ ہے تو اسے اپنے ملک کے فائدے کے لیے انتہائی ہوشیاری سے کام لینا چاہیے، یعنی حالات کے مطابق سمجھداری سے عمل کرنا، حتیٰ کہ سر تسلیم خم کرنا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفات کی خبریں صرف ''افواہ ''ہیں۔اس سے پہلے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہگسیتھ نے کہا تھا کہ ایران کے نئے رہنما مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے اور ان کے چہرے پر آثار موجود ہیں اور وہ قانونی یا عوامی حیثیت میں مضبوط نہیں ہیں۔ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنی پہلی سرکاری تقریر میں کہا کہ ایران نے تقسیم کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے اور انہوں نے تناو¿ اور جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای، جو مرحوم علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں، 8 مارچ کو ایران کے نئے رہنما منتخب ہونے کے بعد عوامی طور پر سامنے نہیں آئے۔ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اعتراف کیا کہ نئے رہنما مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے، لیکن ان کی حالت ٹھیک ہے۔ بقائی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا:وہ زخمی ضرور ہوئے ہیں، لیکن ان کی حالت اچھی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan