
جموں, 15 مارچ (ہ س)۔ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ضلع کٹھوعہ میں تقریباً 600 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم ہونے والی ایک دواسازی (فارماسیوٹیکل) مینوفیکچرنگ یونٹ کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس منصوبے کا مقصد ہندوستان کی فارماسیوٹیکل صنعت کو مضبوط بنانا اور اہم خام اجزاء کی درآمد پر انحصار کم کرنا ہے۔یہ جدید سہولت اہم اینٹی بایوٹک انٹرمیڈیٹ ایمینو سیفالوسپورانک ایسڈ تیار کرے گی، جو سیفالوسپورن اینٹی بایوٹک ادویات کی تیاری میں بنیادی جزو کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ منصوبہ ضلع کٹھوعہ کے گاؤں گدھادھر میں قائم کیا جا رہا ہے جسے آرکڈ فارما کی جانب سے تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ اس میں بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل بیراک تعاون فراہم کر رہی ہے، جو محکمہ بایوٹیکنالوجی کے تحت کام کرتی ہے۔
جتیندر سنگھ نے کہا کہ 600 کروڑ روپے کی یہ سرمایہ کاری حکومت کی پروڈکشن لنکڈ انسینٹو اسکیم کے تحت کی جا رہی ہے، جو جموں و کشمیر میں صنعت اور اختراع کے بڑھتے ہوئے امکانات پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے تقریباً 400 افراد کو براہِ راست روزگار ملنے کی توقع ہے جبکہ سپلائرز، لاجسٹک کمپنیوں اور دیگر متعلقہ شعبوں میں اتنے ہی بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ صنعتی ڈھانچے میں تیزی سے ترقی کے باعث کٹھوعہ مستقبل میں دواسازی کی صنعت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہندوستان اس اہم اینٹی بایوٹک انٹرمیڈیٹ کے لیے تقریباً مکمل طور پر چین سے درآمدات پر منحصر ہے، جس سے سپلائی سیکورٹی قیمتوں کے استحکام اور صحت کی سہولیات پر اثر پڑ سکتا ہے۔
جتیندر سنگھ نے مزید کہا کہ یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت ہندوستان کو صحت اور دواسازی کے اہم شعبوں میں خود کفیل بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے جدید فارماسیوٹیکل منصوبوں کے قیام سے نہ صرف ہندوستان کی دوا سازی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر ہونے والی کسی بھی رکاوٹ کے دوران ضروری ادویات کی دستیابی اور قیمتوں کو بھی مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر