
طلبہ یونین انتخابات کی بحالی اور اقلیتی تعلیمی معاونت کے پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہنئی دہلی،14مارچ(ہ س)۔
اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) نے یو جی سی کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے فروغ سے متعلق ضوابط 2026 پر عائد پابندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک رجعت پسندانہ قدم قرار دیا ہے۔ ایس آئی او ہیڈکوارٹرز نئی دہلی میں منعقدہ پریس ملاقات میں مقررین نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ذات، مذہب اور نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک آج بھی ایک حقیقت ہے، اس لیے ایسے ضوابط کو معطل کرنا جوابدہی کے نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔پریس ملاقات سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اجے گوداورتھی نے روہت ویمولا اور ڈاکٹر پائل تڈوی جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ادارہ جاتی ناانصافیاں ختم نہیں ہوں گی، یونیورسٹیاں خود کو غیر جانبدار نہیں کہہ سکتیں۔ فریٹرنٹی موومنٹ کے صدر رامیس ای کے نے روہت ویمولا ایکٹ کے نفاذ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ذات پر مبنی امتیاز کے خلاف ایک مضبوط قانونی نظام ناگزیر ہے۔اس موقع پر جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی صدر ادیتی مشرا نے کہا کہ ملک کی کئی جامعات میں طلبہ یونین انتخابات طویل عرصے سے نہیں کرائے جا رہے، جو جمہوری روایت کے خلاف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام جامعات میں طلبہ یونین انتخابات فوری طور پر بحال کیے جائیں۔ایس آئی او کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ انیس الرحمن نے اقلیتی طلبہ کے لیے تعلیمی معاونت میں کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پری میٹرک اسکالرشپ اور مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ کی بندش اقلیتی برادریوں کی تعلیمی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مساواتی ضوابط بحال کیے جائیں، روہت ویمولا ایکٹ نافذ کیا جائے اور تعلیمی معاونت کے پروگرام دوبارہ شروع کیے جائیں تاکہ اعلیٰ تعلیم سب کے لیے منصفانہ اور قابلِ رسائی بن سکے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais