اسمبلی میں ایم ایل اے سریش پاسوان نےبے روزگاری، پینے کے پانی اور بجلی جیسے مسائل پر سوالات اٹھائے
رانچی، 14 مارچ (ہ س)۔ جھارکھنڈ قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ہفتہ کو ایم ایل اے سریش پاسوان نے گرانٹ کے مطالبات میں کٹوتی کی تجویز کے خلاف بحث کرتے ہوئے ریاست میں بے روزگاری، پینے کے پانی، بجلی اور دیگر اہم مسائل کو اٹھایا۔ سریش پاسوان نے کہا
JH-VS-MLA-SURESH-PASWAN-EMPLOYMENT-DRINKING-WATER


رانچی، 14 مارچ (ہ س)۔ جھارکھنڈ قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ہفتہ کو ایم ایل اے سریش پاسوان نے گرانٹ کے مطالبات میں کٹوتی کی تجویز کے خلاف بحث کرتے ہوئے ریاست میں بے روزگاری، پینے کے پانی، بجلی اور دیگر اہم مسائل کو اٹھایا۔

سریش پاسوان نے کہا کہ دیوگھر میں مرکزکی طرف سے چلائے جانے والے بہت سے اداروں میں جھارکھنڈ کے بے روزگار نوجوانوں کو مناسب مواقع فراہم نہیں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ باہر کے لوگوں کو روزگار دیا جا رہا ہے جبکہ مقامی نوجوانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور حکومت پر زور دیا کہ وہ روزگار میں مقامی نوجوانوں کو ترجیح دے۔

ایم ایل اے سریش پاسوان نے کہا کہ ریاستی حکومت سیکورٹی کو مضبوط بنانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ پولیس گاڑیوں اور ایمبولینسوں کی حالیہ تقسیم کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اس سے لوگوں میں تحفظ کا احساس بڑھا ہے اور امن و امان کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

سریش پاسوان نے موہن پور بلاک کے بڑے جغرافیائی رقبے پر غور کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریکھیا کو ایک نیا بلاک بنایا جائے، تاکہ گاو¿ں والوں کو سفر اور آنے جانے میں درپیش مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ پینے کے پانی کے مسئلہ کے بارے میں انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ گرمی کے موسم میں ہر پنچایت میں 10 ہینڈ پمپ لگائے جائیں۔ انہوں نے دیوگھر شہر اور آس پاس کے دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی اسکیموں کی سست رفتاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہبند پڑے پانی کے میناروں کا معائنہ کیا جائے اور انہیں دوبارہ کھولا جائے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande