
جموں, 14 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے وزیر برائے جل شکتی جاوید احمد رانا نے بیلی چرنا سے سچیت گڑھ تک آبپاشی نہری نظام کا تفصیلی معائنہ کیا تاکہ جاری ڈی سلٹنگ (گاد نکالنے) کے کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور آئندہ زرعی سیزن سے قبل آبپاشی کے نظام کی تیاری کا اندازہ لگایا جا سکے۔دورے کے دوران وزیر نے نہری نظام کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا جن میں ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک اور اہم سائفن شامل تھے، تاکہ ڈی سلٹنگ کے کاموں کی رفتار اور معیار کو پرکھا جا سکے۔ یہ معائنہ نہروں میں پانی چھوڑنے کے شیڈول سے قبل کیا گیا تاکہ آئندہ آبپاشی سیزن میں آخری سروں تک پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
اس موقع پر رکن اسمبلی ڈاکٹر گھارو رام بھگت، چیف انجینئر اریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول منوج گپتا، ایس ڈی ایم آر ایس پورہ انورادھا ٹھاکر اور ضلع انتظامیہ و محکمہ آبپاشی کے دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
زرعی اور آبپاشی سیزن کے قریب آنے کے پیش نظر محکمہ اریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول نے نہروں کی مکمل صفائی اور بحالی کے لیے تیاریوں کو تیز کر دیا ہے تاکہ پانی کا بہاؤ ہموار اور مؤثر طریقے سے جاری رہے اور کسانوں کو مناسب آبپاشی سہولت میسر آ سکے۔معائنہ کے دوران وزیر نے سینئر فیلڈ افسران کو ہدایت دی کہ ڈی سلٹنگ اور مرمتی کام مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں تاکہ کسانوں کو آبپاشی کا پانی بلا رکاوٹ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ سات دنوں کے اندر نہری نظام میں پانی چھوڑے جانے کا امکان ہے اور اس سے پہلے تمام زیر التوا صفائی اور مرمت کے کام مکمل کرنا ضروری ہے۔
وزیر نے بیلی چرنا میں مرکزی رنبیر نہر، دھاراب کا سائفن، ایم آر سی مرلیاں، ڈی 10، ڈی 10 اے اور آر ایس پورہ کے ٹانڈا برانچ سمیت نہری نظام کے کئی اہم حصوں کا بھی معائنہ کیا۔انہوں نے چیف انجینئر کو ہدایت دی کہ نہری پشتوں کو مضبوط بنایا جائے، جمع شدہ گاد کو نکالا جائے اور خراب حصوں کی مرمت کر کے نہری نظام کی کارکردگی اور پانی لے جانے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی سلٹنگ کے دوران نکالی گئی گاد کو نہر کے کناروں سے فوری طور پر ہٹا کر سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے تاکہ وہ دوبارہ نہروں میں نہ گرے اور پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ نہ بنے۔
جاوید احمد رانا نے کہا کہ نہروں کی بروقت صفائی اور بحالی سے زرعی زمینوں تک پانی کی فراہمی بہتر ہوگی اور کمانڈ ایریا میں ہزاروں ایکڑ قابل کاشت زمین کو فائدہ پہنچے گا، جس سے آئندہ زرعی سیزن میں بروقت بوائی ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ نہروں کی باقاعدہ دیکھ بھال ضروری ہے تاکہ پانی لے جانے کی صلاحیت برقرار رہے اور آبپاشی کے عروج کے دوران یا مانسون میں نہروں کے ٹوٹنے، اوور فلو اور پانی جمع ہونے جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔
وزیر نے نہروں میں کچرا پھینکنے کے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ڈی ایم آر ایس پورہ کو ہدایت دی کہ اس عمل کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نہروں میں کچرا ڈالنے سے پانی کی گزرگاہیں بند ہو جاتی ہیں اور آبپاشی کا پانی آلودہ ہوتا ہے جس سے زراعت اور ماحول دونوں متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکام کے ساتھ تعاون کریں اور زرعی نہروں میں کچرا پھینکنے سے گریز کریں کیونکہ صاف نہری نظام مؤثر آبپاشی اور پائیدار آبی نظم و نسق کے لیے نہایت ضروری ہے۔
دورے کے دوران وزیر نے علاقے میں واقع ڈاک بنگلوں کی اپ گریڈیشن اور تزئین و آرائش کی تجویز کا بھی جائزہ لیا تاکہ بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔اپنے دورے کے دوران وزیر نے راستے میں کئی وفود سے ملاقات بھی کی اور ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر مقررہ مدت کے اندر حل کیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر