
نئی دہلی، 13 مارچ (ہ س): ٹیکسٹائل کی وزارت نے جمعہ کو ممبئی میں ٹیکسٹائل سیکٹر کے لئے انٹیگریٹڈ پروگرام پر پہلی علاقائی اسٹیک ہولڈر مشاورت کا اہتمام کیا۔ اس کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک ایسا روڈ میپ تیار کرنا ہے جو ہندوستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو عالمی مارکیٹ میں مسابقت اور ترقی کی نئی بلندیوں کو حاصل کرنے کے قابل بنائے۔
وزارت کے مطابق، یہ مشاورت وزیر خزانہ کے مرکزی بجٹ 2026-27 میں ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے ایک مربوط پروگرام کے اعلان کے بعد کی گئی۔ ممبئی کا یہ اجلاس وزارت کی طرف سے شروع کردہ سیکٹرل مشاورت کے سلسلے میں پہلا اجلاس ہے۔
مرکزی بجٹ میں اعلان کردہ انٹیگریٹڈ ٹیکسٹائل سیکٹر پروگرام کا مقصد مینوفیکچرنگ میں توسیع، فائبر کی دستیابی، روزگار پیدا کرنے اور پائیداری کے ذریعے اس محنت کش شعبے کو مضبوط بنانا ہے۔ مشاورت کے دوران، متعدد کلیدی اسکیموں پر متوازی سیشن منعقد کیے گئے، جن میں نیشنل فائبر اسکیم، ٹیم اسکیم، سمرتھ 2.0: اسکل ڈیولپمنٹ اور کیپیسٹی بلڈنگ، اور میگا ٹیکسٹائل پارکس اور ٹیکس ایکو اقدامات شامل ہیں۔
وزارت کے سکریٹری نیلم شامی راو¿ نے کہا کہ حکومت ٹیکسٹائل سیکٹر کو ترقی اور روزگار کے کلیدی محرک کے طور پر مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ہمارا مقصد پیداوار کو بڑھانا اور ہندوستان کو ایک قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر قائم کرنا ہے۔
ایڈیشنل سکریٹری روہت کنسل نے کہا کہ پالیسی کے مقاصد کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان مسلسل بات چیت ضروری ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کوآرڈینیشن کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مشاورتی اجلاس میں مدھیہ پردیش، گجرات، چھتیس گڑھ، گوا، مہاراشٹرا اور راجستھان کی ریاستی حکومتوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ صنعتی انجمنوں اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی