
گوہاٹی، 13 مارچ (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کانگریس پارٹی پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بحران اور جنگ کی صورتحال کے درمیان بھی کانگریس پارٹی ملک میں افواہیں اور غلط معلومات پھیلانے میں مصروف ہے، جب کہ بی جے پی-این ڈی اے حکومت کسانوں کی بہبود، توانائی کی خود انحصاری اور شمال مشرق کی ترقی کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے یہاں ایک عوامی تقریب کے دوران آسام کے لیے 19,500 کروڑ روپے سے زیادہ کے مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں ملک کے تئیں ایماندار نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس لیڈروں کو مشورہ دیا کہ وہ 15 اگست کو لال قلعہ سے ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی تقریر سنیں۔ مودی نے کہا کہ پنڈت نہرو نے ایک بار کہا تھا کہ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے ہندوستان میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ آج کانگریس کے اراکین اسی طرح ملک کو گمراہ کر رہے ہیں، جبکہ عالمی بحران دنیا کے کئی ممالک کو متاثر کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بی جے پی-این ڈی اے حکومت نے ملک کو توانائی کے شعبے میں خود انحصار بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر کام کیا ہے۔ آج ہندوستان نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر رہا ہے بلکہ توانائی کے عالمی توازن میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ آسام سمیت پورے شمال مشرق میں گیس پائپ لائنوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بے مثال سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کسانوں کے لیے بھی بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پردھان منتری کسان سمان ندھی یوجنا کے تحت ملک بھر کے لاکھوں کسانوں کے کھاتوں میں 18,000 کروڑ روپے سے زیادہ براہ راست منتقل کیے گئے ہیں۔ یہ اسکیم ملک کے چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کے لیے سماجی تحفظ کا ایک مضبوط ذریعہ بن گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2014 سے پہلے لاکھوں کسان ایسے تھے جن کے پاس نہ تو موبائل فون تھا اور نہ ہی بینک کھاتہ، لیکن گزشتہ چند برسوں میں مالیاتی شمولیت کے ذریعے کروڑوں کسانوں کو بینکنگ سسٹم سے جوڑا گیا ہے اور اب تک 4.25 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی امدادی رقم ان کے کھاتوں میں بھیجی جا چکی ہے۔
وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ جب پردھان منتری کسان سمان ندھی یوجنا شروع کی گئی تھی، کانگریس کے ارکان نے اس کے بارے میں جھوٹ پھیلایا تھا۔ کانگریس لیڈروں نے کسانوں سے کہا کہ انہیں انتخابات کے بعد رقم واپس کرنی ہوگی، لیکن آج یہ اسکیم کسانوں کے لیے ایک مضبوط سہارا بن گئی ہے۔ مودی نے کہا کہ کسانوں کے مفادات بی جے پی-این ڈی اے حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2014 سے پہلے، مرکز میں دس سال تک کانگریس کی حکومت تھی اور اس دوران کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) میں تقریباً 6.5 لاکھ کروڑ روپے ملے۔ اس کے برعکس، پچھلے دس برسوں میں، ان کی حکومت نے کسانوں کو ایم ایس پی میں 20 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کی ہے۔ ایم ایس پی، سستے زرعی قرضے، فصل بیمہ اور کسان سمان ندھی جیسی اسکیموں نے کسانوں کو معاشی تحفظ فراہم کیا ہے۔ حکومت نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ عالمی بحرانوں کا ہندوستانی زراعت پر کم سے کم اثر پڑے۔
وزیر اعظم نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ کووڈ-19 وبائی بیماری اور اس کے نتیجے میں عالمی تنازعات کی وجہ سے بین الاقوامی منڈی میں کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بہت سے ممالک کو قلت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ہندوستانی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کسانوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جہاں یوریا کے ایک تھیلے کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں تقریباً 3,000 روپے تک پہنچ گئی تھی، وہیں ہندوستان میں کسانوں کو اسے صرف 300 میں دستیاب کرایا گیا ۔ مرکزی حکومت نے اس مقصد کے لیے 12 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سبسڈی فراہم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں ملک کو زراعت اور توانائی میں خود انحصار بنانے کے لیے بہت سے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ طویل عرصے تک، کانگریس کی حکومتوں نے ملک کو کئی شعبوں میں بیرونی ممالک پر منحصر رکھا، جس کا براہ راست اثر بین الاقوامی بحرانوں کی وجہ سے ہندوستان کے کسانوں اور عام لوگوں پر پڑا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کو مربوط کرنے کے لیے حکومت نے ”پر ڈراپ مور کراپ“ پالیسی نافذ کی ہے، جس کے تحت ڈرپ اورا سپرنکلر اریگیشن جیسی آبپاشی کی تکنیکوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ڈیزل پر انحصار کم کرنے کے لیے کسانوں کو سولر پمپ سے جوڑنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ آسام کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست پورے شمال مشرق کے لیے ایک ماڈل بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسام کی ترقی کا اثر پورے شمال مشرقی خطے میں محسوس کیا جا رہا ہے اور یہ خطہ ملک کی ترقی کو نئی تحریک فراہم کر رہا ہے۔
وزیر اعظم نے آسام میں چائے کے باغ کے مزدوروں کے خاندانوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ریاستی حکومت ایک تاریخی ناانصافی کو ختم کرتے ہوئے چائے کے باغ کے مزدوروں کو زمین کے لیز پر فراہم کر رہی ہے۔ اس سے پہلی بار ہزاروں خاندانوں کو زمین کے حقوق مل رہے ہیں۔ آج آسام امن، ترقی اور خود انحصاری کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور آنے والے برسوں میں یہ ریاست پورے شمال مشرق کے روشن مستقبل کے لیے رہنما ثابت ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد