فریڈم آف ریلیجن بل مہاراشٹر 2026 اسمبلی میں پیش، جبری یا دھوکہ دہی سے مذہب تبدیل کرانے کے خلاف سخت قانون
فریڈم آف ریلیجن بل مہاراشٹر 2026 اسمبلی میں پیش، جبری یا دھوکہ دہی سے مذہب تبدیل کرانے کے خلاف سخت قانونممبئی ، 13 مارچ (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے جمعہ کو ریاستی اسمبلی میں “مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن بل 2026” پیش کیا جس کا مقصد زور زبردستی، دھوکہ د
Law Maha Freedom of Religion Bill


فریڈم آف ریلیجن بل مہاراشٹر 2026 اسمبلی میں پیش، جبری یا دھوکہ دہی سے مذہب تبدیل کرانے کے خلاف سخت قانونممبئی ، 13 مارچ (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے جمعہ کو ریاستی اسمبلی میں “مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن بل 2026” پیش کیا جس کا مقصد زور زبردستی، دھوکہ دہی یا لالچ کے ذریعے ہونے والی مذہبی تبدیلیوں کو روکنا بتایا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس بل کو گزشتہ ہفتے ریاستی کابینہ کے اجلاس میں منظوری دی گئی تھی جس کے بعد اسے باضابطہ طور پر اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ قانون کا مقصد جبری تبدیلی مذہب کے واقعات کو روکنا اور ایسے معاملات میں قانونی کارروائی کو مضبوط بنانا ہے۔ بل کے مسودے کے مطابق اس قانون میں غیر قانونی یا زبردستی مذہب تبدیل کرانے کے خلاف سخت دفعات شامل کی گئی ہیں۔ بل کی دفعہ 14 کے تحت ایسی تنظیموں پر پابندی لگانے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو مذہبی تبدیلی میں ملوث پائی جائیں۔اسی طرح بل کی دفعہ 9 میں مختلف جرائم اور ان سے متعلق سزاؤں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ دفعہ 9 کی ذیلی شق (4) کے مطابق اگر کوئی شخص زور زبردستی یا دھوکہ دہی کے ذریعے کسی کا مذہب تبدیل کرانے کا قصوروار پایا جاتا ہے تو اسے سات سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ قانون نافذ ہو جاتا ہے تو اسے ریاست میں مذہبی تبدیلی کے خلاف سخت ترین قوانین میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ریاستی حکومت نے اس بل کی تیاری کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی تھی۔ 14 فروری 2025 کو تشکیل دی گئی اس کمیٹی کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے پاس تھی۔ کمیٹی نے دیگر ریاستوں میں نافذ اسی نوعیت کے قوانین کا جائزہ لینے اور تفصیلی قانونی مطالعہ کے بعد بل کا مسودہ تیار کیا۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر ریاستی کابینہ نے مسودے کو منظوری دی جس کے بعد اسے جمعہ کو اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون سے مہاراشٹر میں جبری مذہبی تبدیلیوں کو روکنے کے اقدامات مزید مضبوط ہوں گے۔ہندوستھان سماچار--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande