راجیہ سبھا: این سی ای آر ٹی پر سپریم کورٹ کی سختی پر پرینکا چترویدی نے سوال اٹھایا
نئی دہلی، 13 مارچ (ہ س)۔ راجیہ سبھا ایم پی اور شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر پرینکا چترویدی نے جمعہ کو ایوان میں عدلیہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور ’عدالتی حد سے تجاوز‘ کا مسئلہ اٹھایا۔ این سی ای آر ٹی تنازعہ اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئ
RS-PAR-NCERT-PRIYANKA


نئی دہلی، 13 مارچ (ہ س)۔ راجیہ سبھا ایم پی اور شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر پرینکا چترویدی نے جمعہ کو ایوان میں عدلیہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور ’عدالتی حد سے تجاوز‘ کا مسئلہ اٹھایا۔ این سی ای آر ٹی تنازعہ اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تینوں ستونوں کو یکساں طور پر جوابدہ ہونا چاہیے۔

ایم پی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نہ صرف این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں سے ”عدالتی بدعنوانی“ سے متعلق اقتباسات کو ہٹانے کا حکم دیا بلکہ اس باب کو لکھنے والے ماہرین تعلیم (پروفیسر مائیکل ڈینینو اور دیگر) کو سرکاری اداروں میں کسی بھی قسم کے کردار ادا کرنے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش بھی کی۔ انہوں نے اسے ”عدالتیتاناشاہی “ قرار دیا۔

چترویدی نے دلیل دی کہ جہاں سیاست دانوں، نوکرشاہوں اور عام شہریوں کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی سخت تحقیقات ہوتی ہیں،وہیں عدلیہ اپنے اوپر ہونے والے مباحثوں کے تئیں انتہائی حساس ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے ایک موجودہ جج کے خلاف زیر التوا مواخذے کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑی رقم ضبط کرنے کے باوجودکاروائی کے نام پر محضتبادلہ کیا گیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی دھمکیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق تنقید کو پوری طرح دبانا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔

پرینکا چترویدی نے وزیر قانون پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملک میں ایسی صورتحال پیدا نہ ہو جہاں کوئی بھی ادارہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے۔ انہوں نے واضح کیا، ”حکومت کی تینوں شاخیں مقننہ، ایگزیکٹو اور عدلیہ کو قانون کی نظر میں برابر ہونا چاہیے اور جانچ پڑتال کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے۔ کسی ایک شاخ کی بالادستی قوم کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔“

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande