
ممبئی ، 13 مارچ (ہ س) مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے ایک وسیع سائبر سکیورٹی منصوبہ شروع کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیش کدم نے جمعہ کو اسمبلی میں بتایا کہ اس منصوبے کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا اور سائبر جرائم کی روک تھام کو مضبوط بنایا جائے گا۔
انہوں نے محکمہ داخلہ کے 2026–27 کے بجٹ مطالبات پر بحث کے دوران کہا کہ حکومت سائبر سکیورٹی کے شعبے کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس محکمہ میں خالی آسامیوں کو بھرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ ریاست میں پولیسنگ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
وزیر نے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ درج شدہ جرائم کے اعتبار سے مہاراشٹر اس وقت ملک میں آٹھویں مقام پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن ایف آئی آر کی سہولت فراہم کیے جانے کے بعد جرائم کی رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ اس سے شہریوں کے لیے شکایت درج کرانا آسان ہو گیا ہے۔ یوگیش کدم کے مطابق ریاست میں عدالتی نظام کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہاراشٹر میں سزا کی شرح 2013 میں 9 فیصد تھی جو بڑھ کر 2025 میں 53 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر سائبر سکیورٹی پروجیکٹ کے تحت سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی قیادت میں شروع کیا گیا یہ منصوبہ ایشیا کے بڑے سائبر سکیورٹی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، سائبر جرائم کی تفتیش کو جدید بنانے اور پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ ریاست میں بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے