
نئی دہلی،13مارچ(ہ س)۔:ممتاز فکشن نگار جیلانی بانوکے سانحہ ارتحا ل پر شعبہ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے تعزیتی جلسے کاانعقاد کیا۔صدر شعبہ پروفیسر کوثر مظہری نے گہرے رنج وملال کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ جیلانی بانوپرانے ادیبوں کی آخری نشانی تھیں۔ادب سے ان کی وابستگی رسمی نہیں بلکہ وجودی نوعیت کی رہی۔غم واندوہ کی اس فضامیں پروفیسر شہزاد انجم نے ان کی دلدوز کہانیوں کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔پروفیسر احمد محفوظ نے جیلانی بانو کے فکشن کو اس عہد کاایک اہم شناخت نامہ قرار دیتے ہوئے ان کی رحلت پر اظہار افسوس کیا۔ پروفیسر سرورالہدی نے حزنیہ ماحول میں اپنے کر ب کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیلانی بانوادب کاگہرااور بالیدہ شعور رکھتی تھیں۔انھوں نے حیدرآباد کو اپنی کہانیوں کامرکز ومحور بنایا۔ان کے رخصت ہو جانے سے ہم نے بہت کچھ کھودیا۔ڈاکٹرخالد مبشرنے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جیلانی بانو اس عہد کے فکشن کاایک اہم حوالہ بن چکی ہیں،یہ ان کی عظمت کی دلیل ہے۔ڈاکٹر محمد مقیم نے ان کی رحلت پر اظہار غم کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی ۔ڈاکٹر جاوید حسن نے جیلانی بانوکے ادبی کمالات کو یاد کرتے ہوئے ان کی بلندی درجات کی دعاکی۔ڈاکٹر راہین شمع نے کہاکہ خدانے جیلانی بانوکوادبی دنیامیں غیر معمولی مقام ومرتبہ عطاکیاخداکرے ان کو آخرت میں بھی بلند مقام عطاہو۔اس موقع پر ڈاکٹر شاداب تبسم نے ان سے وابستہ اپنی ذاتی ملاقات کاتذکرہ کرتے ہوئے ان کی بہت سی خوبیو ں کو یاد کیا۔تعزیتی اجلاس میں ڈاکٹر محمد آدم ،ڈاکٹر ثاقب عمران ،ڈاکٹر نوشاد منظر،ڈاکٹرشاہنواز فیاض،ڈاکٹر مخمور صدری،ڈاکٹرخان رضوان، ڈاکٹرسید محمد ثاقب فریدی اور ڈاکٹر راحت افزانے مرحومہ کے لیے اظہارتعزیت کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais