سمریدھی یاترا کے تحت سہرسہ میں منعقد جن سمواد پروگرا میں وزیر اعلیٰ شامل ہوئے
سمریدھی یاترا کے تحت سہرسہ میں منعقد جن سمواد پروگرا میں وزیر اعلیٰ شامل ہوئےپٹنہ، 13 مارچ (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج سہرسہ ضلع کے سہرسہ اسٹیڈیم میں منعقد جن سمواد پروگرام میں شرکت کی۔ جن سمواد پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ
سمریدھی یاترا کے تحت سہرسہ میں منعقد جن سمواد پروگرا میں وزیر اعلیٰ شامل ہوئے


سمریدھی یاترا کے تحت سہرسہ میں منعقد جن سمواد پروگرا میں وزیر اعلیٰ شامل ہوئےپٹنہ، 13 مارچ (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج سہرسہ ضلع کے سہرسہ اسٹیڈیم میں منعقد جن سمواد پروگرام میں شرکت کی۔ جن سمواد پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ تمام لوگ جانتے ہیں کہ 24 نومبر 2005 کو پہلی مرتبہ بہار میں این ڈی اے کی حکومت بنی تھی، اس وقت سے ریاست میں قانون کی حکمرانی قائم ہے اور ہم مستقل طور پر ترقیاتی کام میں لگے ہیں۔ یاد ہے نہ پہلے کیا حالت تھی؟ پہلے بہت برا حال تھا۔ لوگ شام کے بعد گھر وں سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ سماج میں کتنا تنازعہ ہوتا تھا؟ تعلیم کی کیا حالت تھی؟۔ بہت کم بچے پڑھتے تھے۔ پڑھائی بہت کم ہو تی تھی۔ پہلے علاج کا بھی مکمل انتظام نہیں تھا۔ سڑکیں بہت کم تھیں اور جو تھیں وہ خستہ حال تھیں۔ بجلی کی فراہمی بہت کم جگہوں پر تھی۔ اب کسی بھی طرح کے خوف اور دہشت کا کوئی ماحول نہیں ہے۔ریاست میں محبت ،بھائی چارہ اور امن کا ماحول ہے۔ پہلے کتنا ہندو مسلم تنازعہ ہوتا تھا، اس لئے سال 2006 سے ہی، قبرستانوں کی گھیرا بندی شروع کی گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر قبرستانوں کی گھیرا بندی کی جا چکی ہے۔ اب کوئی تنازعہ نہیں ہوتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 2016 سے، 60 سال قدیم ہندو مندروں کی بھی گھیرا بندی کی گئی ہے، جس سے چوری وغیرہ کے واقعات نہیں ہو تے ہیں۔ سب سے پہلے تعلیم کے شعبہ میں خصوصی توجہ دی گئی۔ ہم لوکوں نے کنٹریکٹ ٹیچروں کی بحالی کی، بڑی تعدااد میں نئے اسکول کھولے اور سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کے لیے سائیکل اور پوشاک منصوبہ چلا یا گیا۔ سال 2023 سے، بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ 2لاکھ 58 ہزار سرکاری اساتذہ کی بحالی کی گئی۔ 2006 سے 3لاکھ 68 ہزار کنٹریکٹ اساتذہ بحال کیے گئے تھے، جن میں سے بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 28ہزار 976 سرکاری اساتذہ بن چکے ہیں۔ اس کے بعد، حکومت نے فیصلہ کیا کہ کنٹریکٹ اساتذہ کو بی پی ایس سی کا امتحان دینے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں معمولی سا امتحان لے کر سرکاری اساتذہ بنایا جائے گا۔ اس کے لیے انہیں پانچ مواقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تک چار امتحانات ہو چکے ہیں اور 2لاکھ 66ہزار کانٹریکٹ ٹیچر پاس ہو چکے ہیں۔ اب صرف 73 ہزار باقی بچ گئے ہیں جنہیں ایک اور موقع دیا جائے گا۔ سرکاری اساتذہ کی کل تعداد اب 5 لاکھ 24 ہزار ہوگئی ۔ اس کے علاوہ بی پی ایس سی کے ذریعہ اور 45ہزار نئے عہدوں پر بحالی شروع کی جارہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے، صحت کا نظام بہت خراب تھا، صرف 39 مریض پرائمری ہیلتھ سینٹر میں ہر ماہ علاج کے آتے تھے، یعنی یومیہ ایک یا دو مریض۔ 2006 سے، اسپتالوں میں مفت ادویات اور علاج کامکمل انتظام کیا گیا ہے۔ اب ہرماہ اوسطاً 11 ہزار 600 سو مریض ہر ماہ پرائمری ہیلتھ میں آتے ہیں ۔ پہلے، بہار میں صرف 6 میڈیکل کالج تھے، جن کی تعداد اب 12 ہو گئی ہے۔ اس سال 6 میڈیکل کالج اور بن جائیں گے اور باقی تمام 21 اضلاع میں نئے میڈیکل کالج کی تعمیر بھی جلد پوری کی جائے گی۔ پٹنہ میڈیکل کالج اور ہسپتال کو 5 ہزار 400 بیڈاور دیگر پانچ قدیم میڈیکل کالجوں کو ڈھائی ہزار بیڈ کا کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی آئی جی آئی ایم ایس کو 3 ہزار بیڈ کا بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں سڑکوں اور پل پلیوں کی تعمیر کرائی گئی ہے۔ ریاست کے دور دراز علاقوں سے 6 گھنٹے میں پٹنہ پہنچنے کیے نشانہ کو سال 2016 میں پورا کر لیا گیا ہے۔ اب ریاست میں بڑی تعداد میں سڑکوں پل پلیوں، ریلوے اوور بریج، بائی پاس اور ایلیویٹیڈ روڈ کی تعمیر سے تقربیا 5 گھنٹے میں دور دراز علاقوں سے پٹنہ پہنچنا ممکن ہوا ہے۔ 2008 سے، ایگریکلچر روڈ میپ بنا کر کام کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں زراعت کے شعبہ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ سال 2008 سے 2012 تک پہلا، 2012 سے 2017 تک دوسر، 2017 سے 2023 تک تیسرے ایگریکلچر روڈ میپ پر کام ہوا ہے۔ غلہ کی پیداوار میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔ پھل ،سبزی، دودھ، انڈے، گوشت اور مچھلی کی پیداوار میں ڈھائی گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے،جس کے سبب مچھلی کی پیداوار میں بہار خود منحصر ہو گیا ہے ۔ساتھ ہی کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فی الحال، چوتھے زرعی روڈ میپ (2024 سے 2029) کے تحت اسکیموں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سال 2023 میں ذات کی بنیاد پرکرائی گئی شماری میں لوگوں کی معاشی حالت کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی گئیں۔ اس میں 94لاکھ غریب خاندانوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں اعلیٰ ذات، پسماندہ ذات، انتہائی پسماندہ ذات، دلت، مہادلیت اور مسلمان شامل ہیں۔ ان تمام خاندانوں کو روزگار کے لیے 2 لاکھ روپے کی مدد دی جانی ہے۔ اب تک 83 لاکھ 20 ہزار خاندانوں کو روزگار منصوبہ سے جوڑ کر رقم دینا شروع کیا گیا ہے باقی خاندانوں کو اگلے ماہ تک رقم دینا شروع کیا جائے گا۔ اگر ضرورت ہوئی تو، 2 لاکھ سے زیادہ رقم بھی فراہم کی جائے گی۔سال 2006میں پنچایتی راج اداروں میں اورسال 2007 میں بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے 50 فیصد ریزر ویشن دیا گیا۔ اب تک چار انتخابات ہو چکے ہیں۔ 2013 سے پولیس میں 35 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اب بہار پولیس میں خواتین کی تعداد ملک میں سب سے زیا دہ ہے۔ 2016 سے خواتین کو تمام سرکاری ملازمتوں میں 35 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بہار میں سیلف ہیلپ گروپس کی تعداد بہت کم تھی۔ 2006 میں عالمی بینک سے قرض لے کر ریاست میں سیلف ہیلپ گروپ کی تشکیل کی گئی جس کا نام جیویکا رکھا گیا ۔اب سیلف ہیلپ گرو کی تعداد11لاکھ 5ہزار پہنچ گئی ہے، جن میں جیویکا دیدیوں کی تعداد 1کروڑ 69 لاکھ ہے۔سال 2024 سے شہری علاقوں میں بھی سیلف ہیلپ گروپ کی تشکیل کی گئی ہے جن کی تعداد 77ہزار ہو گئی ہے ، جس میں تقریبا 10لاکھ 78 ہ زار جیویکا دیدیاں ہیں اس کی تشکیل مسلسل جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی کاموں میں جوکمی رہی گئی ہے اس کوپوار کر نے کے لیے دسمبر 2024 اور جنوری-فروری 2025 میں پرگتی یاترا کے دوران ہم نے تمام اضلاع میں جاکر ترقیاتی کاموں کودیکھا اور جو کمی رہ گئی تھی اسے پورے کر نے کے لیے 430نئے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ تمام اضلاع میں ان منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اب تک 21 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، باقی تمام کاموں کو جلد پورا کرلیا جائے گا۔ بہارکی ترقی میں مرکزی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون مل رہا ہے۔ جولائی 2024 کے بجٹ میں بہار کو خصوصی مالی مدد کی شکل میں لیے سڑکوں، صنعت، صحت، سیاحت اور سیلاب پر قابو پانے کے لیے بڑی رقم دینے کا اعلان کیا گیا۔ فروری 2025 کے بجٹ میں بہار میں مکھانہ بورڈ کے قیام، ایئر پورٹ کا قیام اور مغربی کوسی کینال کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا گیا تھا۔ 2018ٍََمیں ملک کی کچھ ریاستوں میںکھیلو انڈیایوتھ گیمزکا انعقاد ہوا تھا ،سال 2025میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمز کا انعقاد بہار میں کیا گیا جو فخر کی بات ہے۔ان سب کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو سلام کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کئی مرتبہ بہار آئے اور ان کے ذریعہ ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا/افتتاح کیا گیا ہے ۔ ان تمام منصوبوں پراب تیزی سے کام ہو رہا ہے ۔حکومت کے ذریعہ پہلی مدت 2005سے2010تک، دوسری مدت2010سے2015تک، تیسری مدت2015سے2020تک اور چوتھی مدت2020سے2025تک کوملا کر چار کام کی مدت میں ہر شعبے میں کام ہوا ہے، چاہے وہ تعلیم ہو، صحت ہ و، سڑک ہو، بجلی ہو یا زراعت۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بہت سے کام کیے گیے ہیں۔ اب ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ آئندہ 5برسوں کے لیے''سات نشچے 3'' قائم کیا گیا ہے،جس سے ''دوگنا روزگار، دوگنی آمدنی'' کے تحت ریاست کی فی کس اوسط آمدنی کو دوگنا کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ خواتین روزگار منصوبہ کے تحت ہر خاتون کو 10ہزار روپے دیے گئے ہیں۔ جن کا روزگار بہتر چلے گے ا نہیں 2 لاکھ روپے تک کی مدد دی جائے گی۔ آئندہ پانچ برسوں میں 1نوجوانوں کو نوکریاں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اسکے لیے ''یوتھ ایمپلائمنٹ اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ'' قائم کیا گیا ہے۔ ''خوشحال صنعت، مضبوط بہار'' کے تحت آئندہ 5برسوں میں میں صنعتوں کے قیام پرپوری توجہ دی جائے گی ۔ تمام اضلاع میں انڈسٹریل ایریا قائم کیا جارہا ہے۔ نئی بڑی صنعتوں کے لیے مفت زمین اور گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ پرانی، بند شوگر ملیں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ زراعت میں پیش رفت’ زرات میں ترقی ، ریاست کی خوشحالی‘ کے تحت زراعت کی ترقی کے لیے پہلیے سے ہی بہت کام کیا گیا ہے۔ اس کام میں مزید تیزی لانے کے لیے ایک نیا بہار مارکیٹنگ پروموشن کارپوریشن قائم کیا گیا ہے۔ مکھانہ کی پیداوار کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔ ڈیری اور فش فارمنگ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ ریاست میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ’اعلیٰ تعلیم روشن مستقبل‘پروگرام کے تحت ہر بلاک میںآدرش اسکول اور ڈگری کالج کھولے جا رہے ہیں۔ ایک نئی ایجوکیشن سٹی تعمیر کیا جائے گی۔ آسان صحت محفوظ زندگی پروگرام کے تحت طبی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضلع اور بلاک اسپتالوں کو خصوصی طبی مراکز میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ ریاست میں معروف پرائیویٹ اسپتالوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ سرکاری ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس کو روکنے کے لیے پالیسی لائی جائے گی۔ مضبوط بنیاد جدید توسیع: کے تحت انفراسٹرکچر کو بہتر کیا جائے گا،۔ پانچ نئے ایکسپریس وے کی تعمیر اور دیہی سڑکوں کو 2 لین تک چوڑا کیا جائے گا۔ تمام خواہشمند لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر سولر پینل لگائے جائیں گے۔ بہار میں سیاحت اور ایکو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی زور دی جائے گی۔ پٹنہ میں اسپورٹس سٹی قائم کی جائے گی اور کھلاڑیوں کو سرکاری نوکریاں دی جائیں گی۔ ''سب کا سمان-زندگی آسان'' کے تحت جدید تکنیک اور گڈ گورننس کے ذریعے ریاست کے تمام لوگوں کی زندگی کو آسان بنایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری ریاست مسلسل ترقی کر رہی ہے ، ان دنوں کام کو اور آگے بڑھا یا گیا ہے۔آئندہ 5 برسوں میں مزید کام ہو گا جس سے بہار بہت آگے بڑھے گا مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون مل رہا ہے۔ بہار کی مزید ترقی ہو گی اور ملک کی ٹاپ ریاستوں میں شامل ہو جائے گا اور ملک کی ترقی میں اہم کردار اداکرے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سہرسہ ضلع میں کئی ترقیاتی کام کرائے گیے ہیں۔ ہم لوگ 20 برسوں سے بہار کی ترقی کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ 2005 سے پہلے کی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ آپ یاد ہے کہ پہلے سہرسہ کی کیا حالت تھی۔ ہماری حکومت نے 2005 سے ہی سہرسہ ضلع میں تمام ترقیاتی کام کرائے ہیں۔ انجینئرنگ کالج اور پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ قائم کیے گئے ہیں۔ خواتین آئی ٹی آئی اورتمام سب ڈویژنوں میں آئی ٹی قائم کیا گیا ہے۔ جی این ایم انسٹی ٹیوٹ اورپارا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا ہے۔سہر سہ میں میڈیکل کالج اور اسپتال کی تعمیر ائی جارہی ہے ۔ کرپوری ہاسٹل اور 2 رہائشی اسکول تعمیر کیے گئے ہیں ۔ سہرسہ ضلع میں کئی پل اور سڑکیں بنائی گئی ہیں ۔ بلواہا گھاٹ پل کی تعمیر اور بی پٍ منڈل سیتو کی جدیدکاری کرائی گئی ہے ۔ سہرسہ شہر میں روڈ کو چوڑا کر نے بائی پاس اور نالہ کی تعمیر کرائی جارہی ہے ۔ سال 2008 میں کوسی ندی کا پشتہ ٹوٹنے سے زبر ست سیلاب آیا جس سے سہرسہ ، سپول اور مدھے پورہ تینوں اضلاع متاثر ہوئے ۔ تمام لوگوں کی مدد کی گئی اور تمام چیزوں کو ٹھیک کیا گیا۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande