طلبہ کے لیے فیس میں بڑی رعایت کا اعلان ، لڑکیوں کو مکمل اور لڑکوں کو پچاس فیصد فیس معافی
ممبئی ، 13 مارچ (ہ س) ۔ مہاراشٹر حکومت نے پیشہ ورانہ کورسز میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے فیس کا بوجھ کم کرنے اور اسکالرشپ کی تقسیم کے نظام کو آسان بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے وزیر چندرکانت پاٹل نے اسمبلی میں بتایا کہ
: EDUCATION MAHA Professional Courses Fee Relief Chandrakant Patil


ممبئی ، 13 مارچ (ہ س) ۔ مہاراشٹر حکومت نے پیشہ ورانہ کورسز میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے فیس کا بوجھ کم کرنے اور اسکالرشپ کی تقسیم کے نظام کو آسان بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے وزیر چندرکانت پاٹل نے اسمبلی میں بتایا کہ طالبات کو سو فیصد فیس معافی جبکہ طلبہ کو پچاس فیصد فیس معافی دی جا رہی ہے اور اس فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے کالجوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔یہ بیان انہوں نے اسمبلی میں رکن اسمبلی رئیس شیخ کے سوال کے جواب میں دیا جس میں فیس کی ادائیگی اور اسکالرشپ کے بقایا معاملات سے متعلق مسائل اٹھائے گئے تھے۔وزیر نے کہا کہ طلبہ کے لیے اسکالرشپ کی درخواست کا نظام پہلے کافی پیچیدہ اور وقت طلب تھا، اس لیے اسے آسان بنایا گیا ہے۔ درخواست فارم میں معلومات کی تعداد 138 سے کم کر کے 66 کر دی گئی ہے جبکہ لازمی دستاویزات کو 17 سے گھٹا کر 8 کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سی ای ٹی کے ڈیٹا کو براہ راست استعمال کیا جائے گا جس سے طلبہ کو بار بار ذات یا دیگر سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے بتایا کہ کالجوں کی مالی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسکالرشپ کی پہلی قسط جلد جاری کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کی ہدایت پر اسکالرشپ کی تقسیم کو سرکاری تنخواہوں سے بھی زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے اور اس فیصلے پر عمل درآمد جون سے شروع ہوگا۔

وزیر چندرکانت پاٹل نے کہا کہ حکومت طلبہ کے لیے ( ارن اینڈ لرن) ( کماو اور پڑھو) طرز کی نئی اسکیم پر بھی غور کر رہی ہے جس کے تحت تقریباً پانچ لاکھ طلبہ کو ماہانہ دو ہزار روپے اضافی اعزازی رقم دی جا سکتی ہے۔ اگرچہ اس اسکیم کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں کیا گیا ہے، تاہم اس کے تحت طلبہ یونیورسٹی یا کالج کے کیمپس میں شجرکاری، لائبریری انتظام یا دیگر سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے اور اس منصوبے کے لیے حکومت، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں مشترکہ طور پر فنڈ فراہم کریں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ نروہ بھتہ اسکیم کے تحت طلبہ کو دس ماہ کے لیے ہاسٹل الاؤنس دیا جاتا ہے۔ ممبئی اور پونے جیسے بڑے شہروں میں ماہانہ 6000 روپے یعنی مجموعی طور پر 60000 روپے دیے جاتے ہیں جبکہ ریونیو ڈویژن کے مقامات پر 5100 روپے اور تعلقہ سطح کے علاقوں میں 4800 روپے ماہانہ فراہم کیے جاتے ہیں۔وزیر نے یہ بھی بتایا کہ بقایا ادائیگیوں کو بروقت ادا کرنے کے لیے حکومت کچھ مالیاتی اداروں مثلاً فیڈرل بینک کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے تاکہ یہ ادارے براہ راست طلبہ یا کالج کی فیس ادا کریں اور حکومت اس پر سود برداشت کرے۔ اس سے طلبہ کی تعلیم متاثر نہیں ہوگی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی کالج سرکاری اسکیموں کے باوجود طلبہ سے غیر ضروری اضافی فیس وصول کرے یا داخلہ عمل میں رکاوٹ پیدا کرے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ طلبہ کی مدد کے لیے ریاست میں 40 مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں فارم بھرنے اور تکنیکی مسائل حل کرنے میں رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ اس بحث میں رکن اسمبلی سدھیر منگنٹیوار اور کیلاش پاٹل نے بھی حصہ لیا۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande