خلیجی خطے میں بحران کے باعث ٹی 20 ورلڈ کپ ٹیموں کی واپسی میں تاخیر : آئی سی سی
خلیجی خطے میں بحران کے باعث ٹی 20 ورلڈ کپ ٹیموں کی واپسی میں تاخیر : آئی سی سی نئی دہلی، 11 مارچ (ہ س)۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بدھ کو بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آئی سی سی مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں حصہ لینے والی کچھ ٹیموں کے
ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم


خلیجی خطے میں بحران کے باعث ٹی 20 ورلڈ کپ ٹیموں کی واپسی میں تاخیر : آئی سی سی

نئی دہلی، 11 مارچ (ہ س)۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بدھ کو بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آئی سی سی مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں حصہ لینے والی کچھ ٹیموں کے کھلاڑیوں، کوچز، سپورٹ اسٹاف اور ان کے خاندانوں کی گھر واپسی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ آئی سی سی نے کہا کہ ٹورنامنٹ میں اپنی مہم ختم کرنے والے تمام لوگ جلد از جلد گھر لوٹنا چاہتے ہیں، لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق یہ تاخیر خلیجی خطے میں جاری بحران کی وجہ سے ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی ہوائی سفر شدید متاثر ہوا ہے۔ کئی ممالک کی فضائی حدود بند ہیں، میزائل وارننگز جاری کی جا رہی ہیں اور پروازوں کے راستے بدلے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی کمرشیل اور چارٹر پروازوں کو اچانک منسوخ یا ری شیڈول کرنا پڑا ہے۔ آئی سی سی نے واضح کیا کہ یہ حالات اس کے کنٹرول سے باہر ہیں، جس سے کھلاڑیوں کے سفر کے انتظامات معمول سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور وقت طلب ہو گئے ہیں۔

آئی سی سی نے بتایا کہ وہ مسلسل ایئر لائنز، چارٹر آپریٹرز، ایئرپورٹ حکام، گراونڈ ہینڈلرز اور مختلف ممالک کی سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں ہے، تاکہ تمام متاثرہ گروپس کی محفوظ گھر واپسی جلد از جلد یقینی بنائی جا سکے۔

موجودہ انتظامات کے مطابق جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے ارکان آج رات سے جنوبی افریقہ کے لیے روانہ ہونا شروع کریں گے اور اگلے 36 گھنٹوں کے اندر تمام کی روانگی کی امید ہے۔ وہیں ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے 9 ارکان پہلے ہی کیریبین کے لیے روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ باقی 16 ارکان اگلے 24 گھنٹوں کے اندر ہندوستان سے پرواز بھریں گے۔ مزید روانگی کے انتظامات کی تصدیق ہونے پر آئی سی سی اضافی معلومات فراہم کرے گا۔

آئی سی سی نے یہ بھی واضح کیا کہ ان فیصلوں کے پیچھے صرف سیکورٹی، عملیت اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ میڈیا کے کچھ حلقوں میں سامنے آنے والی دیگر قیاس آرائیوں کو کونسل نے مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن قرار دیا۔ کونسل نے کہا کہ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے لیے کیے گئے سفری انتظامات کا پہلے انگلینڈ کرکٹ ٹیم یا کسی دوسرے ملک کے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ تمام معاملات میں حالات، سفری راستے اور پرواز کے اختیارات مختلف رہے ہیں۔

آئی سی سی نے دہرایا کہ اس پورے وقت میں اس کی اولین ترجیح کھلاڑیوں اور ان کے خاندانوں کی حفاظت اور خیریت ہے۔ کونسل نے کہا کہ جب تک سفری انتظامات مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو جاتے، تب تک کسی کو بھی روانہ نہیں کیا جائے گا۔ آئی سی سی نے کھلاڑیوں، ٹیم مینجمنٹ، کرکٹ بورڈز اور تعاون کرنے والے شراکت داروں کا اس مشکل صورتحال میں صبر اور تعاون برقرار رکھنے کے لیے شکریہ بھی ادا کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande