
جموں, 11 مارچ (ہ س)۔
جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج قومی دارالحکومت میں دوارکا اور ممبئی میں نئے جے کے ہاؤسز قائم کرنے اور مختلف ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں موجود سرکاری املاک کی تجدید و توسیع کے منصوبوں کا جائزہ لیا تاکہ ملک بھر میں جموں و کشمیر کی موجودگی کو مضبوط بنایا جا سکے۔جائزہ اجلاس میں جموں و کشمیر کے ریزیڈنٹ کمشنر رمیش کمار اور ریزیڈنٹ کمیشن کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری منصوبوں، بجٹ کی ضروریات اور مستقبل کی ترقیاتی حکمت عملی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیرِ اعلیٰ نے مختلف بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت دی کہ نئے جے کے ہاؤسز اور موجودہ عمارتوں کی تزئین و آرائش میں جموں و کشمیر کی بھرپور ثقافتی وراثت اور منفرد شناخت کو نمایاں کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئی تعمیرات اور موجودہ عمارتوں کی ازسرنو ترتیب میں مقامی ثقافت اور روایتی طرزِ تعمیر کی جھلک ہونی چاہیے تاکہ یہ سرکاری اثاثے ورثے اور جدید سہولیات کا خوبصورت امتزاج بن سکیں۔
اجلاس میں نئی دہلی کے دوارکا اور پرتھوی راج روڈ، چنڈی گڑھ، امرتسر اور ممبئی میں جموں و کشمیر حکومت کی جائیدادوں کی موجودہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان مقامات پر سرکاری افسران، طلبہ، مریضوں اور دیگر یاتریوں کے لیے سہولیات کی توسیع اور جدید کاری سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ نئی دہلی کے دوارکا میں ایک نیا جے کے ہاؤس قائم کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں تاکہ جموں و کشمیر سے آنے والے افسران اور یاتریوں کے لیے رہائش اور انتظامی ڈھانچہ بہتر بنایا جا سکے۔ اسی طرح نوی ممبئی کے کھارگھر علاقے میں بھی جے کے ہاؤس تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے تاکہ ملک کے مالیاتی مرکز میں جموں و کشمیر کی موجودگی کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ سرکاری عمارتیں جموں و کشمیر کے لیے فخر کی علامت ہونی چاہئیں اور ملک کے مختلف حصوں میں ریاست کی ثقافتی شناخت کی نمائندگی کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ منصوبوں کی معیاری تعمیر اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں امرتسر میں مجوزہ جے کے ہاؤس کے حوالے سے زمین کے یکجا کرنے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت دی کہ پنجاب حکومت سے رابطہ کر کے ایک مربوط زمین کا پلاٹ حاصل کیا جائے تاکہ وہاں مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ عمارت تعمیر کی جا سکے۔
نوی ممبئی منصوبے کے بارے میں حکام نے بتایا کہ تقریباً 29.56 کروڑ روپے کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) اور تقریباً 30 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی تجویز متعلقہ محکمے کو پیش کی جا چکی ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ منصوبوں کی تعمیر کے لیے مہاراشٹر کی سرکاری تعمیراتی ایجنسیوں کو ذمہ داری دی جائے تاکہ کام میں آسانی اور تیزی پیدا ہو سکے۔ وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت دی کہ دیگر ریاستوں کے سرکاری گیسٹ ہاؤسز اور ادارہ جاتی عمارتوں کا مطالعہ کر کے بہترین طریقہ کار اپنایا جائے تاکہ جموں و کشمیر کے لیے عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا سکے۔اجلاس میں تعمیراتی اور تزئین و آرائش کے کام نیشنل بلڈنگ کنسٹریکشن کارپوریشن اور سنٹرل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ جیسی سرکاری ایجنسیوں کو سونپنے کے امکان پر بھی غور کیا گیا۔
اس سے قبل ریزیڈنٹ کمشنر رمیش کمار نے وزیرِ اعلیٰ کو ریزیڈنٹ کمیشن کے زیرِ انتظام مختلف سرکاری جائیدادوں، دفاتر، اسٹاف کوارٹرز، گیسٹ ہاؤسز اور وی آئی پی رہائشی سہولیات کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے نئی دہلی کے چانکیہ پوری جے کے ہاؤس کمپلیکس میں وی آئی پی کمروں کو سوئٹس میں تبدیل کرنے، راجاجی مارگ پراپرٹی کی ازسرِ نو تعمیر اور پرتھوی راج روڈ پر گیسٹ ہاؤس سہولیات کی توسیع سمیت کئی ترقیاتی تجاویز پیش کیں۔اجلاس میں چندی گڑھ، امرتسر، ممبئی کے مالابار ہل اور ہریانہ کے سرسا میں واقع دیگر سرکاری املاک کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر