
نوادہ کے روہ میڈیکل پریکٹیشنر اشوک مستری کے قتل معاملے میں تین سائبر بدمعاش گرفتارنوادہ، 4 فروری (ہ س)۔ نوادہ کے روہ تھانہ علاقہ کی کوشیروکھی پنچایت میں میڈیکل پریکٹیشنر اشوک مستری قتل معاملے میں پولیس کی تفتیش کے دوران بدھ کے روز ایک اہم اور چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق قتل کے بعد مقتول کے بینک اکاؤنٹ سے تقریباً 90,000 روپے نکلوائے گئے۔ اس مالیاتی لین دین کی تحقیقات کرتے ہوئے پولیس نے سائبر کرائم میں ملوث تین نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔ حالانکہ قتل کاکلیدی ملزم تاحال فرار ہے۔تکنیکی شواہد اور بینک ریکارڈ کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے تینوں کے موبائل فون قبضے میں لے لیے ہیں۔ گرفتار ملزمین کی شناخت ناردی گنج تھانہ علاقے کے کجھا گاؤں کے رہنے والے پردیومن کمار، نالندہ ضلع کے کٹاریسارا تھانہ علاقے کے مایا پور گاؤں کے رہنے والے روہت کمار اور نوادہ ضلع کے کاشی چک تھانہ علاقے کے لا ل بیگھا گاؤں کے رہنے والے شیوم کمار کے طور پر ہوئی ہے۔پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں نوجوان پہلے بھی سائبر کرائم میں ملوث رہے ہیں۔ تاہم قتل میں ان کے براہ راست کردار کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس اس بات کا تعین کرنے کے لیے مکمل تفتیش کر رہی ہے کہ بینک اکاؤنٹ سے رقم نکلوانا ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا یا پھر قتل کے بعد جرم کیا گیا تھا۔تھانہ انچارج رنجن کمار نے بتایا کہ معاملہ کی کئی زاویوں سے تفتیش کی جارہی ہے اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر امید ہے کہ قاتل کی جلد ہی شناخت ہوجائے گی۔ فی الحال تینوں ملزمین کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan