جعلی شیئر انویسٹمنٹ کے نام پر کروڑوں روپے کا فراڈ کرنے والی سائبر سنڈیکیٹ کا پردہ فاش، 6 ملزمان گرفتار
نئی دہلی، 4 فروری (ہ س)۔ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے آئی ایف ایس او (انٹیلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز) یونٹ نے ایک بین ریاستی سائبر کرائم گینگ کا پردہ فاش کیا ہے جو لوگوں کو اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا وعدہ کرکے کروڑوں روپے کا دھوکہ دیت
جعلی شیئر انویسٹمنٹ کے نام پر کروڑوں روپے کا فراڈ کرنے والی سائبر سنڈیکیٹ کا پردہ فاش، 6 ملزمان گرفتار


نئی دہلی، 4 فروری (ہ س)۔

دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے آئی ایف ایس او (انٹیلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز) یونٹ نے ایک بین ریاستی سائبر کرائم گینگ کا پردہ فاش کیا ہے جو لوگوں کو اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا وعدہ کرکے کروڑوں روپے کا دھوکہ دیتا تھا۔ اس بڑی کارروائی میں پولیس نے چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ شواہد بھی سامنے آئے ہیں کہ گینگ بیرون ملک سے آپریٹ کیا جارہا تھا۔ ملزمین سے نو موبائل فون برآمد ہوئے ہیں۔

آئی ایف ایس او کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ونیت کمار نے بدھ کو بتایا کہ اس گینگ نے لوگوں کو جعلی آن لائن سرمایہ کاری پلیٹ فارم، جدید ترین ڈیجیٹل ٹولز، اور میول بینک کھاتوں کے ذریعے بھاری منافع کے وعدوں کا لالچ دے کر دھوکہ دیا۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ ملزمین انتہائی منصوبہ بند طریقے سے اپنی فنانشل لانڈرنگ کی کارروائیاں کر رہے تھے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق، یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب رئیل اسٹیٹ بزنس مین کرشنا کمار نے ایک شکایت درج کروائی جس میں الزام لگایا گیا کہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے نام پر تقریباً 3.76 کروڑ روپے کا دھوکہ کیا گیا ہے۔ ملزم نے بار بار زیادہ ریٹرن کا وعدہ کیا لیکن جب نہ تو رقم واپس ہوئی اور نہ ہی کوئی منافع ہوا تو متاثرہ شخص کو احساس ہوا کہ ا س کے دھوکہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد 15 ستمبر 2025 کو اسپیشل سیل پولیس اسٹیشن میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے مزید بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم نے بینک اکاو¿نٹس اور ڈیجیٹل لین دین کی مکمل چھان بین کی۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ دھوکہ دہی کی رقم کا ایک حصہ ممبئی کے رہنے والے سبلو کمار کے اکاو¿نٹ میں منتقل کیا گیا تھا۔ تکنیکی نگرانی کے ذریعے اس کی لوکیشن کوٹہ، راجستھان تک ٹریس کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کی اطلاع کے بعد مراد آباد کے رہنے والے وسیم احمد کو دہلی کے جنگ پورہ علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ چھاپے کے دوران اس کے تین ساتھیوں راجیش خان، شاہد علی اور منو اسر کو بھی گرفتار کیا گیا۔ مزید تفتیش میں دوارکا کے رہنے والے منیش کمار کے کردار کا انکشاف ہوا، جسے بھی گرفتار کیا گیا۔

موبائل فون کی پوچھ گچھ اور فرانزک جانچ سے کئی میول بینک اکاو¿نٹس کی شناخت سامنے آئی۔یہ انکشاف ہوا کہ ان کا استعمال فراڈ شدہ رقوم کی منتقلی کے لیے کیا جا رہا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزمین بیرون ملک مقیم ماسٹر مائنڈ کے کہنے پر وارداتیں کر رہے تھے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ یہ معاملہ سنگین، منظم اور متعدد ریاستوں تک پھیلا ہوا ہے۔ پورے منی ٹریل کی چھان بین کی جا رہی ہے، اور دیگر ملزمین کے کردار کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دھوکہ دہی پر مبنی سرمایہ کاری کی اسکیموں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشکوک کال، پیغامات یا آن لائن پیشکشوں کی فوری اطلاع دیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande