الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ نجی زمین پر مذہبی عبادت یا اجتماع پر یوپی پولیس انتظامیہ کی من مانی کے خلاف واضح اور دوٹوک انتباہ ہے: مولانا محمود اسعد مدنی
نئی دہلی04 فروری: جمعیة علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا پ±رزور خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ آئین ہند کے آرٹیکل 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کی واضح، غیر مبہم اور دوٹوک توثیق ہے۔ مولانا محمو
الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ نجی زمین پر مذہبی عبادت یا اجتماع پر یوپی پولیس انتظامیہ کی من مانی کے خلاف واضح اور دوٹوک انتباہ ہے: مولانا محمود اسعد مدنی


نئی دہلی04 فروری: جمعیة علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا پ±رزور خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ آئین ہند کے آرٹیکل 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کی واضح، غیر مبہم اور دوٹوک توثیق ہے۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ حالیہ عرصے میں ملک کے مختلف حصوںبالخصوص اتر پردیش میں، محض نماز ادا کرنے یا دیگر مذہبی اجتماع پر ایف آئی آر درج کی گئیں، گرفتاریاں عمل میں آئیں اور مذہبی عبادت کو بلاجواز امن و امان کا مسئلہ بنا کر پیش کیا گیا۔

تاہم’ دیر آید، درست آید‘کے مصداق، الٰہ آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اب نہایت واضح اور صاف آئینی رہنمائی فراہم کرتا ہے اور ایسی تمام کارروائیوں کے خلاف ایک سخت آئینی تنبیہ ہے کہ بنیادی حقوق کو انتظامیہ کی صوابدید کے تحت محدود نہیں کیا جا سکتا، نیز آئین شہریوں کو عبادت کا حق عطا کرتا ہے، جسے ریاست اپنی مرضی سے نہ سلب کر سکتی ہے اور نہ ہی معطل۔

مولانا مدنی نے کہا کہ رمضان المبارک کی آمد قریب ہے اور اس مقدس مہینے میں خصوصی طور پر تراویح اور دیگر عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امید ہے کہ گزشتہ رمضان کی طرح اترپردیش پولس اس طرح کی غیر آئینی کاررائیوں سے باز رہے گی اور لوگوں کی عبادت میں خلل نہیں ڈالے گی۔ مولانا مدنی نے ذمہ داران کو متوجہ کیا کہ وہ فیصلے کی کاپی اپنے ساتھ محفوظ رکھیں۔

مولانا محمود مدنی نے واضح کیا کہ جمعیة علماء ہند ہمیشہ امن، قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی کی داعی رہی ہے، تاہم آئینی حقوق پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں۔ اگر عدالتی فیصلوں کے باوجود شہریوں کی مذہبی آزادی بالخصوص عبادت پر روک لگائی گئی تو آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنے سے آئندہ بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande