آپ کے اراکینِ پارلیمنٹ کا امریکہ کے ساتھ ٹریڈ ڈیل کے خلاف پارلیمنٹ احاطے میں زوردار احتجاج: سنجے سنگھ
نئی دہلی، 4 فروری(ہ س )۔ عام آدمی پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ نے بدھ کے روز امریکہ کے ساتھ کی گئی ٹریڈ ڈیل کے خلاف مودی حکومت کے خلاف پارلیمنٹ احاطے میں زوردار احتجاج کیا۔ سنجے سنگھ کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج کے دوران اراکینِ پارلیمنٹ نے ٹریڈ
آپ کے اراکینِ پارلیمنٹ کا امریکہ کے ساتھ ٹریڈ ڈیل کے خلاف پارلیمنٹ احاطے میں زوردار احتجاج: سنجے سنگھ


نئی دہلی، 4 فروری(ہ س )۔

عام آدمی پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ نے بدھ کے روز امریکہ کے ساتھ کی گئی ٹریڈ ڈیل کے خلاف مودی حکومت کے خلاف پارلیمنٹ احاطے میں زوردار احتجاج کیا۔ سنجے سنگھ کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج کے دوران اراکینِ پارلیمنٹ نے ٹریڈ ڈیل دھوکہ ہے، ملک بچا موقع ہے، ملک سے غداری، ٹرمپ سے یاری، نہیں چلے گی، نہیں چلے گی جیسے نعرے بلند کیے اور وزیر اعظم مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان میں آ کر جواب دیں۔ اس موقع پر سنجے سنگھ نے کہا کہ مودی جی کی امریکہ کے ساتھ ٹریڈ ڈیل بھارتی کسانوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہے۔ مودی جی نے بھارتی کسانوں کا حق مار کر امریکی کسانوں کے لیے بھارت کی منڈی کھول دی ہے۔ اپنے دوست اڈانی کو بچانے کے لیے وزیر اعظم نے ملک کے وقار، تجارت اور کسانوں کے حقوق کو امریکہ کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے۔پارلیمنٹ احاطے میں احتجاج کے دوران سنجے سنگھ نے کہا کہ اس وقت ملک کے کروڑوں کسانوں کے دلوں میں تشویش ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ کے ساتھ جو ٹریڈ ڈیل کی ہے، وہ ملک اور ملک کے کروڑوں کسانوں کے ساتھ غداری اور دھوکہ ہے۔ وزیر اعظم کو ایوان میں آ کر جواب دینا چاہیے کہ آخر کس کے کہنے پر انہوں نے روس سے تیل نہ خریدنے کا فیصلہ لیا؟ ڈونالڈ ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان روس سے تیل نہیں خریدے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت پر 80 ہزار کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ یہ 80 ہزار کروڑ روپے امریکہ اور وینزویلا سے مہنگا تیل خرید کر ہندوستان کی عوام سے وصول کیے جائیں گے۔سنجے سنگھ نے کہا کہ امریکہ کہہ رہا ہے کہ زرعی شعبہ ان کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ یعنی ہندوستانی کسانوں کا حق مار کر زرعی منڈی امریکی کسانوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔ امریکہ کی زرعی سیکریٹری اپنے صدر کو مبارکباد دے رہی ہیں کہ انہوں نے ہندوستان کی بڑی منڈی امریکی کسانوں کے لیے کھلوا دی ہے۔ ایسے میں پنجاب، مہاراشٹر، گجرات، اتر پردیش اور بہار کے کروڑوں کسان کیا کریں گے؟ کپاس، گیہوں، پھل سبزیاں، مکئی اور سویا بین پیدا کرنے والے کسان کا کیا ہوگا؟ سنجے سنگھ نے کہا کہ حکومت کچھ بھی بتانے کو تیار نہیں ہے۔ مودی حکومت نے ٹرمپ کے سامنے جھک کر جو معاہدہ کیا ہے، اس میں سالانہ 45 لاکھ کروڑ روپے کی تجارت امریکہ کو دینے کی بات کہی گئی ہے۔ آخر یہ لوگ بھارت کا کیا کیا بیچیں گے؟ کوئلہ، گیس، پھل، سبزیاں، گیہوں، چاول، کپاس یا سویا بین،کیا کیا بیچیں گے؟ اگر امریکہ کا سویا بین اور دیگر سامان سستے داموں پر ہندوستانی منڈی میں بھر گیا، کیونکہ حکومت نے ٹیکس زیرو کر دیا ہے، تو بھارتی کسانوں کا کیا ہوگا؟ سنجے سنگھ نے کہا کہ مودی حکومت کہہ رہی ہے کہ ملک کے لوگ ناچیں اور لڈو بانٹیں، کیونکہ بہت زبردست ڈیل ہو گئی ہے۔ مودی جی نے ملک کو بے وقوف سمجھ رکھا ہے۔ پہلے بھارت درآمدات پر 29 فیصد ٹیکس لیتا تھا، جسے اب زیرو کر دیا گیا ہے۔ وہیں امریکہ جو پہلے 3 فیصد ٹیکس لیتا تھا، اس نے اسے بڑھا کر 18 فیصد کر دیا ہے۔ اس کے باوجود کہا جا رہا ہے کہ ڈھول پیٹو۔ یہ ٹریڈ ڈیل ملک کے ساتھ غداری اور دھوکہ ہے۔ اپنے دوست اڈانی کو بچانے کے لیے وزیر اعظم نے ملک کے وقار، عزت، روزگار، تجارت اور کسانوں کے حقوق کو امریکہ کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande