
نئی دہلی،24فروری(ہ س)۔ جماعتِ اسلامی ہند کے شعبہ خواتین کی قومی سکریٹری محترمہ رحمت النساءعبدالرزاق نے مدھیہ پردیش اسمبلی میں پیش کیے گئے چونکا دینے والے اعداد و شمار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں انکشاف ہوا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران ریاست میں لاپتہ قرار دی گئی 2,69,500 خواتین اور لڑکیوں میں سے 50 ہزار سے زائد اب تک بازیاب نہیں ہو سکیں۔ ان میں تقریباً 48 ہزار خواتین اور 2,200 لڑکیاں ایسے معاملات میں شامل ہیں جو تاحال ”زیرِ التوا“ درج ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محترمہ رحمت النسائ عبدالرزاق نے کہا کہ یہ اعداد و شمار محض نمبر نہیں بلکہ ہر عدد کے پیچھے ایک زندہ انسان، ایک بیٹی، بہن یا ماں کی کہانی ہے۔ ان کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں خواتین اور بچیوں کا لاپتہ ہونا ہمارے سماجی ضمیر اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتِ حال اس گہری صنفی ناانصافی کی نشاندہی کرتی ہے جو خواتین کو انسانی اسمگلنگ، استحصال اور تشدد جیسے خطرات سے دوچار کرتی ہے۔انہوں نے اس امر پر بھی توجہ دلائی کہ اندور، بھوپال، گوالیار اور جبل پور جیسے بڑے شہری مراکز میں ہزاروں خواتین کی گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ شہری علاقوں میں فوری طور پر ”اربن سیفٹی آڈٹس“ کرائے جائیں اور پولیسنگ کو صنفی حساس بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مقامات، تعلیمی اداروں، کام کی جگہوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو خواتین کے لیے محفوظ بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔محترمہ رحمت النساءنے واضح کیا کہ یہ بحران صرف ایک ریاست تک محدود نہیں بلکہ ملک گیر سطح پر تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ سنہ 2023 کے آل انڈیا اعداد و شمار کے مطابق ہر سال لاکھوں خواتین اور لڑکیاں لاپتہ ہوتی ہیں، جن میں سے بڑی تعداد کا سراغ نہیں مل پاتا۔ اس صورتِ حال میں خواتین اور نوخیز لڑکیاں سب سے زیادہ غیر محفوظ طبقہ بن کر سامنے آتی ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ریاست پر آئینی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خواتین کی جان، عزت اور مساوی شہریت کا تحفظ یقینی بنائے۔ اس مقصد کے لیے محض سخت قوانین کافی نہیں بلکہ مستقل سیاسی عزم، مختلف سرکاری محکموں کے درمیان مو¿ثر تال میل، سماجی نگرانی، اور ایسے فلاحی نظام میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے جو غربت، گھریلو تشدد، غیر محفوظ ہجرت اور روزگار کے محدود مواقع جیسے بنیادی مسائل کا حل پیش کرے۔
قرآنِ مجید کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں انسانی جان، عزت اور خاندانی رشتوں کے احترام کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ خواتین اور بچیوں کے تحفظ میں کوتاہی محض قانونی نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی و معاشرتی ناکامی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں خواتین کا لاپتہ ہونا صرف امن و قانون کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ معاشرے میں خواتین کے وقار اور تحفظ سے متعلق اقدار کمزور ہو رہی ہیں۔انہوں نے ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی بے حسی، فحاشی اور خواتین کو محض ایک شے کے طور پر پیش کرنے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس کے تدارک کے لیے ذمہ دار میڈیا طرزِ عمل اور اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے ایک جامع قومی لائحہعمل کی ضرورت پر زور دیا جس میں صنفی انصاف کا مضبوط فریم ورک، انسدادِ انسانی اسمگلنگ کے مو¿ثر یونٹس، اعداد و شمار میں شفافیت، مقررہ مدت میں تحقیقات کی تکمیل اور بازیاب ہونے والی خواتین و بچیوں کی باوقار بحالی کا مربوط نظام شامل ہو۔ انہوں نے سول سوسائٹی، مذہبی تنظیموں اور سماجی قائدین سے بھی اپیل کی کہ وہ خواتین کو محفوظ بنانے میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو معاشرہ اپنی خواتین کی عزت و حرمت کا تحفظ نہیں کر پاتا، وہ دراصل اپنی اخلاقی بنیادوں کو خود کمزور کر دیتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais