منافرت کو بڑھاوا دینے کے لیے مسلسل پروگرام پرآل انڈیا ملّی کونسل کی شدید مذمت
نئی دہلی، 24 فروری(ہ س)۔ نفرت اور اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دینے والی تنظیموں کو حکومتی اعانتیں دینا نہ صرف لائق مذمت ہے، بلکہ یہ ہندوستانی سیکولرزم اور یہاں کے جمہوری تانے بانے کے بھی صریحاً خلاف ہے۔ آل انڈیا ملّی کونسل سے جاری مذمتی بیان میں معاون
منافرت کو بڑھاوا دینے کے لیے مسلسل پروگرام پرآل انڈیا ملّی کونسل کی شدید مذمت


نئی دہلی، 24 فروری(ہ س)۔ نفرت اور اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دینے والی تنظیموں کو حکومتی اعانتیں دینا نہ صرف لائق مذمت ہے، بلکہ یہ ہندوستانی سیکولرزم اور یہاں کے جمہوری تانے بانے کے بھی صریحاً خلاف ہے۔ آل انڈیا ملّی کونسل سے جاری مذمتی بیان میں معاون جنرل سکریٹری شیخ نظام الدین نے کہا کہ ایسے ملک میں جہاں متعدد مذاہب اور کمیونیٹیز کے لوگ رہتے ہوں، یہاں کا مزاج مذہب کے معاملات میں غیرجانبدار رہا ہے اور حکومت کو مذہبی معاملے میں کسی مداخلت کا ختیار بھی نہیں، تاہم ایک بھارت، شریسٹھ بھارت اور وکاس بھی، وراثت بھی جیسے خوشنما نعروں کی آڑ میں ہندو احیائیت پسندانہ سرگرمیوں کے حوالے سے ملک کی قومی راجدھانی میں نفرت اور اشتعال انگیزی کی کھلی سرگرمیوں کی پشت پناہی کرنا انتہائی تکلیف دہ امر ہے، جس کا واضح ثبوت دہلی کے معروف پرگتی میدان میں واقع ’بھارت منڈپم‘ جیسے وسیع وعریض مشہور کنونشن سنٹر میں ’سناتن سنستھا‘ نامی بدنام زمانہ ہندو تنظیم کو نفرت واشتعال انگیز پروگراموں کے لیے مرکزی وزارت ثقافت اور ریکھا گپتا کی سربراہی میں چل رہی حکومت کے وزارت سیر وسیاحت کے اشتراک سے جو 63/ لاکھ روپے کی مرکزی امداد دی گئی، وہ بے حد حیران کن ہی نہیں بلکہ انتہائی معاندانہ اور تشویشناک طرز عمل ہے، جس کی جس قدر مذمت کی جائے وہ کم ہوگی۔

واضح رہے کہ مو¿رخہ 13-14/ دسمبر 2025 کو آر ایس ایس کے ذریعہ قائم کردہ مذکورہ بھگوا تنظیم کو سناتن راشٹر شنکھناد مہوتسو کے عنوان پر منظم پروگرام کے لیے کلچرل منسٹری کی جانب سے 63/ لاکھ روپے کی مرکزی امداد دی گئی جو بے حد پریشان کن اور لائق مذمت طرز عمل رہا ہے۔ ملک کے اندر ہندو راشٹر کے فروغ کے نام پر مسلمانوں کی آبادی کی حد طے کرنا، ان کے ڈیموگرافک کنٹرول کی مہم چلانا، مسلمانوں کو اس ملک سے بہ جبر ملک بدر کرنا یا انھیں جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے کی تدابیر پر غور وفکر کرنا اس ملک کے مزاج ومذاق سے قطعی ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس سے اس ملک کا سماجی تانا بانا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا اور ملک کے اندر قانون شکنی اور نراج کا ماحول وجود میں آئے گا۔

معاون جنرل سکریٹری ملی کونسل نے آگے یہ بھی کہا کہ بھارت منڈپم جیسے بڑے اور نمائندہ اجتماع گاہ میں جہاں 7,000/ لوگوں کے بیٹھنے کی جگہیں متعین ہیں، اس طرح کی تقریب یا پروگرام کے لیے نہ صرف اجازت دینا بلکہ مرکزی اعانت سے نوازنا ایک جارحانہ طریقہ ہے۔ اس کی آل انڈیا ملّی کونسل شدید لفظوں میں مذمت کرتی ہے۔ نفرت آمیز تقریب میں حکومتی نمائندگان کی شرکت جس میں اشونی اپادھیائے، کپل مشرا، راہل دیوان، گجندر سنگھ شیخاوت، سریش چوانکے اور دیگر اہم ترین نمائندگان حکومت شامل رہے جو بے حد افسوسناک واقعہ ہے۔ یہ سارے واقعات کا علم روسٹر نیوز چینل سے ہوا ہے جو 15/ اکتوبر 2017 سے کارپوریٹ اور سیاسی کنٹرول سے باہر اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ یہ دراصل ایک یوٹیوب چینل ہے اور جس کا حوالہ دی کوئنٹ (ہندی وانگریزی زبانوں پر مشتمل) راگھوبہل اور ریتو کپور کے ذریعہ ظہور میں لایا گیا ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ بھگوا تنظیموں میں سے کسی نہ کسی کی جانب سے ہر ماہ ملک کے مختلف مقامات پر کم ازکم 4-5/ پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن سے ملک کے مختلف علاقوں میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بیج بویا جارہا ہے اور اس کا تسلسل ایک عرصے سے قائم ہے۔ ملی کونسل کو اس کا شدید احساس ہے، اور اسے ملک کی بقا وسلامتی اور یہاں کی رنگا رنگ تہذیب کے خلاف ایک جارحانہ اقدام تصور کرتی ہے۔ ملی کونسل نے حکومت ہند، وزارت داخلہ اور مرکزی وزارت وثقافت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ اس طرح کے پروگراموں میں حکومتی شمولیت کو کسی بھی طرح برداشت نہیں کیا جاسکتا۔دوسری جانب حکومتی اعانتوں اور کارپوریٹ کے ذریعہ گائیڈ ہورہے نیوز چینلوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ نفرت واشتعال انگیزی پھلانے کی اس طرح کی روش سے وہ باز رہیں اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو پھیلنے پھولنے کے مواقع پیدا کرانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ دوسری جانب ملی کونسل نے اس بات کی بھی مذمت کی ہے کہ عوامی خدمات اور انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے کی خاطر جو عوامی محصولات حکومت کو حاصل ہوتے ہیں، مذکورہ نفرت کو ہوا دینے کے لیے یہ رقمیں حکومت کے ذریعہ ایسی تنظیموں کو بطور اعانت کیوں دی جارہی ہیں، اس کے لیے حکومت کو جواب دہ ہونا ضروری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande