اسرائیلی وزیر کا غزہ پر قبضہ کرنے کی دھمکی
تل ابیب،23فروری(ہ س)۔اسرائیلی وزیرِ خزانہ بتسلئیل سموٹرچ نے غزہ کی پٹی پر قبضے کی اپنی دھمکیاں دہرائی ہیں۔ دائیں بازو کے انتہا پسند وزیر نے پیر کے روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل جلد ہی حماس تنظیم کو ایک الٹی میٹم دے گا تاکہ اس کے قائدین غزہ کی
اسرائیلی وزیر کا غزہ پر قبضہ کرنے کی دھمکی


تل ابیب،23فروری(ہ س)۔اسرائیلی وزیرِ خزانہ بتسلئیل سموٹرچ نے غزہ کی پٹی پر قبضے کی اپنی دھمکیاں دہرائی ہیں۔ دائیں بازو کے انتہا پسند وزیر نے پیر کے روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل جلد ہی حماس تنظیم کو ایک الٹی میٹم دے گا تاکہ اس کے قائدین غزہ کی پٹی سے نکل جائیں، اور اسلحہ، ہیڈ کوارٹرز اور سرنگیں حوالے کر دیں۔انہوں نے مزید کہا اگر حماس تنظیم نے ایسا نہ کیا، تو ہمیں خود کارروائی کرنے کا جواز مل جائے گا۔اس کے علاوہ سموٹڑچ نے اشارہ کیا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حماس تنظیم کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوئے، تو اسرائیلی فوج کو ایسا کرنے کے لیے بین الاقوامی جواز اور امریکی حمایت حاصل ہو جائے گی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل حماس تنظیم کو تباہ کرنے کے ہدف سے دست بردار نہیں ہوا، بلکہ اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے طریقے سے ایسا کرنے کا موقع دیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج پہلے ہی ضروری منصوبے تیار کرنے پر کام کر رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ آخر کار ہم غزہ پر قبضہ کر لیں گے اور وہاں یہودی بستی قائم کریں گے۔سموٹرچ نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ سے فلسطینیوں کی ہجرت کی حوصلہ افزائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کی کوشش پر زور دیا۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب 1967 سے جاری بستیوں کی تعمیر کی سرگرمیوں میں بنیامین نیتن یاہو کی موجودہ حکومت کے سائے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ دائیں بازو کی حکومتوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے۔واضح رہے کہ گذشتہ اکتوبر میں نافذ العمل ہونے والے جنگ بندی معاہدے میں اسرائیلی افواج کے پوری غزہ کی پٹی سے انخلا، حماس تنظیم کے اسلحے کے خاتمے اور غزہ کی تعمیرِ نو کی شرط رکھی گئی تھی۔تاہم اسرائیل نے ابھی تک انخلا نہیں کیا ہے، جبکہ حماس تنظیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلحے کا معاملہ اندرونی طور پر فلسطینیوں کے باہمی مذاکرات میں حل کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande