
تہران،23فروری(ہ س)۔گذشتہ جنوری سے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی امریکی عسکری صف بندی کے درمیان ایران نے اپنی انتباہی مہم کو تیز کرتے ہوئے کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے پیر کے روز عسکری یونیورسٹی ’ڈیوس‘ کے طلبہ کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کوئی ’ آسان شکار‘ نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم کمزور اور وہ طاقتور پوزیشن میں ہے تو یہ اس کی بڑی بھول ہوگی۔
’تسنیم‘ نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے اپنی تمام تر عسکری طاقت جمع کرنے کے باوجود یہ نہیں سوچا تھا کہ اسے اس قدر مضبوط عزم اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔جنرل امیر حاتمی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دشمن ہمیں کمزور سمجھنے کی غلطی کر رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عظیم ایران کو نگلنا ناممکن ہے۔ انہوں نے دشمن کی ناقابل شکست ہونے کی دعووں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ امریکہ نے ویتنام، افغانستان اور عراق میں جنگیں لڑیں اور وہاں سے اسے شکست خوردہ ہو کر نکلنا پڑا۔انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ دشمن ایرانی عوام کو تھکانے اور انہیں کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ہم اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں بلاشبہ فوج کی ذمہ داری انتہائی فیصلہ کن اہمیت کی حامل ہے۔یہ انتباہی بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی فائل پر مذاکرات جاری ہونے کے باوجود اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف محدود فضائی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی ہے جب امریکی صدر کے کسی بھی ممکنہ فیصلے کی تیاری کے طور پر خطے میں موجود بحری بیڑے ابراہام لنکن کے ساتھ ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز جیرڈ فورڈ بھی شامل ہونے جا رہا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan