جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ڈاکٹر بی۔آر امبیڈکر یونیورسٹی دہلی نے تعلیمی اشتراک اورمشترکہ تحقیقی سرگرمیوں سے متعلق مفاہمت نامے پر دستخط کیے
Millia Islamia and Dr. B. R. Ambedkar University Delhi sign MoU for academic collaboration
جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ڈاکٹر بی۔آر امبیڈکر یونیورسٹی دہلی نے تعلیمی اشتراک اورمشترکہ تحقیقی سرگرمیوں سے متعلق مفاہمت نامے پر دستخط کیے


نئی دہلی،17فروری(ہ س)۔جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ڈاکٹر بی۔آر امبیڈکریونیورسٹی دہلی(ڈاکٹر بی،۔آر اے یو ڈی) نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے یاسر عرفات ہال میں دونوں اداروں میں باہمی تعاون اور تعلیمی افضلیت کو فروغ دینے کے مقصد سے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔ پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ اور کرنل اومکار سنگھ (سبک دوش) رجسٹر ار،ڈاکٹر بی۔آر اے یو ڈی نے عزت مآب پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بی۔آر۔امبیڈکر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر انو سنگھ لاتھر کی موجودگی میں اس مفاہمت نامے پردستخط کیے۔اس اشتراک کا مجموعی مقصددونوں اداروں کے طلبہ اور محققین کو باہمی دلچسپی کے علوم و فنون میں،کتابوں، مونوگراف،سمینار اور ورکشاپ کی جلدوں کی اشاعت اور تدریس و تحقیق میں اثر پزیری کو بڑھانے کے لیے مشترکہ طور پر سمینار،کانفرنس اور اکیڈمک ورکشاپ کے انعقاد کے لیے تحقیقی مواقع فراہم کرنا ہے۔

دونوں یونیورسٹیوں نے علم کی ترویج و اشاعت میں عمومی لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ ساجھیداری سے اتفاق کیا ہے اور مشترکہ پروجیکٹ پرکام کریں گے اور رسرچ پروگرام (پی ایچ ڈی) کی مشترکہ طورپر نگرانی،صلاحیت سازی سے متعلق پروگراموں کے انعقاد، فیکلٹی، اسٹاف اور طلبہ کے باہمی تبادلے، صنعت کے موجودہ تقاضوں کے پیش نظر موجودہ نصاب پر نظر ثانی کے سلسلے میں مہارتوں کے تبادلے۔موکس اور آئی سی ٹی کے حوالے سے مشترکہ طورپر ورکشاپ کے انعقاد اور اکیڈمک ریسو س مواد کے تبادلے بھی ہوں گے۔ علاوہ ازیں دونوں یونیورسٹیاں ایک دوسرے کے یہاں تہذیبی و ثقافتی پروگرام اورکھیل کود سے متعلق سرگرمیوں کا منعقد کرنے پر کام کریں گی۔پروفیسر انو سنگھ لاتھر، وائس چانسلر،ڈاکٹر بی۔آر۔امبیڈکر یونیورسٹی نے دونوں کے اداروں کے درمیان اہم ساجھیداری پر گہرے اطمینان اور امید کا اظہار کیا اورکہاکہ ان کی یونیورسٹی،جامعہ کے مقابلے میں نسبتاً نئی یونیورسٹی ہے وہ ڈاکٹر بی۔آر۔امبیڈکر کے وڑن سے روشنی حاصل کرتی ہے۔’یہ وڑن مساوات، سماجی انصاف،تنوع اور شمولیت کے فروغ کے سلسلے میں کیے گئے یونیور سٹی کے اقدامات میں جھلکتاہے اور کمیو نی ٹی اور سماج کواپنا تعاون دیتاہے۔ پروفیسر لاتھر نے انسانی ماحولیات او رماحولیات سے متعلق اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہاکہ متعدد بین علومی تحقیقی شعبوں کو فروغ دینے میں یہ مفاہمت نامہ اہم محرک ثابت ہوگا خاص طور سے لبرل آرٹس،سوشل سائنسز اور ان کے علاوہ بھی مضامین میں۔

پروفیسر مظہر آصف نے قومی راجدھانی دہلی کے دو انتہائی اہم اداروں کے درمیان ہوئے مفاہمت نامہ کو تعلیمی اشتراک کی سمت ایک بڑا قدم بتایا اور کہاکہ ”جس طرح بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر یونیورسٹی کے قیام کی تحریک ہیں اسی طرح ایک سو پانچ سالہ قدیم جامعہ ملیہ اسلامیہ بھی بابائے قوم مہاتما گاندھی کی اپیل اور ان کی سرپرستی کے ساتھ رابندر ناتھ ٹیگو ر اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے قوم پسندوں اورمجاہدین آزادی نے قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ادارے اسی وجہ سے سماج کے کمزور طبقے کو خاص طور سے ایس سیز، ایس ٹیز،خواتین اور دیگر حاشیائی گروپوں کو مضبوط کرنے کے تئیں عہد میں متحد نظر آتے ہیں۔پروفیسر آصف نے کہا کہ جامعہ ہر سال تیس بیوروکریٹس سے زیادہ دے کر وطن عزیز کی عظیم خدمت کرتی رہی ہے۔پروفیسر آصف نے مزید کہا کہ جامعہ نے وقت کے ساتھ تعلیم،مینجمنٹ، قانون، انجینرئنگ، ہندوستانی اور بیرونی زبانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اہم تحقیقی شعبوں میں بھی غیر معمولی مظاہرہ کیاہے اور ان شعبوں میں اعلی معیار کے مشترکہ کا م کا تصور اور خاکہ پیش کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ مفاہمت نامہ ”دونوں یونیورسٹیوں کے محققین اور فیکلٹی اراکین کے درمیان موثر اور بامعنی اشتراک کی راہیں ہموار کرے گا۔“پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہاکہ یہ اشتراک دونوں اداروں کے طلبہ اورفیکلٹی اراکین کے درمیان علمی اور تحقیقی تبادلے اور لین دین میں محرک ثابت ہوگا اور ہم آہنگی پیدا کرے گا اور آنے والے وقت میں دونوں اداروں کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔“ ڈاکٹر بی۔ آر امبیڈکر یونیورسٹی کے دیگر عہدیداران بھی مفاہمت نامہ کا حصہ تھے۔ ان میں پروفیسر کارتک داوے، ڈین پلاننگ،اور جناب بپل کمار سری واستو،ڈپٹی رجسٹرار، لیگل اور پی آر او، ڈاکٹر ادیتی پرتاپ سنگھ شامل تھے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے اس مفاہمت نامے پر دستخط کے دوران پروفیسر زبیر مینائی،ڈین۔فیکلٹی آف سوشل سائنسز، پروفیسر تنوجا،ڈین اکیڈمک افیئرز، پروفیسر کفیل احمد،ڈین رسرچ،پروفیسر اوشوندر کمار پوپلی، ڈین انٹرنیشنل ریلیشنز اور پروفیسر صائمہ سعید،مشیر برائے خارجی طلبہ اور افسر اعلی تعلقات عامہ موجود تھے۔پروفیسر زبیر مینائی،ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز نے مفاہمت نامہ کا مسودہ تیار کرنے اور اس پر دستخط کے لیے رابطہ کاری میں اہم رول ادا کیا۔کرنل اومکار سنگھ (سبک دوش) رجسٹرار، ڈاکٹر بی۔ آر۔اے یو ڈی کے اظہار تشکر پر تقریب کا اختتام ہوا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande