اردو اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ کے زیر اہتمام یک رو زہ قومی سمینار کا انعقاد
نئی دہلی،17فروری(ہ س)۔اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’عہد حاضر میں تدریس و آموزش کے تقاضے‘ کے موضوع پر کامیابی کے ساتھ یک روزہ قومی سمینار منعقد کیا۔سمینار کا افتتاح مورخہ سولہ فروری دوہزار چھبیس کو میر انیس ہال،
اردو اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ کے زیر اہتمام یک رو زہ قومی سمینار کا انعقاد


نئی دہلی،17فروری(ہ س)۔اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’عہد حاضر میں تدریس و آموزش کے تقاضے‘ کے موضوع پر کامیابی کے ساتھ یک روزہ قومی سمینار منعقد کیا۔سمینار کا افتتاح مورخہ سولہ فروری دوہزار چھبیس کو میر انیس ہال، دیار میر تقی میر ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں صبح دس بجے ہوا۔پروگرام میں ملک بھر سے شامل ممتاز علمی ہستیوں، محققین ماہرین اور طلبہ کا استقبال کیا گیا جنہوں نے اردو میڈیم کے خصوصی حوالے سے تدریس و آموزش کے عمل میں معاصر چیلنجیز اور ابھرتے رجحانات پر اظہار خیا ل کیا۔

جناب شکیل الرحمان رسرچ اسکالر کی تلاوت کلام پاک سے افتتاحی اجلاس کا آغاز ہوا جس کے بعد جامعہ کا ترانہ پیش کیا گیا۔سمینار کے منتظم سیکریٹری ڈاکٹر عبد الواحد کے خیر مقدمی کلمات سے سمینار کے لیے مناسب فضا تیار ہوئی۔عزت و ستائش کی نشانی کے طورپر مندوبین کی خدمت میں مومینٹو پیش کیے گئے اس کے بعد شال پوشی کی رسم سے معزز مہمانا ن کی والہانہ موجودگی کا اعتراف کیا گیا۔ اس موقع پر معزز مہمانان نے، سال گزشتہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے یوم تاسیس کے موقع پر اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ موضوعی مشاعرے میں پیش کی گئی نظموں کے مجموعہ ’گلدستہ موضوعی مشاعرہ ’جامعہ کی کہانی شاعروں کی زبانی‘ کا اجرا بھی کیا۔

پروفیسر جسیم احمد، اعزازی ڈائریکٹر اے پی ڈی یو ایم ٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ و سمینار کنوینر نے حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے سمینار کے ابتدائی مراحل میں عزت مآب پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور عالی وقار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے حاصل رہنمائی کے لیے ان کی خدمت میں ہدیہ تشکر پیش کیا۔ سمینار میں تعاون کے لیے انہوں نے ہولسٹک ٹرسٹ اور ا ردو اکادمی دہلی کابھی شکریہ اد اکیا۔ پروفیسر احمد نے سمینار میں مہمانان اور شرکا کاوالہانہ استقبال کیا۔انہوں نے ’کلاس روم کی قسمت کو اساتذہ سمت دیتے ہیں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زوردیا کہ اسکولی تعلیم بہترین ملک کی بنیاد ہوتی ہے۔انہوں نے تدریس و آموزش کے معاصر طریقوں پر اظہار خیال کے سلسلے میں سمینار کے موضوع کی معنویت بھی اجاگر کی۔پروفیسر سارہ بیگم، کارگزار ڈین، فیکلٹی آف ایجوکیشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ ہردور میں تدریس و آموزش کے تقاضے سماجی تناظر میں کس طرح تبدیل ہوتے ہیں۔ڈاکٹر واحد نظیر نے کلیدی خطبہ کے مہمان خطیب ڈاکٹر ندیم احمد،شعبہ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ کا استقبال کیا۔ڈاکٹر ندیم احمد نے خطبہ میں موجودہ زمانے میں اساتذہ کے رول پر زور دیا اور طلبہ کی آموزش کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ان کو میسروسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کی اہمیت پر گفتگو کے ساتھ ساتھ طلبہ کو ان کی پیشہ ورانہ ملازمت کے لیے تیار کرنے کے سلسلے میں قومی تعلیمی پالیسیوں، ڈیجیٹل ٹیچنگ لرننگ ریسورسیزاینڈ ایمپ پر بھی بات کی۔افتتاحی اجلاس کی ایک اہم بات پروفیسر ایم۔اختر صدیقی کا خطبہ تھا جنہوں نے زبان کی بنیا دپر طلبہ کے درمیان تنوع اور فرق کے مسئلے سے نمٹنے کی ضرورت کے سلسلے میں اپنے بیش قیمت تجربات و مشاہدات ساجھا کیے۔انہوں نے یہ سوال بھی پوچھا کہ اساتذہ کلاس روم میں ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں طلبہ کی مختلف سطحوں سے کس طرح نمٹتے ہیں اور آموزش کی الگ الگ رفتار کے تناظر میں تمام طلبہ پر کس طرح توجہ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر حنا آفرین کے اظہار تشکر اور سمینار کے تکنیکی اجلاسوں کے متعلق اشارے کے ساتھ افتتاحی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔سمینار دو تکنیکی اجلاسوں اور چار متوازی اجلاسوں میں منقسم تھا جن میں سے ہر ایک میں ایک بنیادی موضوع کے تحت مختلف ذیلی عنوانات کا احاطہ کیا گیا تھا۔مقالہ نگاروں نے مقالات پیش کیے اور انہوں نے اردو میڈیم تدریس اور اپنے متعلقہ شعبوں سے حاصل شدہ تجربات کو حاضرین سے ساجھا کیا۔سمینار کے مختلف اجلاسوں میں کل تینتیس مقالات پیش کیے گئے جن میں گیارہ انگریزی میڈیم میں اور بائیس اردو میڈیم میں تھے۔قومی سمینار کا اختتامی اجلاس شام چار بجے میر انیس ہال میں منعقد ہوا۔اس میں پروفیسر الیاس حسین،سابق نائب شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے اور پروفیسر اقتدار محمد خان،ڈین،فیکلٹی آف ایجوکیشن،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بطور مہمان اعزازی شرکت کی۔اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر حنا آفرین نے انجام دیے۔پروفیسر جسیم احمد نے کامیابی کے ساتھ پروگرام کے مکمل ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے مہمانان،فیکلٹیز اور شرکا کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سمینار کی وقعت و اہمیت میں اپنے گراں قدر تجربات و مطالعات سے اضافہ کیا تھا۔اجلاس میں تحقیق پر مبنی آلہ ’اساس‘ (ایڈولسینٹس سائنٹفک اٹیٹوڈ اسکیل)کا اجرا شامل تھا جس کا مقصد نوعمر وں میں سائنسی رویے کا جائزہ لینا تھا۔ محمد عاشق حسین نے اسکیل کا تعارف پیش کیا اور مہمان خصوصی کے دست مبارک سے سافٹ کاپی میں اس کے مینوئل کا اجرا بھی عمل میں آیا۔

سمینار کی روداد پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر واحد نظیر نے علمی مذاکرات،موضوعات اور تکنیکی اجلاسوں سے حاصل شدہ اہم سفارشات کی تلخیص پیش کی۔انہوں نے سمینار کے موضوع کو اپنے انداز میں سمجھنے اور تدریس و آموزش کے ڈسکورس میں اضافہ کے کے لیے اسکالر اور علمی شخصیات کی کوششوں کی ستائش کی۔پروگرام کے مہمان اعزازی پروفیسر اقتدار محمد خان نے ایسے سمیناروں کے انعقاد کی حوصلہ افزائی کی جو معاصر مسائل اور مواقع کو زیر بحث لاتے ہیں۔انہوں نے مادری زبان کی اہمیت اور روز مرہ کی زندگی میں اردو زبان کے استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا۔پروگرام کے مہمان خصوصی پروفیسر الیاس حسین نے اختتامی خطبہ پیش کیا جس میں انہو ں نے سمینار کے کامیاب انعقاد کے لیے منتظمین کو مبارک باد دی۔انہوں نے سمینار کے مقالہ نگاروں کے جوش،دلچسپی اور یقین و خود اعتمادی کی تعریف کی۔انہوں نے اساتذہ کے مستقبل کو جہت اور سمت دینے میں یونیورسٹی کے رول کی تعریف کی۔ اردو میڈیم آموزش کے فروغ کو استحکام نیز اردو زبان کے فروغ کے لیے انہوں نے معلمین اور پالیسی سازوں کے درمیان مستقل بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر نوشاد عالم کے اظہار تشکر کے بعد قومی ترانے کی نغمہ سرائی اور تقسیم اسناد کے ساتھ یک روزہ قومی سمینار کا اختتامی اجلاس اختتام پذیرہوا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande