
نئی دہلی، 13 فروری (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے ریت کی غیر قانونی کانکنی پر راجستھان حکومت کو پھٹکار لگائی ہے۔ جسٹس حسن الدین امان اللہ کی سربراہی والی بنچ نے ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ حکام کی بے عملی نے گاو¿ں والوں کو تشدد کی طرف دھکیل دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے گھر میں توڑ پھوڑ کے جرم میں دس سال قید بامشقت کی سزا پانے والے ملزم کی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے کہا کہ علاقے میں غیر قانونی کان کنی اور سٹون کرشنگ یونٹس کے خلاف بار بار کی جانے والی شکایات کے جواب میں انتظامیہ کی بے عملی اس واقعے کی بنیادی وجہ تھی۔ اعلیٰ عدلیہ نے حکام کی بے عملی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کارروائی کا عندیہ دے دیا۔ سپریم کورٹ نے راجستھان حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس وقت تعینات تمام افسران کے نام اور عہدہ فراہم کرے جن کی عدم فعالیت سے یہ واقعہ پیش آیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ کوئی الگ تھلگ کیس نہیں ہے بلکہ اس طرح کے کئی واقعات عدالت کی توجہ میں آئے ہیں۔ اس لیے متعلقہ افسران کی فہرست پیش کی جائے۔
درخواست گزار پر الزام تھا کہ وہ اس ہجوم کا حصہ تھا جس نے شکایت کنندہ کے گھر میں توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ گاو¿ں کے لوگ طویل عرصے سے غیر قانونی کان کنی اور سٹون کرشنگ یونٹس کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ انتظامیہ نے کارروائی نہ کی تو غصے سے یہ واقعہ پیش آیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ مقدمے کے دیگر شریک ملزمان کی پہلے ہی ضمانت ہو چکی ہے، جب کہ انہیں دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan