
نئی دہلی،13فروری(ہ س)۔بھارت حکومت نے 25 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) گندم اور اضافی 5 ایل ایم ٹی گیہوں (گندم) کی مصنوعات کی برآمد کی منظوری دی ہے، جو گھریلومنڈیوں کو مستحکم کرنے اور پیداوار کنندگان کو مناسب منافع یقینی بنانے کے لیے کسان مرکزیت کے حامل ایک فیصلہ کن اقدام کے طور پر لیا گیا ہے۔ یہ متوازن فیصلہ موجودہ دستیابی اور قیمت کے منظرنامے کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے، جو کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کی عزم کو بھی دہراتا ہے۔سال 2025-26 کے دوران نجی اداروں کے پاس گیہوں (گندم )کا ذخیرہ تقریباً 75 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) ہے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 32 ایل ایم ٹی زیادہ ہے۔ اس سال بہ سال نمایاں اضافہ ملک میں گندم کی دستیابی کی سہولت کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید برآں، یکم اپریل 2026 تک فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی ) کے مرکزی پول میں کل گندم کی دستیابی تقریباً 182 ایل ایم ٹی متوقع ہے، جس سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ برآمد کی اجازت گھریلو غذائی تحفظ کی ضروریات پر اثر انداز نہیں ہوگی۔ربیع 2026 میں گندم کی کاشت کا رقبہ بھی بڑھ کر تقریباً 334.17 لاکھ ہیکٹر ہو گیا ہے، جبکہ گذشتہ سال یہ 328.04 لاکھ ہیکٹر تھا۔ یہ کسانوں کے گندم(گیہوں) کی کاشت پر مضبوط اعتماد کو ظاہر کرتا ہے، جو یقینی ایم ایس پی اور خریداری کے نظام کی مددسے ممکن ہوا ہے، اور اس سے ایک اور مضبوط فصل کے امکان کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ذخائر(اسٹاک) میں اضافے، قیمتوں میں نرمی، متوقع زیادہ پیداوار، اور وافر مقدار آمد کے دوران نقصان دہ قیمت پر فروخت کو روکنے کی ضرورت کے پیش نظر، حکومت کا 25 ایل ایم ٹی گیہوں( گندم) اور 5 ایل ایم ٹی گیہوں( گندم) کی مصنوعات کی برآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ گھریلو قیمتوں کو مستحکم کرنے، مارکیٹ کی روانی بہتر بنانے، ذخائر(اسٹاک) کے مو¿ثر گردش کو یقینی بنانے، اور کسانوں کی آمدنی کو مزید مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ قومی غذائی تحفظ کو برقرار رکھنے میں مدد کرے گا۔اس کے ساتھ ہی، چینی کی برآمد کو فروغ دینے کے لیے، بھارت حکومت نے موجودہ چینی سیزن 2025-26 کے دوران رضا کار چینی ملوں کو اضافی 5 ایل ایم ٹی چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل، حکومت نے 14 نومبر 2025 کے احکامات کے ذریعے موجودہ چینی سیزن 2025-26 میں 15 ایل ایم ٹی چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔چینی ملوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، 31 جنوری 2026 تک صرف تقریباً 1.97 ایل ایم ٹی چینی برآمد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، موجودہ تاریخ تک چینی ملوں نے تقریباً 2.72 ایل ایم ٹی چینی برآمد کے لیے معاہدہ کیا ہے۔ اضافی 5 ایل ایم ٹی چینی کی برآمد رضا کار چینی ملوں کو اس شرط کے تحت فراہم کی جائے گی کہ ان کی مختص شدہ مقدار کا کم از کم 70فیصد 30 جون 2026 تک برآمد کیا جائے۔ برآمدی کوٹا رضا کار چینی ملوں میں تناسبی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے گا، اور ملوں کو احکامات جاری ہونے کی تاریخ سے 15 دن کے اندر اپنی رضا مندی جمع کروانی ہوگی۔ مختص شدہ برآمدی کوٹا کسی بھی دوسری چینی مل کے ساتھ تبادلہ یا تبدیلی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔اس فیصلے سے توقع کی جا رہی ہے کہ چینی کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ملک میں زائد چینی کی دستیابی کے انتظام میں مدد ملے گی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan