
معروف کامیڈی اداکار راجپال یادیو اس وقت چیک باو¿نس کیس میں قانونی پریشانی کا سامنا کررہے ہیں۔ 5 فروری کو دہلی ہائی کورٹ کے حکم کے بعد، اداکار نے تہاڑ جیل میں خودسپردگی کی تھی۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ جیل جانے سے قبل انہوں نے جو جذباتی بیان دیا،وہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
راجپال یادو جیل حکام کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے
رپورٹس کے مطابق، خودسپردگی سے قبل راجپال یادو کی ذہنی حالت انتہائی متزلزل تھی۔ انہوں نے جیل حکام سے کہا، ” کیا کروں؟ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اور کوئی دوسرا حل نظر نہیں آتا... سر، ہم سب یہاں اکیلے ہیں، کوئی دوست نہیں ہے۔ مجھے اس بحران سے خود نمٹنا ہے۔“ اداکار کی آنکھوں میں آنسو اور ہچکیاں واضح طور پر دکھائی دے رہی تھیں، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ اپنی صورتحال سے بہت پریشان ہیں۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد لوگ اس مشکل وقت میں ان کی مدد نہ کرنے پر بالی ووڈ ستاروں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔
چیک باو¿نس معاملہ کیا ہے؟
یہ واقعہ 2010 کا ہے، جب راجپال یادو نے اپنی پہلی ہدایت کاری میں بنی فلم ”اتہ، پتہ ، لاپتہ“کے لیے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے 5 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ فلم باکس آفس پر ناکام رہی، اورمالی تنگی نے اداکار کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ قرض ادا کرنے سے قاصر، انہوں نے بقایا رقم کی ادائیگی کے لیے چیک دیئے تھے، جو بعد میں باو¿نس ہوگئے۔
اداکار کی جانب سے پوری رقم ادا کرنے کا وعدہ کرنے کے بعد 2024 میں عدالت نے ان کی گرفتاری پر روک لگا دی تھی۔ تاہم، وہ اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے اور انہیں خود سپردگی کرنی پڑی۔ اب، راجپال اپنی مشکل مالی صورتحال اور قانونی پیچیدگیوں سے نبرد آزما ہیں، جو فلم انڈسٹری اور عام لوگوں دونوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد