بلوچستان میں بی ایل اے کے آپریشن ہیرو کے دوسرے مرحلہ کا اعلان
کوئٹہ (بلوچستان) یکم فروری (ہ س)۔ پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کے باعث حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے پیر کو بلوچستان بھر میں اپنے ''آپریشن ہیرو'' کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعل
بلوچ


کوئٹہ (بلوچستان) یکم فروری (ہ س)۔ پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کے باعث حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے پیر کو بلوچستان بھر میں اپنے 'آپریشن ہیرو' کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا۔ جس کے بعد صوبے میں ریل اور بس سروس بند کردی گئی ہے۔ صوبائی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے آج کہا کہ 12 شہروں میں بی ایل اے کے حملوں کے بعد تقریباً 40 گھنٹے تک جاری رہنے والے فوجی آپریشن میں کم از کم 145 باغی مارے گئے۔

بلوچستان پوسٹ اور دنیا نیوز نے آج الگ الگ رپورٹس میں یہ اطلاع دی۔ پشتو زبان کی اشاعت بلوچستان پوسٹ کے مطابق بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کشیدہ ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں پنجاب سے بلوچستان جانے والی تمام سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔

ڈیرہ غازی خان کے ضلعی ڈپٹی کمشنر کے مطابق فورٹ منرو ہائی وے اور بلوچستان کی طرف تونسہ موسیٰ خیل روڈ کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس سڑک سے کسی کو بلوچستان جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ضلعی ڈپٹی کمشنر کے حکم کے بعد بلوچستان کے سرحدی علاقوں باوٹا اور سخی سرور میں ٹریفک کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے اندرون اور چمن جانے والی ٹرین سروس آج مسلسل دوسرے روز بھی معطل رہی۔ پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس اور چمن جانے والی مسافر ٹرین روانہ نہ ہو سکی۔ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے گزشتہ روز بلوچستان بھر میں اپنے آپریشن ہیرو کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے اعلان کے بعد سے صوبے کے مختلف علاقوں میں نئے سرے سے جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دنیا نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے آج دعویٰ کیا کہ بی ایل اے کی جانب سے صوبے کے 12 شہروں پر حملوں کے بعد تقریباً 40 گھنٹے تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیوں میں کم از کم 145 باغی مارے گئے۔ بگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ جھڑپوں میں 17 سیکیورٹی اہلکار اور 31 عام شہری بھی مارے گئے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ باغیوں نے گوادر میں خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ خاندان کی پانچ خواتین اور تین بچوں کو قتل کیا۔ بگٹی نے کہا کہ حکومت کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ حکومت مذاکرات اور جرگے کے ذریعے بلوچستان میں امن کے لیے پرعزم ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande