
لندن،یکم فروری(ہ س)۔قطر، اردن اور مصر نے ہفتے کے روز اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان حملوں سے خطرناک حد تک کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے اور استحکام کی بحالی کے لیے علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل نے ہفتے کے روز غزہ پر شدید ترین بمباری کی جن میں گھروں، خیموں اور ایک پولیس سٹیشن پر حملوں میں ایک خاندان کی تین لڑکیوں سمیت 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ جن خلاف ورزیوں کے نتیجے میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، یہ اس سیاسی عمل کے لیے خطرہ ہیں جس کا مقصد کشیدگی کم کرنا ہے اور ان سے غزہ میں فلسطینیوں کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔دوحہ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی مکمل تعمیل کرے اور تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کیا تاکہ ٹرمپ منصوبے کے دوسرے مرحلے کی کامیابی اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
وزارت نے انکلیو میں جلد بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اردن نے بھی مذمت کی تائید کی اور ملک کی وزارتِ خارجہ و تارکینِ وطن نے تازہ ترین واقعات کو جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی اور ایک خطرناک اضافہ قرار دیا۔اردن نیوز ایجنسی نے اطلاع دی کہ وزارت کے ترجمان فواد مجالی نے معاہدے اور اس کی دفعات پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیا جن میں غزہ کو انسانی امداد کی فوری، مناسب اور بلاتعطل ترسیل کے ساتھ ساتھ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت شامل ہیں۔
مجالی نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی طرف سے معاہدے کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرے جبکہ کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے اردن کی طرف سے چار جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لیے واضح سیاسی افق کا اعادہ کیا جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو اور یہ دو ریاستی حل اور عرب امن اقدام سے مطابقت رکھتی ہو۔دریں اثناءمصر نے بارہا اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے جن کی وجہ سے کم از کم 25 فلسطینیوں کی موت واقع ہوئی ہے۔قاہرہ نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے خدشہ ہے کہ صورتِ حال خطرناک اور اشتعال انگیز ہو جائے گی اور غزہ کو سلامتی اور انسانی ہمدردی دونوں سطحوں پر مستحکم کرنے کی جاری کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔مصر کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں تمام فریقین پر زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ، جنگ بندی کی حفاظت اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو سیاسی عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ وزارت نے جلد از جلد بحالی اور تعمیرِ نو کی رفتار برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مسلسل خلاف ورزیوں سے انکلیو میں دیرپا استحکام کے امکانات کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan