بھارت رتن ایل کے اڈوانی جی کی 100 ویں سالگرہ!
از: نریندر مودی، وزیر اعظم
بھارت رتن ایل کے اڈوانی جی کی 100 ویں سالگرہ!


جناب لال کرشن اڈوانی آج 8 نومبر کو اپنی زندگی کے سوویں سال میں قدم رکھ رہے ہیں۔ اِس سال، اُن کی سالگرہ دیوالی کے مبارک تہوار کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو پربھو شری رام اور دیے سے منسوب ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جب ہم جن سنگھ کے قیام کے 75 سال، ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے 125ویں یومِ پیدائش، اور حال ہی میں آر ایس ایس کے سو سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔

ایسی شخصیات بہت کم ہیں جن کی زندگی جدید بھارت کے اس قدر متنوع ابواب کو محیط ہو۔ جناب اڈوانی جی 8 نومبر 1927 کو دیو دیپاولی کے دن پیدا ہوئے۔ 1947 میں ایک نوجوان کی حیثیت سے انھوں نے سندھ میں اپنی مانوس دنیا کو پیچھے چھوڑنے کا کرب جھیلا، لیکن انھوں نے کسی بھی تلخی کے بغیر اپنی زندگی کی ازسرِ نو تعمیر کی۔ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود صفر سے شروعات کرنے کی یہ خوبی ہمیشہ ان کے ساتھ رہی۔ اس کا مشاہدہ اس وقت بھی ہوا جب وہ جن سنگھ کو مستحکم کر رہے تھے اور بعد ازاں بی جے پی کی بنیادیں استوار کر رہے تھے۔ بطور بی جے پی صدر ان کے دورِ قیادت میں کانگریس کی نشستیں 1989 میں 400 سے تیزی سے کم ہو کر 200 سے بھی نیچے آ گئیں، جب کہ 1996 میں بی جے پی پہلی مرتبہ سب سے بڑی واحد جماعت بن کر ابھری۔ جناب اڈوانی جی نے کارکنان کی کئی نسلوں کی آبیاری کی اور پارٹی کو ’قوم پہلے‘ کے اصول پر مبنی ایک واضح اور ٹھوس بنیاد فراہم کی۔

اڈوانی جی کی شخصیت میں دو ایسی خصوصیات ہیں جو انھیں ہمیشہ ایک ممتاز قائد کے طور پر منفرد بناتی ہیں۔ اول، ان کی نظریاتی وضاحت اور فکری بصیرت، جس کا عکس ان کی تقاریر اور تحاریر میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ جن سنگھ اور بی جے پی کی وہ قراردادیں جو انھوں نے خود تحریر کیں، آج بھی لائقِ مطالعہ ہیں، جب کہ ان کے انٹرویوز ہمیشہ ہی جامع، بصیرت افروز اور دو ٹوک ہوا کرتے تھے۔ دوم، وہ بے باک انداز جس کے ذریعے انھوں نے برسوں تک بھارت کے سیاسی حلقوں کے ایک بڑے طبقے کے ذریعے پیش کیے جانے والے نام نہاد سیکولرازم کو بے نقاب کیا۔

اڈوانی جی نے ہر ذمہ داری کو انتہائی تندہی اور لگن سے نبھایا۔ آر ایس ایس پرچارک کی حیثیت سے، اڈوانی جی نے ابتدائی طور پر راجستھان کے مختلف علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد وہ قومی راجدھانی منتقل ہوئے، جہاں انھوں نے اٹل جی کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ دو قد آور سیاسی رہ نماؤں کا کئی دہائیوں تک بغیر کسی مسابقت کے، باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنا ایک نایاب مثال ہے۔ اڈوانی جی اور اٹل جی نے اسی طرح کی ایک غیر معمولی مثال قائم کی۔ ان دونوں نے مل کر بھارت کی سیاست کا دھارا بدل دیا۔

اڈوانی جی جس دہلی میں تشریف لائے تھے، وہ اس وقت تقسیمِ ہند کے ہول ناک صدمات سے نبرد آزما تھی۔

انھوں نے خود کو جن سنگھ کو مستحکم اور مضبوط بنانے کے لیے وقف کر دیا۔ سن 1967 میں، اڈوانی جی دہلی میٹروپولیٹن کونسل کے چیئرمین بنے، جہاں انھوں نے مرحوم وجے کمار ملہوترا جی (جو چیف ایگزیکٹو کونسلر بنے تھے) کے شانہ بشانہ کام کیا۔

1970 میں جناب اڈوانی کے پارلیمانی سفر کا آغاز ہوا۔ ایوان میں ان کی مداخلتوں کو تمام سیاسی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ انھوں نے بحیثیت رکنِ پارلیمنٹ اور بعد ازاں دونوں ایوانوں میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر، نیز حکومتی بنچوں پر رہتے ہوئے بھی اپنی نمایاں شناخت بنائی۔ اپنی پارلیمانی مصروفیات کے باوجود، وہ عوام سے ملنے کے لیے تواتر کے ساتھ پورے بھارت کا دورہ کرتے رہے۔

1991 کے لوک سبھا انتخابات کی یادیں میرے ذہن میں پوری طرح تازہ ہیں۔ اس وقت یہ طے پایا تھا کہ اڈوانی جی دو نشستوں سے لوک سبھا کا انتخاب لڑیں گے، جن میں سے ایک گاندھی نگر تھی۔ گجرات کے ساتھ ان کا تعلق بہت پرانا تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کے والد صاحب کچھ میں ہی آباد ہوئے تھے۔ اڈوانی جی گجرات سے راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے، اس لیے یہ ایک طرح سے ان کی گھر واپسی تھی۔

بی جے پی تنظیم سے وابستہ ہونے کی وجہ سے مجھے ان کے کاغذاتِ نامزدگی تیار کرنے اور پوری انتخابی مہم کے دوران ان کی معاونت کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ گاندھی نگر کے عوام نے انھیں بارہا منتخب کر کے پارلیمنٹ بھیجا۔ گاندھی نگر کے ایک ووٹر کی حیثیت سے مجھے بھی متعدد بار اڈوانی جی کے حق میں ووٹ ڈالنے کا شرف حاصل ہوا۔ اپنے انتخابی حلقے کے تئیں ان کی غیر معمولی توجہ اور لگن ہم سب کے لیے قابلِ تقلید ہے۔

ایمرجنسی اڈوانی جی کی زندگی کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ وہ جمہوریت کی بقا اور آئین کے تحفظ کی جدوجہد میں صفِ اول میں شامل رہے۔ ان کے یہ تجربات ان کی کتاب ’A Prisoner’s Scrap-Book‘ کی زینت بنے۔ اس کتاب کے ایک باب، جس کا عنوان ’A Tale of Two Emergencies‘ ہے، میں جون 1975 سے بھارت میں رونما ہونے والے واقعات اور 1933 کے نازی جرمنی کے حالات کے درمیان پائی جانے والی گہری مماثلتوں کی نہایت عمدگی سے وضاحت کی گئی ہے۔

اڈوانی جی حزبِ اختلاف کے ایک شعلہ بیاں رہ نما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین منتظم بھی تھے۔ جب 1977 میں جنتا حکومت برسرِ اقتدار آئی تو اڈوانی جی اطلاعات و نشریات کے وزیر بنے۔ یہ بات وسیع پیمانے پر تسلیم کی جاتی ہے کہ اس وزارت میں ان کی کارکردگی انتہائی مؤثر رہی۔ نائب وزیرِ اعظم اور بھارت کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزرائے داخلہ میں سے ایک کی حیثیت سے، انھوں نے بھارت کے سیکیورٹی نظام کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ہماری سیکیورٹی فورسز کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ان کی خدمات کو بڑے احترام اور اپنائیت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف ان کے دو ٹوک موقف نے یہ یقینی بنایا کہ بھارت کو ایک سخت انسدادِ دہشت گردی قانون میسر آئے۔

بلاشبہ، اڈوانی جی کی زندگی کا ایک تاریخ ساز موڑ سومناتھ سے ایودھیا تک کی رتھ یاترا تھی۔ اس یاترا نے بھارتی معاشرے کے رخ کو بہتری کی جانب موڑ دیا۔ میں اسے اپنی سعادت سمجھتا ہوں کہ مجھے اس یاترا کے تصوراتی مرحلے سے لے کر اس کی عملی تکمیل تک شامل رہنے کا موقع ملا۔ یاترا کے آغاز کے موقع پر سومناتھ میں میری موجودگی میرے لیے خاص طور پر یادگار تھی۔ کوئی بھی یاترا انتہائی کٹھن ہو سکتی ہے، جس کے لیے طویل وقت، مسلسل مسافت، جسمانی استقامت اور تھکن کے باوجود اپنی توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ اڈوانی جی اس غیر معمولی قوتِ برداشت کا جیتا جاگتا پیکر تھے۔

بہار میں اڈوانی جی کی گرفتاری کے وہ افسوسناک لمحات آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں۔ اس کے بعد، گجرات میں بی جے پی نے چمن بھائی پٹیل حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی۔ اس اقدام کے ذریعے ایک واضح پیغام دیا گیا کہ جب بات ہمارے نظریات اور رام مندر کی ہو، تو کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے متعدد سینئر رہ نماؤں اور کارکنان نے یہ عہد کیا تھا کہ حالات چاہے کچھ بھی ہوں، رام مندر کی تعمیر ہر صورت میں ہو کر رہے گی۔ اور پھر برسوں بعد، بھارت کے عوام کے آشیرباد سے ایودھیا میں پربھو شری رام کا ایک عظیم الشان مندر حقیقت کی شکل اختیار کر گیا۔

اڈوانی جی کی شخصیت کے اور بھی کئی پہلو نہایت غیر معمولی ہیں، جن میں ان کی سادگی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ نونرمان تحریک کے بعد، اڈوانی جی جوناگڑھ تشریف لائے اور وہاں ایک ماہ تک ایک عام کارکن کی حیثیت سے قیام کرتے ہوئے اسمبلی انتخابات کے لیے پارٹی کو منظم کیا، جن میں کانگریس کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے ہمیشہ اپنی عملی زندگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ عوامی زندگی میں اعلیٰ اخلاقی اقدار اور دیانت داری کی کیا اہمیت ہے۔ وہ مطالعے کے بے حد شوقین ہیں اور جن لوگوں نے ان کی رفاقت میں وقت گزارا ہے، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ کتنی باریک بینی سے اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ سنیما اور تھیٹر کے بھی بڑے دلدادہ ہیں اور ایک پرجوش فلم نقاد بھی رہے ہیں۔ تاریخ سے ان کا گہرا لگاؤ اور اسے محفوظ رکھنے کی ضرورت کا احساس ان کی کتاب ’My Country My Life‘ میں واضح طور پر جھلکتا ہے۔

جناب اڈوانی ہمیشہ سندھی ثقافت سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔ ان کی ایک اور نمایاں کاوش لیہ کے قریب ’سندھو درشن پوجا‘ کو مقبول بنانا تھی۔ مجھے خود جناب اڈوانی اور جناب جارج فرنانڈس کے ہم راہ ایک پوجا میں شرکت کا موقع ملا تھا۔

جناب اڈوانی جی کے فقید المثال سفر کا کوئی بھی تذکرہ محترمہ کملا اڈوانی جی کے ذکر کے بغیر ادھورا رہے گا۔ وہ ان کی بھرپور عوامی زندگی کے دوران ان کے لیے ہمت اور حوصلے کا ایک مستقل سرچشمہ رہیں۔

کراچی میں پروان چڑھتے ہوئے، اڈوانی جی نے شاید یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ ان کی زندگی کا راستہ کیا ہوگا۔ خراج کے طور پر، بھارت کے عوام نے انھیں 2024 میں بھارت رتن دیا۔ آج جب اڈوانی جی اپنی زندگی کے سوویں سال میں داخل ہو رہے ہیں، میری تمنا ہے کہ وہ صحت مند رہیں اور ہمیں اسی طرح تحریک دیتے رہیں جیسے وہ ہمیشہ دیتے رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande