
نئی دہلی/چنئی، 7 اکتوبر (ہ س)۔ کہنے کو ملک کا دارالحکومت دہلی تمام تر وسائل سے مالا مال ہے، لیکن جب تیز بارش ہوتی ہے تو دہلی-این سی آر کے کئی علاقوں میں سیلاب جیسی صورت حال پیدا ہونا ایک عام سی بات ہے۔ ممبئی میں چند گھنٹوں کی موسلادھار بارش کے بعد سڑکوں کا دریا بن جانا، چنئی میں شدید بارش کے ساتھ آبی ذخائر اور ندیوں کا دباو بڑھنا، بنگلورو میں شہری علاقوں کے زیرِ آب آنے سے معمولاتِ زندگی کا درہم برہم ہونا اور حیدرآباد و کولکاتا میں بھاری بارش کے بعد نشیبی علاقوں میں پانی بھر جانا، ملک کے تیزی سے پھیلتے ہوئے بڑے شہروں کے سامنے ایک جیسے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ دوسری جانب، اسی چیلنج کے درمیان انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) مدراس کی قیادت میں کی گئی ایک تحقیق نے شہری سیلاب کی پیشین گوئی کو زیادہ درست بنانے کی سمت میں ایک سائنسی راستہ پیش کیا ہے۔
یہ تحقیق آئی آئی ٹی مدراس، جرمنی کے جی ایف زیڈ ہیلم ہولٹز سینٹر فار جیو سائنسز، جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جے اے ایکس اے) اور کاٹھمانڈو یونیورسٹی کے مابین ایک کثیر شعبہ جاتی اشتراک کے ذریعے کی گئی، جس میں موسمیاتی علوم، ہائیڈرولوجی (علمِ آب)، ہائیڈرولک ماڈلنگ اور مشاہدۂ ارض کے ماہرین کو یکجا کیا گیا۔
دراصل، اس تحقیق نے کرۂ ہوائی میں بننے والی بارش سے لے کر شہر میں پانی پہنچنے اور آبی ذخائر پر پڑنے والے دباو تک کے تمام مراحل کو یکجا سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
اس میں ایٹموسفیرک ماڈلنگ، ہائیڈرولوجی، پانی ذخیرہ کرنے کے سمولیشن اور سیٹلائٹ پر مبنی مشاہدۂ ارض کو جوڑا گیا ہے۔ تحقیق کا بنیادی زور خاص طور پر شہری طاس (بیسن) کی سطح پر شدید بارش کی زیادہ درست پیشین گوئی تیار کرنے پر ہے۔ اس کے نتائج ایک پیئر ریویوڈ اور اوپن ایکسس بین الاقوامی جریدے ’نیچرل ہیزرڈز اینڈ ارتھ سسٹم سائنسز‘ میں شائع ہوئے ہیں۔ اس تحقیقی مقالے کے شریک مصنفین میں ڈاکٹر این نتھیلا دیوی (محکمہ سول انجینئرنگ، آئی آئی ٹی مدراس اور جی ایف زیڈ ہیلم ہولٹز سینٹر فار جیو سائنسز، جرمنی کے سیکشن 4.4: شعبہ ہائیڈرولوجی)، ڈاکٹر راکیش تیجا کونڈورو (ارتھ آبزرویشن ریسرچ سینٹر، جے اے ایکس اے)، ڈاکٹر کندن لال شریسٹھ (کاٹھمانڈو یونیورسٹی، نیپال) اور آسکر پال، پروفیسر سومیندر ناتھ کوئیری اور پروفیسر چندن سارنگی (متعلقہ مصنف) شامل ہیں، جن کا تعلق آئی آئی ٹی مدراس سے ہے۔
اس تحقیق کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے آئی آئی ٹی مدراس کے سول انجینئرنگ شعبے کے ڈاکٹر چندن سارنگی نے، جو اس مقالے کے شریک مصنف بھی ہیں، کہا: ’’شہری سیلاب کی پیشین گوئی کو اکثر بنیادی طور پر بارش کے بہاؤ کے مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ شہری سیلاب کی پیشین گوئی میں مسئلہ یہ ہے کہ بارش کی مکانی اور زمانی تقسیم ہمارے موسمی ماڈلز کے ذریعے درست طور پر ظاہر نہیں کی جاتی۔ بارش سے پہلے اور اس کے دوران فضا میں رونما ہونے والے عوامل بارش کے مکانی انداز کو کافی حد تک متاثر کر سکتے ہیں۔ ایروسول اور بادلوں کے باہمی تعامل کو واضح طور پر ظاہر کر کے ہم شہری علاقوں میں شدید بارش کی مکانی اور زمانی خصوصیات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں سیلاب کے زیرِ آب آنے کے سمولیشن کو بہتر بنا سکتے ہیں۔‘‘ وہیں، آئی آئی ٹی مدراس کے سول انجینئرنگ شعبے کے پروفیسر ایس این کوئیری کا کہنا ہے: ’’چنئی جیسے بڑے شہر کے لیے بارش کی پیشین گوئی کو آبی وسائل کے انتظام سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ شدید بارش کا وقت اور اس کی جغرافیائی تقسیم براہِ راست بہاؤ، آبی ذخائر میں پانی کی آمد اور سیلاب کی پیشین گوئی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک مشترکہ فضائی، آبی اور ہائیڈرولک ڈھانچہ ان باہم مربوط فیصلوں کے لیے زیادہ ٹھوس اور طبعی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔‘‘
اس مطالعے میں ویدر ریسرچ اینڈ فورکاسٹنگ (ڈبلیو آر ایف) ماڈل کا استعمال کر کے سال 2015 کے چنئی کے واقعے سے متعلق فضائی عمل کا مختلف ایروسول حالات کے تحت سمولیشن تیار کیا گیا۔ بارش کے حاصل شدہ زونز کو ہائیڈرولوجیکل ماڈلنگ کے لیے ایچ ای سی-ایچ ایم ایس اور اڈیار بیسن پر ہائیڈرولک و فلڈ ماڈلنگ کے لیے ایچ ای سی-آر اے ایس کے ساتھ مربوط کیا گیا۔ نتائج سے پتا چلا کہ ایروسول کو واضح طور پر ظاہر کرنے سے اڈیار بیسن پر متوقع بارش کے تخمینے میں روایتی سمولیشن کے مقابلے میں تقریباً 22 فیصد بہتری آئی۔ یہ بہتری ماڈلنگ کے بقیہ مراحل میں بھی برقرار رہی، جس کے نتیجے میں سیلاب کے امکانی پھیلاؤ کی درستی میں کنٹرول کیس کے مقابلے تقریباً 50 فیصد بہتری دیکھی گئی۔
واضح رہے کہ چنئی جیسے تیزی سے شہری بننے والے ساحلی شہر کے لیے مانسون کے دوران آبی ذخائر میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنا انتہائی نازک توازن کا کام ہے۔ آبی ذخائر میں پانی بہت زیادہ محفوظ رکھا جائے تو شدید بارش کی صورت میں اضافی پانی چھوڑنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب، نسبتاً کم پانی روکا جائے اور بعد میں مناسب بارش نہ ہو تو دستیاب پانی کا بہتر استعمال متاثر ہوتا ہے۔ ایسے میں انتظامیہ کے لیے یہ معلومات انتہائی اہم ہو جاتی ہیں کہ اگلے چند گھنٹوں یا دنوں میں کسی مخصوص کیچمنٹ ایریا میں کتنی بارش ہونے کا امکان ہے۔ عمومی شہری سطح کی موسمی پیشین گوئی کے مقابلے شہری طاس کی سطح کی زیادہ باریک بین پیشین گوئی، آبی ذخائر کے انتظام اور سیلاب کے خطرے کے جائزے کو زیادہ مفید بنا سکتی ہے۔
یہاں آئی آئی ٹی مدراس کی قیادت میں کیے گئے اس باہمی تحقیقی مطالعے میں فضا، بارش، علمِ آب اور شہری پانی کے انتظام کو الگ الگ اکائیوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے ان کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں فضائی ماڈلنگ کے ذریعے بارش پیدا کرنے والے حالات کا مطالعہ کیا گیا۔ اس کے بعد علمِ آب اور پانی کے ذخیرے سے متعلق سمولیشن کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ بارش کا پانی کیچمنٹ ایریاز اور آبی ذخائر میں کس طرح کا برتاؤ کرتا ہے۔ سیٹلائٹ پر مبنی مشاہدۂ ارض نے حقیقی حالات سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے میں مدد کی۔ اس طرح تحقیق کا مقصد صرف یہ جاننا نہیں تھا کہ بارش ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ سمجھنا بھی رہا کہ بارش کے بعد پانی کہاں جائے گا اور اس کا شہری سیلاب پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔
تحقیق میں سال 2015 میں چنئی میں آئے تباہ کن سیلاب کو ایک اہم حوالے کے طور پر لیا گیا۔ اس دوران شدید بارش نے شہر کے آبی نظام اور سیلاب کے انتظام کو سنگین چیلنج سے دوچار کر دیا تھا۔ محققین نے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ زیادہ تفصیلی فضائی ماڈلنگ اور علمِ آب کے سمولیشن سے ایسے شدید بارش کے واقعات کو سمجھنے میں کتنی بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملا کہ فضائی عوامل کو آبی ماڈلز کے ساتھ جوڑنا شہری سیلاب کی پیشین گوئی کو زیادہ جامع بنانے میں مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ فریم ورک فی الوقت فعال سیلابی پیشین گوئی کا حتمی نظام نہیں ہے۔ یعنی اسے فوری استعمال میں آنے والے سیلابی انتباہ کے نظام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کے لیے شدید بارش کے مختلف واقعات پر ماڈل کی آزمائش، تصدیق اور مسلسل بہتری درکار ہوگی۔
مستقبل کی تحقیق میں فضائی ایروسول، کلاؤڈ کنڈینسیشن نیوکلیائی (سی سی این) اور شہری اخراج سے متعلق اعلیٰ ریزولوشن کے اعداد و شمار کی ضرورت ہوگی۔ فضا میں موجود باریک ذرات بادل بننے اور بارش کے عمل سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان کے بہتر مشاہدے سے ماڈل کو زمینی حقیقت کے مطابق بنانے اور اس کے نتائج کی زیادہ درست تصدیق میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کیوں کہ تیزی سے پھیلتے ہوئے بڑے شہروں میں شہری اخراج اور زمین کے استعمال میں تبدیلی، مقامی موسم اور آبی انتظام کے حالات کو متاثر کرنے والے عوامل میں شامل ہیں۔ سیلاب کی حقیقی پیشین گوئی کے لیے رفتار انتہائی اہم ہے۔ اگر شدید بارش کے اشارے ملنے کے بعد نتائج تیار ہونے میں زیادہ وقت لگے تو اس کی افادیت محدود ہو جائے گی، اس لیے مستقبل کے نظام کو درستی اور رفتار دونوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
محققین کے مطابق، اس طریقہ کار کو مستقبل میں بارش کا زیادہ شکار ہونے والے دیگر بڑے شہروں میں بھی آزمایا جا سکتا ہے۔ ایسے شہر جہاں تیزی سے شہریت پھیل رہی ہے، شدید بارش کے واقعات سامنے آ رہے ہیں اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش محدود ہے، وہاں یہ ماڈل کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ اب آئی آئی ٹی مدراس کی یہ تحقیق اسی سمت میں ایک امکانی سائنسی راستہ دکھاتی ہے۔ فضا میں بارش بننے کے عمل سے لے کر آبی ذخائر میں پانی کی آمد اور شہر میں سیلاب کے خطرے تک کی پوری کڑی کو یکجا سمجھنے کی یہ کوشش مستقبل کے شہری سیلابی انتباہی نظام کے لیے بنیاد بن سکتی ہے۔ فی الوقت ایک بات طے ہے کہ مستقبل کے شہری سیلاب سے نمٹنے کے لیے محض مزید نالیاں اور بڑے تالاب بنا دینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے سماجی ذمہ داری اور جدید ٹیکنالوجی دونوں کو ایک ساتھ سامنے آنا ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن