
سہیل انجمموبائل 9818195929
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے روح رواں اور حکومت کے ادارے ’آیوش‘ میں برسرکار ڈاکٹر سید احمد خاں نے 1997 میں اپنے عہدکے ایک بڑے صحافی محفوظ الرحمن کے ایما پر ایک فیصلہ کیا کہ جس طرح ہندی والے ایک روز یوم ہندی مناتے ہیں کیوں نہ ہم بھی سال میں کم از کم ایک بار ہی سہی یوم اردو منائیں۔ انھوں نے یہ تجویز بھی رکھی کہ کیوں نہ ہم علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر یعنی 9 نومبر کو یوم اردو منائیں۔ انھوں نے اس کا جواز یہ پیش کیا کہ علامہ نے اردو زبان میں جو ترانہ ہندی لکھا ہے اس کا بدل آج تک کوئی شاعر پیش نہیں کر سکا اور اس ترانے میں جس طرح حب الوطنی کے جذبات پروئے گئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ تجویز منظور کی گئی اور 1997 سے اسی تاریخ کو یوم اردو منایا جانے لگا۔ رفتہ رفتہ 9 نومبر کو یوم اردو منائے جانے کی روایت مقامی سے ملک گیر ہوئی اور اب عالمی حیثیت اختیار کی گئی ہے۔ بہرحال جب یوم اردو منائے جانے کا دن قریب آتا ہے تو بہت سے زخموں کے بند کھل جاتے ہیں اور اردو کے ساتھ ناانصافیوں کے جانے کتنے واقعات یاد آجاتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ اہل اردو کی بے حسی بھی یاد آ جاتی ہے کہ کس طرح ہم نے خود اردو کو اپنے گھروں سے نکال دیا ہے۔ ہم خود اردو کی ترویج و ترقی کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ ہمیں اپنا بھی محاسبہ کرنا چاہیے۔ ہم لوگ قبرستانوں پر کتبے ہندی میں لگواتے اور شادیوں اور دیگر پروگراموں کے دعوت نامے ہندی اور انگریزی میں چھپواتے ہیں۔ میں نے کئی شادیوں کے پروگراموں میں اس رویے پر احتجاج کیا ہے۔ مگر کون سنتا ہے فغان درویش؟
بہرحال گزشتہ دنوں پٹنہ سے نسیم اختر نے اپنی کتاب ’غلام سرور ایک شخص ایک کارواں‘ ارسال کی۔ غلام سرور صحافی، سیاست داں اور مجاہد اردو تھے۔ انھوں نے ایک باب غلام سرور کی اردو تحریک کے سلسلے میں باندھا ہے اور اس میں جہاں اردو تحریک کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں وہیں اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا تذکرہ بھی ہے۔ یہ باب 43 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں بہار میں اردو تحریک کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے وہ حوصلہ بخش بھی ہے اور حوصلہ شکن بھی ہے۔ اس مضمون کی ابتدا ہندوستان میں اردو زبان کے خلاف ماحول سازی کے پس منظر اور فورٹ ولیم کالج کلکتہ سے لے کر آگے تک کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اردو تحریک کا پس منظر کافی مفصل ہے اور اس سے اردو مخالف ماحول کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔مصنف نے آگے چل کر اردو کے حق میں اس دستخطی مہم کا ذکر کیا ہے جو دستور ہند کی دفعہ 347 کی رو سے ریاست بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے تسلیم کیے جانے کے مطالبے کے ساتھ شروع کی گئی تھی۔ جنوری 1952 میں اردو کی دستخطی مہم کا آغاز ہوا اور دو سال کے اندر مطالبے کی حمایت میں تقریباً تمام بالغ مردو وخواتین کے دستخط یا انگوٹھے کا نشان لیا گیا۔ 24 فروری 1956 کو (ایم ایل سی) لیڈی انیس امام کی قیادت اور غلام سرور کی سکریٹری شپ میں سوا دس لاکھ دستخطوں پر مشتمل میمورنڈم صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد کی خدمت میں راج بھون پٹنہ میں پیش کیا گیا۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اس سے قبل فروری 1954 میں انجمن ترقی اردو ہند کی جانب سے پورے اترپردیش اور بہار اور دہلی کے بعض علاقوں میں دستور کی دفعہ 347 کے تحت اردو کو علاقائی زبان کی حیثیت سے تسلیم کیے جانے کے مطالبے کے ساتھ 20 لاکھ 50 ہزار دستخطوں پر مشتمل ایک میمورنڈم ڈاکٹر راجندر پرساد کو پیش کیا جا چکا تھا۔ اس وفد کی قیادت انجمن کے صدر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کی تھی۔ لیکن اس مہم کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین جب خود صدر جمہوریہ ہوئے تو وہ بھی کچھ نہیں کر سکے۔ البتہ ایک طویل عرصے کے بعد 1981 میں بہار کے بعض علاقوں میں اور پھر 1989 میں پوری ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنا دیا گیا۔ اسی طرح اکتوبر 1989 میں یوپی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ واضح رہے کہ بہار اور یوپی کے ساتھ ساتھ تلنگانہ، آندھرا پردیش، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، جموں و کشمیر اور دہلی میں بھی اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ لیکن بیشتر ریاستوں میں سرکاری کام کاج میں نہ تو اردو کا استعمال ہوتا ہے اور نہ ہی اس کام کے لیے اسٹاف میں اردو داں کارکنوں کی بھرتی کی جاتی ہے۔ البتہ جموں و کشمیر اور بہار میں صورت حال ذرا مختلف ہے۔ لیکن اب جموں و کشمیر میں بھی اردو کے بورڈ ہٹائے جا رہے اور ان کی جگہ پر انگریزی کے لگائے جا رہے ہیں۔
پروفیسر آل احمد سرور دستور کی دفعہ 347 کی رو سے اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کی تحریک میں پیش پیش تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب ’اردو تحریک‘ میں اردو کے حوالے سے کئی مضامین قلم بند کیے ہیں۔ 1964 میں بہار میں اردو تحریک چلی تھی جس کے خلاف ماحول سازی کی گئی۔ نتیجتاً 1967 میں رانچی میں فساد ہو گیا جس میں 184 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد قومی رہنما جے پرکاش نرائن نے ایک بیان میں بہار حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اردو کو فی الحال دوسری سرکاری زبان کا درجہ نہ دے۔ آل احمد سرور نے اس بارے میں ایک مضمون لکھا جس میں انھوں نے کہا کہ جے پرکاش نرائن ملک و قوم کے مشہور رہنماوں میں سے ہیں۔… انھیںاردو کی اہمیت کا بھی احساس ہے۔ پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کس وجہ سے وہ اب بہار کی حکومت کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اردو کو سرکاری درجہ نہ دے۔ دستور میں شروع سے ہی یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ کسی ریاست میں ضرورت ہو تو ایک سے زائد زبانوں کو بعض اغراض کے لیے یا سبھی اغراض کے لیے سرکاری زبان کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنے مضمون میں لسانی اقلیتوں کے کمشنر کی جانب سے کی جانب سے کی جانے والی ناانصافی کا بھی ذکر کیا ہے۔
پروفیسر آل احمد سرور جب لکھنو? یونیورسٹی میں تھے تو وہاں وہ اردو تحریک کی سرگرمیوں میں شامل رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی خودنوشت ’خواب باقی ہیں‘ میں اس وقت کے وزیر تعلیم سمپورنانند سے اردو کے سلسلے میں ملاقاتوں اور ان کی اردو دشمنی کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مجھے حکومت کی بعض شخصیتوں سے ملنے اور ان کے طرز عمل کو غورسے دیکھنے کا موقع ملا۔ آزادی کے بعد وزیر تعلیم سمپورنانند تھے۔ وہ یوں تو سوشلسٹ خیالات کے حامی تھے مگر ہندی کے ممتاز ادیب اور اردو کے مخالف تھے۔ کئی دفعہ کسی کسی وفد کے ساتھ ان سے ملا اور ہر دفعہ ان کے طرز عمل سے بڑی مایوسی ہوئی۔ پہلی دفعہ جمعیۃ علمائ ہند کے ایک نمائند ے کے ساتھ ملا۔ ان سے پہلے ہم گووند بلبھ پنت سے ملے تھے۔ انھوں نے صاف کہا آپ سمپورنا نندسے بات کیجیے۔ دوسرے دن ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہمارے مطالبات دیکھ کر فرمایا کہ پہلے تین مطالبے تو آپ مرکز کے سامنے رکھیے۔ یہ ان لوگوں سے متعلق ہیں۔ باقی کے متعلق کہا کہ اتر پردیش میں کچھ شہروں کو چھوڑ کر ساری ریاست کی زبان ہندی ہے۔ اس پر میں نے انھیں یاد دلایا کہ 1947 تک ہائی اسکول بورڈ کے امتحان میں انگریزی کا تیسرا پر چہ ترجمے کا ہوتا تھا جس کے لیے طلبہ سے پوچھا جاتا تھا کہ ان کی زبان ہندی ہے یا اردو۔ اس میں دو تہائی تعداد ہندی والوں کی اور ایک تہائی اردو والوں کی ہوتی تھی جب کہ مسلمانوں کی آبادی ریاست میں کبھی پندرہ فی صد سے زیادہ نہیں رہی۔ اس پر ارشاد ہوا کہ یہ سب انگریزوں کی کارستانی تھی۔ ورنہ حقیقت وہی ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔ پھر کہنے لگے آپ اردو والوں کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔ اگر لوگ ہندی نہیں پڑھیں گے تو آئندہ انھیں روز گار نہیں ملے گا۔ میں نے عرض کیا کہ ہندی تو لازمی طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ اس کو پڑھنے سے کسی کو انکار نہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ ابتدائی تعلیم اور ثانوی تعلیم اردو میں ہو اور اعلیٰ تعلیم کی منزل پر بھی اردو پڑھی جائے۔مگر وہ اپنی بات پر اڑے رہے۔ دوسری ملاقات ہوئی تو وفد کے لیڈر مولوی عبدالحق تھے۔ انھوں نے مولوی صاحب کا نام ضرور سنا ہو گا۔مگر ان سے بھی ڈھنگ سے بات نہ کی۔ تیسری دفعہ جب وفد ان سے ملا تو ڈاکٹر ذاکر حسین کی سرکردگی میں۔ اس سے پہلے ان کی طرف سے یہ اعلان ہوا تھا کہ اتر پردیش میں سب کی مادری زبان ہندی ہے۔ ہم لوگ پہنچے تو انھوں نے شروع ہی میں کہہ دیا کہ ہمارا وہ سرکلر واپس لیا جا رہا ہے جس میں سب کی مادری زبان ہندی قرار دی گئی ہے۔ باقی سارے مطالبات انھوں نے رد کر دیے۔
ادھرپر شو تم داس ٹنڈن اتر پردیش میں ہندی تحریک کے رہ نما اور کانگریس کے ممتاز رکن تھے۔ یہ واقعہ ہے کہ پرشوتم داس ٹنڈن اور سمپورنانند نے کسی وجہ سے اتر پردیش میں آزادی کے بعد ہندی کو ہر شعبے میں نافذ ہی نہیں کیا گیا بلکہ اردو کے چلن اور اس کے فروغ میں دشواریاں بھی پیدا کیں۔ جب مرکزی وزارت تعلیم کی طرف سے اس سلسلے میں ہدایات آتیں تو وہ بیشتر نظر انداز کر دی جاتیں۔ سہ لسانی فارمولا کے نفاذ میں بھی تیسری زبان کے طور پر جدید ہندوستانی زبان کے بجائے آٹھویں شیڈول کی کوئی زبان رکھی گئی۔ آٹھویں شیڈول میں سنسکرت بھی شامل ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ثانوی اسکولوں میں سنسکرت کا عام طور پر انتظام کیا گیا مگر اردو کا انتظام صرف چند جگہوں پر ہوا اور وہ بھی بہت سے مطالبات اور عرضداشتوں کے بعد۔ ہائی اسکول میں اردو میں جواب دینے کی اجازت اگرچہ کا غذ پر رہی مگر عملاً معدودے چند کو ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا۔
وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک دلخراش داستان ہے کہ کس طرح آزادی کے بعد پندرہ بیس برس میں اتر پردیش میں ہندی کاراج ہوگیا اور اردو کواپنے گھرمیں غیر سمجھ کر نظرانداز کردیا گیا۔ جواہرلال نہر وجب لکھنو آتے تو وہ اس تنگ نظری پر احتجاج ضرور کرتے تھے مگر چونکہ تعلیم ریاست کے دائرہ اختیار میں ہے اس لیے نتیجہ کچھ نہ نکلتا۔ ایک زمانے میں اس سلسلے میں نیشنل ہیرالڈ میں بہت سے مضامین اور خطوط شائع ہوئے تھے۔ جب میں نے ایک خط میں لکھا کہ ایک علاقے میں ایک سے زیادہ زبانیں ہو سکتی ہیں اور اس بات کا دستور کے بانیوں کو احساس تھا ورنہ وہ دفعہ 347 دستور میں کیوں رکھتے۔ چنتامنی کے صاحبزادے نائڈو نے جو ہندی کے ایک ممتاز ادیب تھے جواب دیا کہ ’ایورسٹ کی چوٹی پر ایک ہی آدمی کے کھڑے ہونے کی گنجایش ہے‘۔ اتر پردیش کی سیکڑوں میل میں پھیلی ہوئی ریاست کے لیے جس کی آبادی دس کروڑ ہے اور جس میں غازی آباد سے مغل سرا ئے تک ریل کے سفر میں اردو کے چلن کا اندازہ ہو سکتا ہے، یہ دلیل کتنی مضحکہ خیز ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Md Owais Owais