
ہریدوار، 11 اکتوبر (ہ س)۔ بچیوں کو مساوی حقوق، معیاری تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ایک ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اسی پیغام کے ساتھ آج 11 اکتوبر کو عالمی یومِ دختران منایا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے سال 2011 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا اور پہلی بار 2012 میں عالمی یومِ دختران منایا گیا تھا۔ سال 2026 کے عالمی یومِ دختران کا موضوع ’’بچپن کی شادی کا خاتمہ اور بچیوں کے حقوق میں سرمایہ کاری‘‘ ہے۔
عالمی یومِ دختران کے موقع پر ہندوستھان سماچار سے گفتگو کرتے ہوئے یوگا اور قدرتی طریقۂ علاج کی ماہر ڈاکٹر روچیتا ترپاٹھی اور قومی آیوش مشن، ہریدوار کے ماہر ڈاکٹر اوینیش کمار اپادھیائے نے کہا کہ بچیوں کی ہمہ جہت ترقی کو صرف تعلیم تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔ جسمانی صحت، ذہنی توازن، غذائیت، صفائی اور خود اعتمادی بھی شخصیت کی تعمیر کے اہم ستون ہیں۔
بچپن کی شادی ایک سنگین چیلنج
ڈاکٹر روچیتا ترپاٹھی کے مطابق، بچپن کی شادی ایک اہم سماجی مسئلہ ہے، جو بچیوں کے حقوق اور صحت کو متاثر کرتا ہے۔ کم عمری میں شادی سے تعلیم چھوٹ جانے، کم عمری میں حمل ٹھہرنے، زچگی کے دوران صحت کی پیچیدگیوں اور مواقع محدود ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان میں 20 سے 24 سال کی عمر کی تقریباً 23 فیصد نوجوان خواتین کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہو گئی تھی۔ اگرچہ گزشتہ برسوں میں اس شرح میں کمی آئی ہے، لیکن اس برائی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے والدین، اساتذہ اور سماج کی مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔
غذائیت اور صفائی پر زور
ڈاکٹر روچیتا نے بتایا کہ نوعمری میں متوازن غذا، مناسب نیند اور باقاعدہ جسمانی سرگرمیاں ضروری ہیں۔ غذائیت کی کمی، خصوصاً آئرن کی کمی، خون کی کمی یعنی انیمیا کا سبب بن سکتی ہے۔
غذا میں ہری سبزیاں، دالیں، موسمی پھل، ثابت اناج اور دودھ شامل کرنا چاہیے۔ مسلسل تھکاوٹ یا کمزوری محسوس ہونے پر ڈاکٹر سے مشورہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماہواری کے دوران صفائی کا خیال رکھنا اور اس سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنا بھی صحت کا ایک اہم حصہ ہے۔
یوگا سے ذہنی توازن
ڈاکٹر روچیتا کے مطابق، عمر اور جسمانی صلاحیت کے لحاظ سے تاڑاسن، ورکشاسن، تتلی آسن اور سانس لینے کی آسان مشقوں کو روزمرہ معمول میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
امتحانات کا دباؤ اور جسمانی تبدیلیوں سے متعلق خدشات نوعمر لڑکیوں میں ذہنی تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں کھل کر بات چیت کرنا اور ضرورت پڑنے پر ماہرین کی مدد لینا ضروری ہے۔
خود اعتمادی اور فیصلے کرنے کی آزادی
ڈاکٹر اوینیش اپادھیائے نے کہا کہ بااختیار بنانے کا مطلب صرف بچیوں کو اسکول بھیجنا نہیں، بلکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ طور پر سوچنے کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔
بچیوں کو سائنس، ٹیکنالوجی، کھیل، طب اور کاروبار سمیت ہر شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں صحت سے متعلق آگاہی پروگرام، نوعمر لڑکیوں کی صحت پر گفتگو، یوگا، کھیلوں اور کیریئر سے متعلق رہنمائی جیسی سرگرمیاں بچیوں کی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
دونوں ماہرین نے کہا کہ بچیوں کی صحت، تعلیم اور حقوق میں سرمایہ کاری دراصل ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ جس معاشرے میں بچیوں کو مساوی مواقع اور عزت و احترام حاصل ہوتا ہے، وہی معاشرہ ترقی کی راہ پر آگے بڑھتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی