کرناٹک کا انوکھا گاؤں، جہاں ایک بھی دو منزلہ مکان نہیں
گدگ، 11 اکتوبر (ہ س)۔بڑے، خوبصورت اور جدید سہولیات سے آراستہ مکانات بنانا بیشتر لوگوں کا خواب ہوتا ہے، لیکن کرناٹک کے گدگ تعلقہ میں واقع ہاتلگیری گاؤں میں آج بھی دو منزلہ مکان تعمیر کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً چار ہزار کی آبادی والے اس گاؤں م
کرناٹک کا انوکھا گاؤں، جہاں ایک بھی دو منزلہ مکان نہیں


گدگ، 11 اکتوبر (ہ س)۔بڑے، خوبصورت اور جدید سہولیات سے آراستہ مکانات بنانا بیشتر لوگوں کا خواب ہوتا ہے، لیکن کرناٹک کے گدگ تعلقہ میں واقع ہاتلگیری گاؤں میں آج بھی دو منزلہ مکان تعمیر کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً چار ہزار کی آبادی والے اس گاؤں میں سیکڑوں مکانات ہیں، لیکن ایک بھی دو منزلہ مکان نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ گاؤں کی آرادھیا دیوی، شری نیم کے درخت والی ستیَمّا دیوی کے تئیں لوگوں کی غیر متزلزل عقیدت ہے۔

گاؤں میں یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ دیوی کے مندر سے اونچا مکان تعمیر نہیں کیا جائے گا۔ دیہاتیوں کا ماننا ہے کہ اگر کوئی مندر سے اونچا مکان بناتا ہے تو اس کے خاندان کو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ عقیدہ کئی دہائیوں سے گاؤں میں رائج ہے۔ اسی وجہ سے لوگ مکان تعمیر کرتے وقت اس بات کا خصوصی خیال رکھتے ہیں کہ اس کی اونچائی مندر سے زیادہ نہ ہو۔

مندر سے اونچا مکان تعمیر نہیں کیا جاتا

بتایا جاتا ہے کہ ماضی میں گاؤں کے ایک شخص نے مندر سے اونچا دو منزلہ مکان تعمیر کروایا تھا۔ اس کے بعد اس خاندان کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد دو منزلہ مکان کو ہٹوا دیا گیا۔ گاؤں کے بزرگ بھراپا کے مطابق، اس واقعے کے بعد سے کسی نے بھی دو منزلہ مکان تعمیر کرنے کے بارے میں نہیں سوچا۔

گاؤں میں کوئی شخص کتنا ہی خوش حال کیوں نہ ہو، وہ بڑا اور جدید سہولیات سے آراستہ مکان تو بنا سکتا ہے، لیکن اس کی اونچائی گرام دیوی کے مندر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ دیہاتی اس روایت پر پوری پابندی کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔ گاؤں کے رہائشی بسوراج کے مطابق، یہ روایت آباؤ اجداد کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ بزرگوں کی جانب سے نبھائی جانے والی اس روایت کو نئی نسل بھی آگے بڑھا رہی ہے۔ دیوی کے تئیں عقیدت ہی کی وجہ سے گاؤں میں دو منزلہ مکانات تعمیر نہیں کیے جاتے۔

ہاتلگیری گاؤں کی ایک اور خاص بات گرام دیوی ستیَمّا دیوی کے نام سے لوگوں کی جذباتی وابستگی ہے۔ گاؤں کے کئی خاندانوں میں بچوں کے نام ستیَپّا، سنا ستیَپّا، ڈوڈّا ستیَپّا، ستیَمّا اور ستیَوّا جیسے رکھے جاتے ہیں۔ ان ناموں میں گرام دیوی کا نام شامل ہوتا ہے۔ نئی نسل میں بھی بچوں کے نام ستیَمّا دیوی کے نام پر رکھنے کی روایت برقرار ہے۔ گاؤں کے رہائشی ناگراج کے مطابق، یہ روایت گرام دیوی کے تئیں لوگوں کی عقیدت اور آستھاکی علامت ہے۔

ستیَمّا دیوی کی پوجا میں نیم کے درخت کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ دیہاتیوں کی آستھا ہے کہ ستیَمّا دیوی نیم کے درخت میں سکونت پذیر ہیں۔ اسی وجہ سے گاؤں میں نیم کے درخت نہیں کاٹے جاتے اور نہ ہی انہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بجائے نیم کے درخت کو دیوتا کا درجہ دے کر اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ گاؤں میں روزانہ نیم کے درخت کی پوجا کرنے کی روایت ہے۔

گاؤں کے رہائشی ہنمنت کے مطابق، ستیَمّا دیوی کے تئیں عقیدت کی وجہ سے نیم کے درخت کی بھگوان کی طرح پوجا کی جاتی ہے۔ نسل در نسل چلی آ رہی اس روایت پر دیہاتی آج بھی عمل کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ان مذہبی روایات کی پابندی سے گاؤں کی خوش حالی اور بھلائی یقینی ہوتی ہے۔

جدیدیت کی تیز رفتار زندگی میں دیہی علاقوں کی کئی روایات اور رسم و رواج آہستہ آہستہ ختم ہوتے جا رہے ہیں، لیکن ہاتلگیری گاؤں میں آباؤ اجداد سے ملنے والے عقائد کو آج بھی خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ دو منزلہ مکان تعمیر نہ کرنا، بچوں کے نام ستیَمّا دیوی کے نام پر رکھنا اور نیم کے درختوں کو کاٹنے کے بجائے ان کی پوجا کرنا، ایسی کئی روایات ہیں جن پر دیہاتی نسل در نسل عمل کرتے آ رہے ہیں۔جدید طرز زندگی کے باوجود اپنے بزرگوں کی روایات کو محفوظ رکھنے والا ہاتلگیری گاؤں اپنی منفرد شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande