
۔ افیون کی غیر قانونی کاشت اور نقل مکانی کا متبادل بن رہی ہے گیندے کی کھیتی
۔ 400 ایکڑ زمین پر فصل لہلہا رہی ہے، 1500 کسان خاندانوں کو اس سے جوڑنے کا ہدف
کھونٹی، 7 نومبر (ہ س)۔ جھارکھنڈ کے کھونٹی ضلع کے دیہات میں ان دنوں کھیتوں میں کھلے زعفرانی رنگ کے گیندے کے پھول نہ صرف قدرتی خوب صورتی میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ دیہی معیشت میں تبدیلی کی نئی مثال بھی پیش کر رہے ہیں۔ کبھی روزگار کی کمی اور نقل مکانی کے مسائل سے دوچار ان گاوں میں اب گیندے کی کاشت کسانوں کی آمدنی کا نیا ذریعہ بن رہی ہے۔ ان پھولوں کی خوشبو اب کھونٹی تک محدود نہیں رہی بلکہ رانچی، لوہردگا، گملا سمیت جھارکھنڈ کے کئی اضلاع کی منڈیوں تک پہنچ رہی ہے۔
دسہرہ کے بعد دیوالی اور چھٹھ تہوار کی تیاریوں کے ساتھ گیندے کے پھولوں کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گھروں، مندروں، عبادت گاہوں، اداروں اور عوامی تقریبات کی سجاوٹ میں ان پھولوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ تہواروں کے اس موسم میں بڑھتی ہوئی مانگ نے کھونٹی کے کسانوں کے لیے بہتر آمدنی کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ کم زمین اور محدود وسائل کے باوجود کسان اس کاشت سے اضافی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔
افیون کی کاشت اور نقل مکانی کا متبادل بنی پھولوں کی کھیتی
کھونٹی ضلع میں گیندے کی کاشت کو متبادل ذریعہ معاش کے طور پر فروغ دینے کی کوشش تقریباً 13 سال پہلے شروع ہوئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد قبائلی اکثریتی گاوں میں افیون کی غیر قانونی کاشت پر انحصار کم کرنا اور روزگار کی تلاش میں ہونے والی نقل مکانی کو روکنا تھا۔ محدود زرعی وسائل اور روزگار کی کمی سے پریشان دیہی خاندانوں کو اپنی زمین پر باعزت روزگار فراہم کرنے کے مقصد سے ’پردان‘ نامی تنظیم نے کسانوں کو گیندے کی کاشت کے لیے ترغیب دی۔
آہستہ آہستہ یہ پہل دیہی معیشت میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بننے لگی۔ اس مہم میں ’پردان‘ کے ساتھ جھارکھنڈ اسٹیٹ لائیولی ہڈ پروموشن سوسائٹی (جے ایس ایل پی ایس) اور دیگر ادارے بھی تعاون کر رہے ہیں۔ کھونٹی مہیلا کرشی باغبانی سواولامبی سہکاری سمیتی لمیٹڈ کے ذریعے دور دراز گاوں کے کسانوں کو اس کاشت سے جوڑا جا رہا ہے۔ مقامی مٹی اور آب و ہوا کے موافق ہونے کی وجہ سے گیندے کی کھیتی کسانوں میں مقبول ہو رہی ہے۔
400 ایکڑ میں 15 لاکھ پودے، 1500 خاندانوں کو جوڑنے کا ہدف
اس سال ضلع میں تقریباً 1500 کسان خاندانوں کو گیندے کی کاشت سے جوڑنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے تحت تقریباً 400 ایکڑ زمین پر کھیتی کی گئی ہے، جہاں تقریباً 15 لاکھ پودے لگائے گئے ہیں۔ اب کھیتوں میں پھول کھلنے لگے ہیں اور کسان ان کی چنائی، مالائیں تیار کرنے اور بازار تک پہنچانے کی تیاری میں مصروف ہیں۔
کھونٹی سے رانچی، لوہردگا، گملا سمیت دیگر اضلاع میں پھولوں کی سپلائی ہونے سے مقامی کسانوں کو وسیع بازار مل رہا ہے۔ اس سے نہ صرف کاشت کا دائرہ بڑھ رہا ہے بلکہ ضلع سے باہر بھی مقامی پیداوار کو پہچان مل رہی ہے۔ کسانوں کے لیے ایک بڑی امید یہ ہے کہ سال بھر مختلف مواقع پر پھولوں کی مانگ برقرار رہتی ہے، تاہم تہواروں اور شادی بیاہ کے موسم میں اس میں خاصا اضافہ ہو جاتا ہے۔
دس ڈیسیمل زمین سے 25 سے 30 ہزار روپے آمدنی کی امید
گیندے کی کاشت چھوٹے اور معمولی زمین رکھنے والے کسانوں کے لیے بھی آمدنی کا ایک اچھا متبادل بن رہی ہے۔ کھونٹی-تورپا سڑک کے کنارے پھول اور مالائیں فروخت کرنے والے کسان جونشن بھینگرا، سنیل بھینگرا اور پرومیلا تِرو کے مطابق کم زمین میں بھی اس کاشت سے اچھی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ 10 ڈیسیمل زمین پر گیندے کی کاشت سے 25 سے 30 ہزار روپے تک آمدنی ہو سکتی ہے۔
تاہم، اصل آمدنی پیداوار، موسم، کاشت کی لاگت اور بازار میں ملنے والی قیمت پر منحصر ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ درگا پوجا، دیوالی، چھٹھ، شادی بیاہ اور دیگر مذہبی و سماجی تقریبات کے دوران پھولوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت ملنے کا امکان رہتا ہے۔ پھولوں کی فروخت سے ہونے والی آمدنی چھوٹے کسانوں کے گھریلو اخراجات اور دیگر مالی ضروریات پوری کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
خواتین اور دیہی خاندانوں کے روزگار کو مل رہا نیا سہارا
گیندے کی کاشت کا فائدہ صرف کسانوں کی آمدنی تک محدود نہیں ہے۔ اس سے دیہی خاندانوں، خصوصاً خواتین کو بھی روزگار کے نئے مواقع مل رہے ہیں۔ پھولوں کی دیکھ بھال، چنائی، چھٹائی، مالائیں تیار کرنے اور فروخت کرنے جیسے کاموں میں خاندان کے افراد حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے گاوں میں مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور زراعت کے تئیں لوگوں کی دلچسپی بھی مضبوط ہو رہی ہے۔
کھونٹی میں گیندے کی کاشت کو تجارتی بنیادوں پر فروغ دینے والی تنظیم ’پردان‘ کے اسٹیٹ ہیڈ پریم شنکر کا کہنا ہے کہ اس پہل سے دیہی علاقوں میں کھیتی کے حوالے سے نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ جن علاقوں میں کبھی افیون کی غیر قانونی کاشت اور روزگار کے لیے نقل مکانی بڑے مسائل تھے، وہاں اب کسان اپنی زمین پر پھول اگا کر معاشی خود کفالت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس سے خواتین اور دیہی خاندانوں کے روزگار کو بھی نیا سہارا مل رہا ہے۔
بازار اور نقل و حمل کا مضبوط نظام ضروری
پریم شنکر کے مطابق گیندے کی کاشت کو طویل مدت تک کامیاب اور فائدہ مند بنانے کے لیے پیداوار کے ساتھ مارکیٹنگ کے نظام کو بھی مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کسانوں کو بروقت بازار فراہم کرنے، ان کی پیداوار کی مناسب قیمت دلانے اور پھولوں کی محفوظ نقل و حمل کے انتظام پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ پھول جلد خراب ہونے والی پیداوار ہیں، اس لیے بروقت فروخت اور بہتر ٹرانسپورٹ کا انتظام کسانوں کے منافع کے لیے اہم ہے۔
اگر کسانوں کو منظم بازار، مناسب قیمت اور نقل و حمل کی بہتر سہولت ملتی ہے تو کھونٹی کے گیندے کے پھول جھارکھنڈ کے دیگر اضلاع کی منڈیوں میں بھی اپنی الگ شناخت بنا سکتے ہیں۔ اس سے آنے والے برسوں میں کاشت کا رقبہ بڑھنے اور مزید دیہی خاندانوں کے اس سے وابستہ ہونے کے امکانات ہیں۔
کرّا بلاک کے ترقی پسند کسان دلیپ شرما کا کہنا ہے کہ کھونٹی کے کھیتوں میں کھلے زعفرانی گیندے کے پھول محض تہواروں کی سجاوٹ کا ذریعہ نہیں بلکہ دیہی محنت، خود کفالت اور سماجی تبدیلی کی علامت بن رہے ہیں۔ دیوالی اور چھٹھ کی رونق بڑھانے والے یہ پھول سیکڑوں دیہی خاندانوں کی زندگی میں خوش حالی کی نئی امید پیدا کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر کھونٹی میں گیندے کی کاشت اب محض ایک زرعی سرگرمی نہیں رہی بلکہ متبادل روزگار، خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور دیہی خود کفالت کی ایک پہل کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کھیتوں میں کھلتے زعفرانی پھول اس بات کی مثال ہیں کہ مناسب رہنمائی، ادارہ جاتی تعاون اور بازار کی سہولت سے دیہی معیشت میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد