کشمیری رباب کی دھن زندہ، مانگ بھی زیادہ، مگر شہتوت کی لکڑی کم یاب
کشمیری رباب کی دھن زندہ، مانگ بھی زیادہ، مگر شہتوت کی لکڑی کم یاب سری نگر، 6 نومبر (ہ س)۔ کشمیری موسیقی کی روح قرار دیا جانے والا آلہ ’رباب‘ اپنی مخصوص بناوٹ اور خوبصورتی کے لیے منفرد پہچان رکھتا ہے۔ یہ شہتوت کی لکڑی سے تراشا جاتا ہے اور اس میں 1
Rabab Maker


کشمیری رباب کی دھن زندہ، مانگ بھی زیادہ، مگر شہتوت کی لکڑی کم یاب

سری نگر، 6 نومبر (ہ س)۔ کشمیری موسیقی کی روح قرار دیا جانے والا آلہ ’رباب‘ اپنی مخصوص بناوٹ اور خوبصورتی کے لیے منفرد پہچان رکھتا ہے۔ یہ شہتوت کی لکڑی سے تراشا جاتا ہے اور اس میں 16 سے 17 تار ہوتے ہیں۔ رباب ایک قدیم تار دار موسیقی کا آلہ ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی ابتدا افغانستان میں ہوئی اور یہ صدیوں قبل کشمیر پہنچا۔ ممکنہ طور پر یہ سلطان زین العابدین کے دورِ حکومت میں وادی میں متعارف ہوا، جس کے بعد رفتہ رفتہ یہ کشمیری لوک موسیقی کا ایک لازمی حصہ بن گیا۔

کشمیری صوفی اور روایتی لوک موسیقی میں رباب کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور یہ آج بھی وادی کی ثقافتی روایت کا اہم حصہ ہے۔ کشمیر میں تیار کیے جانے والے رباب موسیقی کی محفلوں میں استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ اب ان کی خوبصورتی کے باعث بھی خریدے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ انہیں گھروں میں آرائشی اشیا کے طور پر رکھتے ہیں یا تحفے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے ناربل علاقے سے تعلق رکھنے والے کاریگر مشتاق احمد ڈار کا کہنا ہے کہ انہیں رباب کی تیاری کے لیے نہ صرف کشمیر بلکہ ملک کے دیگر حصوں اور بیرونِ ملک سے بھی مسلسل آرڈر موصول ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ہندوستھان سماچار کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا: ’’میں پورے جوش اور تن من سے رباب بنانے کے کام میں مصروف ہوں۔ مجھے صرف کشمیر سے ہی نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں اور بیرون ملک سے بھی آرڈر ملتے رہتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ کشمیری رباب بیرونی ممالک میں بھی اپنی مخصوص پہچان بنا رہا ہے۔

موصوف کاریگر نے ایک قصہ سناتے ہوئے کہا: ’’ پیشے سے وکیل ایک شخص نے مجھے رباب کا آرڈر دیا اور کہا کہ انہیں یہ رباب امریکہ میں رہنے والے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کو بطور تحفہ بھیجنا ہے۔ اس رباب کی قیمت 35 ہزار روپے تھی اور جب وہ رباب لینے میرے کارخانے میں آئے تو اسے دیکھ کر ان کی نیت ہی بدل گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ اپنے لیے خریدوں گا اور اسے گھر میں آرائشی سامان کے طور پر رکھوں گا۔ پھر انہوں نے مزید رباب بنانے کا آرڈر دیا اور 3 رباب اور ایک سارنگی مجھ سے اچھی قیمت میں خریدی۔‘‘

مشتاق احمد نے اپنے گھر میں ہی دو کمروں پر مشتمل ایک کارخانہ بنایا ہے جس میں وہ صبح سے شام تک لگاتار کام کر کے نہ صرف رباب بلکہ مزید تین چار آلات موسیقی تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’گھر میں ہی میرا کارخانہ ہے جہاں میں بسا اوقات 14 گھنٹے کام کرتا ہوں۔ میں صبح 9 بجے سے رات 10 بجے تک لگاتار کام کرتا رہتا ہوں۔ میں رباب ہی نہیں بلکہ سنتور اور سارنگی جیسے موسیقی کے آلات بھی بناتا ہوں، تاہم رباب بنانے کے زیادہ آرڈر ملتے ہیں کیونکہ یہ کشمیری موسیقی کے سازوں کا بادشاہ ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ رباب کی مانگ بھی زیادہ ہے اور یہ دیگر آلات سے مہنگا بھی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’گاہک اپنی پسند کے رباب بنواتے ہیں۔ میرے پاس ایسے بھی گاہک آتے ہیں جو ایک مخصوص قسم کا رباب بنواتے ہیں، جو بہت مہنگے ہوتے ہیں۔‘‘

موصوف کاریگر اس پیشے سے خوش اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’میں اس پیشے سے خوش ہوں۔ پہلے میں نے اسے بطور شوق کیا تھا، پھر یہ میرا مستقل پیشہ بن گیا۔ مجھے کوئی دوسرا کام کرنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔ یہ میرے لیے بہت اچھا ذریعہ معاش ہے۔ گاہک اتنے ہیں کہ کئی میرے کارخانے سے خالی ہاتھ ہی واپس جاتے ہیں۔‘‘

مشتاق احمد اپنے خاندان میں رباب سازی کی تیسری نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’’میں نے یہ ہنر اپنے والد سے سیکھا جو اسے بطور شوق کرتے تھے۔ وہ سرکاری ملازم تھے۔ آج وہ اور میرے بھائی اس کام میں میری مدد کرتے ہیں اور ہمارے بچوں کو بھی اس میں دلچسپی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وادی میں اچھی تعداد میں لوگ اس کام سے وابستہ ہیں۔

تاہم مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ رباب تیار کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی شہتوت کی لکڑی ناپید ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’رباب کو شہتوت کی لکڑی سے تیار کیا جاتا ہے، لیکن یہ لکڑی ملنا اب مشکل ہو رہا ہے، جس سے کام متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق ایک رباب تیار ہونے میں کم سے کم ڈیڑھ ماہ کا وقت لگتا ہے۔ موصوف کاریگر نے کہا: ’’ایک رباب بنانے میں کم سے کم ڈیڑھ ماہ کا وقت لگتا ہے، تاہم جس رباب کا کام باریک ہوتا ہے اس کو بنانے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کی قیمت بھی زیادہ ہی ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’یوں تو ایک عام رباب کی قیمت 35 یا 36 ہزار روپے ہوتی ہے، لیکن میں نے ایک مخصوص قسم کا رباب ایک لاکھ 20 ہزار روپے میں فروخت کیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے: ’’میں ہمیشہ خوبصورت سے خوبصورت رباب بنانے کی تلاش میں رہتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میرا کام کبھی کم نہیں ہوتا اور میرے کارخانے کے رباب صرف بجانے کے لیے ہی نہیں بلکہ گھروں میں آرائشی سامان کے طور پر بھی شوق سے خریدے جاتے ہیں۔‘‘

بناوٹ کے لحاظ سے رباب لکڑی کے ایک کھوکھلے پیالے پر مشتمل ہوتا ہے، جس کے منہ پر کھال کی جھلی کھینچی جاتی ہے۔ عام طور پر اس کے لیے بکری کی کھال استعمال ہوتی ہے۔ تار ایک پل پر سے گزرتے ہیں جو اسی جھلی پر ٹکا ہوتا ہے، اس لیے ساز کی آواز میں ایک نرم اور گہری گونج پیدا ہوتی ہے۔ اسے مضراب سے بجایا جاتا ہے اور اس کی گردن پر پردے نہیں ہوتے، جس سے بجانے والا سروں کے درمیان آسانی سے پھسل سکتا ہے۔ یہ خوبی کشمیری موسیقی کی اس روایت کے لیے اہم ہے جس میں ساز آواز کا ساتھ دیتا ہے۔ اس کے کچھ تار صرف ’ہمدرد تار‘ ہوتے ہیں، جنہیں بجایا نہیں جاتا لیکن مرکزی تاروں کے چھیڑنے پر وہ خود گونجنے لگتے ہیں۔

کشمیری موسیقی کے ساز کے اہم جز رباب کے دو معنی ہیں۔ اس کا ایک معنی روح کی غذا اور دوسرا معنی راستہ دکھانے والا ہے۔ ماہرین رباب کو سرود اور سارنگی جیسے ہندوستانی سازوں کا پیش رو بھی مانتے ہیں۔ تاریخ میں اس نام کا استعمال مختلف زمانوں میں کئی سازوں کے لیے ہوتا رہا ہے، لیکن آج جو رباب کشمیر اور افغانستان میں عام ہے اسے ’کابلی رباب‘ کے نام سے الگ پہچانا جاتا ہے۔ رباب کے روایتی فن کو بدلتے رجحانات اور باقاعدہ تربیت کی کمی جیسے چیلنج بھی درپیش بتائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف عالمی سطح پر اس فن کو پہچان بھی ملی ہے۔ 2024 میں یونیسکو نے رباب بنانے اور بجانے کے فن کو انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کیا۔ یہ نامزدگی افغانستان، ایران، تاجکستان اور ازبکستان نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / ظہور حسین بٹ


 rajesh pande