
بھاگلپور، 6 نومبر (ہ س)۔ بہار کے سلک سٹی بھاگلپور کی ایک محنتی خاتون نے اپنی ہمت اور محنت سے نہ صرف اپنی قسمت بدل دی بلکہ دوسری خواتین کے لیے بھی خود کفالت کی مثال قائم کی ہے۔ جگدیش پور بلاک کے محب علی چک گاؤں کی رہنے والی بی بی شبنم آج علاقے میں ’بنکر دیدی‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ کبھی دھاگا خریدنے اور ساڑیاں فروخت کرنے کے لیے مقامی مہاجنوں کی محتاج رہنے والی شبنم آج ریشمی ساڑیوں کے کاروبار سے سالانہ 10 لاکھ روپے سے زیادہ کی آمدنی حاصل کر رہی ہیں۔
ایک وقت تھا جب شبنم کو مہاجنوں سے بھاری سود پر دھاگا خریدنا پڑتا تھا اور تیار شدہ ساڑیاں بھی انہی کے طے کردہ کم داموں پر فروخت کرنے کی مجبوری تھی۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے انہوں نے گاؤں کے 15 بنکر خاندانوں کو متحد کیا اور ’پراچی جیویگا مہیلا ریشم وسترا اتپادک گروپ‘ تشکیل دیا۔
شبنم کی اس کوشش کو بہار حکومت کی جیویگا اسکیم کا تعاون ملا۔ ’نئی اڑان جیویگا مہیلا سنکول سطحی سنگھ‘ کے ذریعے ان کے گروپ کو کاروبار بڑھانے کے لیے 4 لاکھ 95 ہزار روپے کی مالی مدد فراہم کی گئی۔ اس رقم سے انہیں بیچولیوں اور مہاجنوں پر انحصار سے نجات ملی۔ اب وہ براہ راست بازار سے معیاری ریشمی دھاگا خریدتی ہیں اور اپنے خاندان کے افراد اور گروپ کی دیگر خواتین کے ساتھ ہتھ کرگھے پر ریشمی ساڑیاں تیار کرکے براہ راست بازار میں فروخت کرتی ہیں۔
بی بی شبنم اور ان کے گروپ کی تیار کردہ بھاگلپوری ریشمی ساڑیاں اپنی عمدہ بنائی، چمک اور معیار کی وجہ سے پہچان بنا رہی ہیں۔ حال ہی میں جیویگا اور وومن ورلڈ بینکنگ کے تعاون سے منعقدہ خریداروں اور فروخت کنندگان کی میٹنگ جیسے پروگراموں نے ان خواتین کاروباریوں کو بڑے خریداروں سے براہ راست رابطے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اب ان کی تیار کردہ ساڑیاں گاؤں سے نکل کر بڑے شہروں کے شوروم تک پہنچ رہی ہیں۔
شبنم کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب انہیں لگتا تھا کہ ان کی پوری محنت صرف مہاجنوں کا قرض چکانے میں ختم ہو جائے گی، لیکن خواتین کے متحد ہونے اور جیویگا کی مدد سے انہیں احساس ہوا کہ ان کی کامیابی کی اصل طاقت ان کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ آج ان کی سالانہ آمدنی 10 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور ان کے ساتھ وابستہ کئی خواتین بھی خود کفیل بن رہی ہیں۔
بی بی شبنم کی یہ کامیابی صرف ایک خاتون کے کاروباری سفر کی کہانی نہیں بلکہ اس بات کی مثال ہے کہ مناسب مالی مدد، تربیت اور مواقع ملنے پر دیہی خواتین بھی اپنے ہنر کو کامیاب کاروبار میں تبدیل کرکے معاشی خود مختاری حاصل کر سکتی ہیں۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Afzal Hassan