
پٹرول چھڑک کر 25 سالہ ندیم انصاری کو بنایا گیا نشانہ، واردات کے خلاف سڑک پر اترا عوامی غصہ، دو گھنٹے تک ٹریفک جام
سیوان، 5 نومبر(ہ س)۔ بہار کے سیوان ضلع میں جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے اس قدر بلند ہو گئے ہیں کہ اب تھانے کے سامنے بھی لوگ محفوظ نہیں ہیں۔ جی بی نگر تھانے سے محض 100 میٹر کی دوری پر بدھ کی رات بدمعاشوں نے ایک 25 سالہ دکاندار ندیم انصاری کو مبینہ طور پر پٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا۔ واردات کے بعد ملزمین نے دکان کو باہر سے تالا لگا دیا اور فرار ہو گئے۔مقتول کی شناخت جی بی نگر تھانہ علاقے کے علاؤل ٹولہ کے رہنے والے جلیل انصاری کے بیٹے ندیم انصاری (25) کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ جی بی نگر تھانے کے بالکل سامنے اپنی دکان چلاتے تھے۔
اہل خانہ کے مطابق بدھ کی رات ندیم معمول کے مطابق دکان پر بیٹھے تھے۔ اسی دوران چند نوجوان دکان پر پہنچے اور سامان خریدا۔ جب ندیم نے سامان کی قیمت مانگی تو ان کے درمیان تنازع شروع ہو گیا۔ الزام ہے کہ اسی دوران ایک نوجوان بازار سے پٹرول خرید کر لایا۔ اس کے بعد ملزمین نے ندیم کو دکان کے اندر پکڑ لیا اور ان کے جسم پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ انہیں باہر نکلنے سے روکنے کے لیے ملزمین نے دکان کا دروازہ بند کرکے باہر سے تالا لگا دیا اور فرار ہو گئے۔
دکان سے آگ کے شعلے اٹھتے دیکھ کر آس پاس کے لوگوں کو واقعے کی اطلاع ملی۔ مقامی لوگوں نے آگ بجھانے کی کوشش کی اور سامنے واقع تھانے کو اطلاع دی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور آگ پر قابو پانے کے بعد دکان کا تالا اور دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی۔ وہاں سے ندیم کی لاش برآمد کی گئی، جسے پوسٹ مارٹم کے لیے صدر اسپتال بھیج دیا گیا۔پوسٹ مارٹم کے بعد جب لاش گاؤں پہنچی تو اہل خانہ اور مقامی لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ جمعرات کے روز مشتعل لوگوں نے سیوان-پٹنہ مرکزی شاہراہ پر ترواڑہ پل کے قریب لاش رکھ کر سڑک جام کر دی۔ اس دوران احتجاج اور آتش زنی کرتے ہوئے ملزمین کی فوری گرفتاری اور سینئر افسران کو موقع پر بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔
مظاہرین نے پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب تھانے سے محض 100 میٹر کی دوری پر اتنی بڑی واردات ہو سکتی ہے تو عام لوگوں کی حفاظت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر میں پولیس کا کوئی خوف باقی نہیں رہ گیا ہے۔تقریباً دو گھنٹے تک سڑک جام اور احتجاج جاری رہا۔ اس کے بعد صدر ایس ڈی او آشوتوش گپتا اور صدر-1 ایس ڈی پی او پرانجل موقع پر پہنچے۔ افسران نے مشتعل اہل خانہ اور مقامی لوگوں کو سمجھا کر حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔اس واردات نے ایک بار پھر سیوان میں امن و قانون، پولیس گشت اور جرائم پر قابو پانے کے انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب عوام کی نظریں پولیس کی کارروائی اور ملزمین کی گرفتاری پر لگی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Afzal Hassan