چترا: 350 سال پرانے لیمبوئیہ راج گڑھ پر خطرہ، جھاڑیوں میں گم ہو رہا تاریخی ورثہ
چترا: 350 سال پرانے لیمبوئیہ راج گڑھ پر خطرہ، جھاڑیوں میں گم ہو رہا تاریخی ورثہ - شاہی خاندان کی شجاعت، ماں بھگوتی کے تئیں عقیدت اور کئی لوک کہانیوں کو سمیٹے ہوئے ہے یہ تاریخی مقام چترا، 5 نومبر (ہ س)۔ تاریخ محض کتابوں اور دستاویزات میں درج واق
راج گڑھ کے قریب کا منظر


شجرۂ نسب


راجا گڑھ کے قریب کھیتی باڑی


بکھرے ہوئے آثار


پرانے آثار


جھاڑیوں میں گڑھ


چترا: 350 سال پرانے لیمبوئیہ راج گڑھ پر خطرہ، جھاڑیوں میں گم ہو رہا تاریخی ورثہ

- شاہی خاندان کی شجاعت، ماں بھگوتی کے تئیں عقیدت اور کئی لوک کہانیوں کو سمیٹے ہوئے ہے یہ تاریخی مقام

چترا، 5 نومبر (ہ س)۔

تاریخ محض کتابوں اور دستاویزات میں درج واقعات کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ان عمارتوں، قلعوں، گڑھوں اور قدیم آثار میں بھی زندہ رہتی ہے جو کسی دور کی شجاعت، خوشحالی، تہذیب اور سماجی نظام کی داستان سناتے ہیں۔ جھارکھنڈ کے ضلع چترا کے پتھرلگڈا بلاک کے تحت سنگھانی اور لیمبوئیہ گاؤں کی سرحد پر واقع تقریباً 350 سال پرانا لیمبوئیہ راج گڑھ بھی ایسا ہی ایک تاریخی ورثہ ہے۔

کبھی جاگیرداری نظام کی خوشحالی اور اسٹریٹجک طاقت کی علامت رہا یہ راج گڑھ آج عدم توجہی اور تحفظ کے فقدان کے باعث اپنے وجود کو کھونے کے دہانے پر ہے۔ جس مقام پر کبھی شاہی خاندان کی سرگرمیاں ہوتی تھیں، جہاں سے ایک وسیع خطے کی جاگیرداری کا نظام چلایا جاتا تھا، وہاں آج جھاڑیاں اگ آئی ہیں۔ گڑھ کے آثار مٹی اور پودوں کے بیچ بکھرے پڑے ہیں۔ پرانی اینٹیں، پتھر، مٹی کے برتن اور دیگر قدیم باقیات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ علاقہ کبھی تاریخی اور ثقافتی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا ہوگا۔

مقامی تاریخ اور عوامی روایات کے مطابق، لیمبوئیہ راج گڑھ کا تعلق رام گڑھ کے شاہی خاندان کے جاگیرداری نظام سے رہا ہے۔ مغل دور کے تنازعات میں بادم کے راجا کی حفاظت کرنے والے تین سگے بھائیوں کی بہادری کے صلے میں انہیں 52 موضع کی جاگیرداری دی گئی تھی۔ انہی بھائیوں کی نسل میں سے شیودت رائے کا لیمبوئیہ کے علاقے سے تعلق بتایا جاتا ہے۔ البتہ، آج اس تاریخی مقام کی شناخت رفتہ رفتہ دھندلی پڑتی جا رہی ہے۔ نہ تو یہاں کوئی باضابطہ نوٹس بورڈ ہے اور نہ ہی اس کی تاریخی اہمیت کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی ٹھوس حفاظتی بندوبست دکھائی دیتا ہے۔

مغلوں کے چنگل سے راجا کو بچانے پر ملی تھی 52 موضع کی جاگیرداری

صحافی شیوکمار سنگھ کے مطابق، لیمبوئیہ میں واقع راج گڑھ جاگیردار شیودت رائے کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ مقامی روایات کے مطابق چھگوشی رائے، بال کرشن رائے اور شیودت رائے تین سگے بھائی تھے۔ ان تینوں بھائیوں کی بہادری کی داستان خطے میں آج بھی سنائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سولہویں صدی میں جب بادم کے راجا ہیمنت سنگھ کو مغل فوجیوں نے قیدی بنا کر کندا کی طرف لے جا رہے تھے، تب تینوں بھائیوں نے انہیں چھڑانے کے لیے جرأت مندانہ قدم اٹھایا تھا۔

عوامی روایات کے مطابق، سب سے پہلے کٹیا مربے کے قریب مغل فوجیوں سے ان کا آمنا سامنا ہوا۔ اس کے بعد جوری کے نزدیک سردم میں بھی جھڑپ ہوئی۔ تینوں بھائیوں نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے راجا کو مغل فوجیوں کے قبضے سے بحفاظت چھڑا لیا اور انہیں واپس بادم پہنچایا۔ اس کارنامے سے خوش ہو کر راجا نے تینوں بھائیوں کو 52 موضع کی کھوٹ کٹی جاگیرداری عطا کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعے کا تذکرہ راج پنڈت دامودر مشرا کی تحریروں میں بھی ملتا ہے۔ مقامی تاریخ میں یہ واقعہ تینوں بھائیوں کی بہادری اور رام گڑھ کے شاہی خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات کا ایک اہم باب مانا جاتا ہے۔

تینوں بھائیوں کے درمیان ہوئی تھی جاگیرداری کی تقسیم

برہم رشی سماج کے ومل سنگھ، ریٹائرڈ استاد ادے ناتھ سنگھ، سمیر سنگھ سمیت دیگر افراد نے بتایا کہ ان کے بزرگوں کے مطابق راجا سے حاصل شدہ 52 موضع کی جاگیرداری بعد میں تینوں بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دی گئی۔ مقامی شجرۂ نسب اور رائج تاریخی تفصیلات کے مطابق، چھگوشی رائے کو سمریا پٹی کی جاگیرداری ملی، جبکہ شیودت رائے کے حصے میں لیمبوئیہ پٹی آئی۔ وہیں بال کرشن رائے کے بیٹے جگوبیر رائے کے لاولد رہنے کی وجہ سے ان کا سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ بھومیہار سماج کے شجرۂ نسب میں بھی اس سلسلے میں تفصیلات موجود ہونے کی بات کہی جاتی ہے۔

تینوں بھائیوں کی شجاعت سے متاثر ہو کر راجا نے انہیں سونے کا کھونٹا اور سونے کی تلوار بھی تحفے میں دی تھی۔ مقامی روایت کے مطابق سونے کی تلوار آج بھی جاگیردار خاندان کے ورثاء کے پاس محفوظ ہے۔ یہ تلوار محض ایک قیمتی شے نہیں، بلکہ اس دور کی بہادری اور شاہی خاندان سے وابستہ شاندار ماضی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، اس تاریخی ورثے کے سلسلے میں دستاویزی شواہد اور آزادانہ آثارِ قدیمہ کی تصدیق کی ضرورت ہے۔

ماں بھگوتی کے سچے عقیدت مند تھے شاہی خاندان کے افراد

لیمبوئیہ راج گڑھ کی تاریخ صرف جنگ، بہادری اور جاگیرداری تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس کے ساتھ مذہبی عقیدت اور مقامی ثقافت کی کئی روایات بھی جڑی ہوئی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق، شاہی خاندان کے افراد لیمبوئیہ کی پہاڑی پر براجمان ماں بھگوتی کے سچے عقیدت مند تھے۔ مانا جاتا ہے کہ شاہی خاندان نے ہی پہاڑی پر ماں بھگوتی کے مندر کی تعمیر کرائی تھی۔ آج بھی یہ مندر آس پاس کے گاؤں کے لوگوں کی عقیدت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ مندر میں پوجا پاٹھ اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے شاہی خاندان کی جانب سے پجاریوں کو زمین عطیہ کی گئی تھی، تاکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہ کر مذہبی خدمات انجام دے سکیں۔ مقامی روایات کے مطابق، مغل فوجیوں کے ساتھ مقابلے کے دوران تینوں بھائیوں نے ماں بھگوتی سے جیت کا آشیرواد مانگا تھا۔ جنگ میں کامیابی کے بعد دیوی کے تئیں ان کی عقیدت مزید گہری ہو گئی۔ راج گڑھ اور پہاڑی پر واقع مندر کے مابین قائم یہ روایات اس خطے کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی ورثے کو آپس میں جوڑتی ہیں۔

کھیتوں میں آج بھی ملتے ہیں پرانے آثار، گاؤں والوں میں طرح طرح کے عقیدے

سنگھانی گاؤں کے معمر پنڈت بھولی پانڈے کے مطابق، پہلے راج گڑھ کے آس پاس کے کھیتوں میں کھدائی اور کاشت کاری کے دوران سونے کے پھال سمیت کئی قدیم اشیاء ملتی تھیں۔ علاقے میں یہ عقیدہ رائج تھا کہ ایسی چیزوں کو گھر لے جانے سے متعلقہ شخص کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی خوف اور عوامی عقیدے کے سبب گاؤں والے ان اشیاء کو اپنے گھر لے جانے سے گریز کرتے تھے اور انہیں وہیں چھوڑ دیتے تھے۔

رکن اسمبلی کے نمائندے باسو دیو دانگی کے مطابق، پہلے اس علاقے میں کھیتی باڑی کے دوران قدیم زمانے کی کئی اشیاء نظر آتی تھیں۔ آج بھی کھیتوں میں پرانے آثار ملنے کی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ راج گڑھ کے اطراف میں بکھری پرانی اینٹیں، پتھر، مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے اور دیگر قدیم باقیات اس مقام کی آثارِ قدیمہ کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم، ان اشیاء کے حقیقی دور، استعمال اور تاریخی پس منظر کو جاننے کے لیے ماہرین کی جانب سے سائنسی سروے اور مطالعہ ناگزیر ہے۔

قدیم کنواں بھی ہے راج گڑھ کی تاریخی شناخت

لیمبوئیہ راج گڑھ کے نزدیک ایک قدیم کنواں بھی موجود ہے، جسے گاؤں والوں نے حفاظت کے نقطۂ نظر سے ڈھانپ رکھا ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کنواں بھی راج گڑھ کی پرانی تاریخ کا حصہ رہا ہوگا۔ اس دور میں قلعوں اور گڑھوں کے گرد و نواح میں پانی کے ذرائع کی خاص اہمیت ہوتی تھی۔ پینے کے پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کسی بھی بستی یا گڑھ کی حفاظت اور روزمرہ کی ضروریات کے لیے کنویں اہم کردار ادا کرتے تھے۔

کنویں کے آس پاس پرانی اینٹوں، مٹی کے برتنوں اور دیگر باقیات کا ملنا اس خطے میں قدیم زمانے کی آبادی کے امکانات کو تقویت دیتا ہے۔ گاؤں والوں کے مطابق، پورا علاقہ کبھی ایک خوشحال جاگیرداری نظام کا گواہ رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آبادی، زراعت اور دیگر سرگرمیوں کے پھیلاؤ کے درمیان اس تاریخی مقام کا اصل ڈھانچہ متاثر ہوتا چلا گیا۔ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب اس کے آثار رفتہ رفتہ معدوم ہو رہے ہیں۔

سروے کھتیان اور نقشے میں بھی درج ہے تاریخی مقام

لیمبوئیہ راج گڑھ کی ایک اہم بات یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ اس کا ذکر سروے، کھتیان اور نقشے میں موجود ہے۔ ریونیو کے ایسے ریکارڈ کسی مقام کی تاریخی شناخت اور اس کی اراضی سے متعلق صورتِ حال کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ریونیو ریکارڈ، پرانی شجرۂ نسب کی دستاویزات اور مقامی روایات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو اس گڑھ کی تاریخ سے وابستہ کئی اہم حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔

مؤرخین اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی جانب سے اس جگہ کا سروے کرایا جانا ازحد ضروری ہے۔ اس سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ گڑھ کا اصل رقبہ کتنا تھا، یہاں کس قسم کے ڈھانچے موجود تھے اور بکھرے پڑے آثار کس زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ راج پنڈت دامودر مشرا کی مبینہ تحریروں اور بھومیہار سماج کے شجرۂ نسب کا مطالعہ کر کے مقامی تاریخ کو ایک مستند بنیاد فراہم کی جا سکتی ہے۔

تحفظ ہوا تو سیاحت اور مقامی شناخت کو ملے گی نئی جہت

لیمبوئیہ راجا گڑھ صرف سنگھانی اور لیمبوئیہ گاؤں کا تاریخی ورثہ نہیں ہے، بلکہ یہ ضلع چترا کی مالامال لوک یادداشت اور ثقافتی ورثے کا بھی اہم حصہ ہے۔ یہاں کی شجاعت کی داستانیں، 52 موضع کی جاگیرداری کی تاریخ، ماں بھگوتی مندر سے وابستہ مذہبی روایات اور کھیتوں سے ملنے والے قدیم آثار اس مقام کو ایک منفرد شناخت عطا کرتے ہیں۔

اگر اس جگہ کا باضابطہ سروے کرا کر نشاندہی کی جائے اور بکھرے ہوئے آثار کو محفوظ رکھنے کا انتظام کیا جائے تو اسے ایک تاریخی یادگار کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے۔ جگہ کی صفائی ستھرائی، نوٹس بورڈ کی تنصیب، پرانے کنویں کا تحفظ اور دستیاب تاریخی دستاویزات کو یکجا کرنا اس کی حفاظت کی سمت میں ابتدائی اقدامات ہو سکتے ہیں۔ آگے چل کر اسے مقامی تاریخ اور ثقافتی سیاحت کے مرکز کے طور پر بھی فروغ دینے کے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلع انتظامیہ، محکمۂ آثارِ قدیمہ، مؤرخین اور مقامی معاشرہ مل کر اس ورثے کو بچانے کی پہل کریں۔ بصورتِ دیگر جس لیمبوئیہ راج گڑھ نے کبھی شجاعت، اقتدار اور خوشحالی کی تاریخ دیکھی تھی، اس کے آثار بھی آہستہ آہستہ جھاڑیوں اور مٹی میں دفن ہو کر رہ جائیں گے۔ آنے والی نسلوں کے لیے یہ تاریخ محض بزرگوں کی زبانی سنائی جانے والی لوک کہانی بن کر رہ جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande