
نوئیڈا، 5 نومبر (ہ س)۔ نوئیڈا کے مختلف علاقوں میں رہنے والے پانچ افراد کو سائبر جرائم پیشہ افراد نے اپنا نشانہ بنایا۔ سائبر ٹھگوں نے کسی کو ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ دلانے، کسی کو شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے ذریعے منافع کمانے اور کسی کو اپنا جاننے والا ظاہر کرکے دھوکہ دہی کا شکار بنایا۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس پریتی یادو نے بتایا کہ گریٹر نوئیڈا کے رہائشی وجیندر سنگھ ولد گردھاری نے جمعرات کی صبح تھانے میں شکایت درج کرائی ہے کہ انہوں نے نوین اسپتال میں ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لینے کے لیے آن لائن نمبر تلاش کرکے رابطہ کیا تھا۔ اس کے بعد انہیں واٹس ایپ پر ایک پیغام بھیجا گیا اور ڈاکٹر کی اپائنٹمنٹ کے لیے ایک ایپ ڈاون لوڈ کروائی گئی۔
متاثرہ شخص کے مطابق، جیسے ہی انہوں نے ایپ ڈاون لوڈ کی، سائبر جرائم پیشہ افراد نے ان کا بینک اکاونٹ ہیک کر لیا اور سات مرتبہ میں مجموعی طور پر 6 لاکھ 21 ہزار 693 روپے ان کے اکاونٹ سے مختلف بینک کھاتوں میں منتقل کر لیے۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ واقعے کی رپورٹ درج کرکے پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔
ڈی سی پی نے بتایا کہ ایک دوسرے معاملے میں وی شنکرن نے جمعرات کی صبح سائبر کرائم تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔ وہ نوئیڈا کے سیکٹر 78 میں واقع ہائیڈ پارک سوسائٹی میں رہتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ ریٹائرڈ شخص ہیں اور اپنی طبی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی جمع پونجی اور پنشن پر منحصر ہیں۔
متاثرہ شخص کے مطابق، 2 نومبر 2026 کو شام کے وقت ان کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر یکے بعد دیگرے کئی ایس ایم ایس الرٹ آنے لگے، جن سے انہیں معلوم ہوا کہ ان کے بینک اکاونٹ سے بڑی رقم نکالی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ تو انہوں نے کسی کو اپنا او ٹی پی نمبر بتایا تھا اور نہ ہی بینک سے متعلق کوئی معلومات فراہم کی تھیں۔
ان کی اجازت کے بغیر نان بینکنگ کمپنیوں سے ان کے نام پر قرض لیا گیا۔ جیسے ہی قرض کی رقم ان کے اکاونٹ میں آئی، سائبر جرائم پیشہ افراد نے اسے مختلف بینک کھاتوں میں منتقل کر دیا۔ متاثرہ شخص کے مطابق، ملزمان نے کئی مرتبہ میں ان کے اکاو¿نٹ سے مجموعی طور پر 8 لاکھ 88 ہزار 387 روپے نکال لیے۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ شکایت درج کرکے سائبر کرائم پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
ڈی سی پی نے بتایا کہ اچھیجا گاو¿ں کی کنہا ریذیڈنسی کالونی میں ابھیشیک دھر اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔ 12 اکتوبر کو انہیں ایک نامعلوم نمبر سے فون آیا۔ فون کرنے والے نے خود کو ایک بینک کا نمائندہ بتایا اور کہا کہ ان کے کریڈٹ کارڈ سے ہیلتھ انشورنس پالیسی کی ای ایم آئی کے طور پر 2 ہزار روپے کاٹے جائیں گے۔
اسی دن شام کو ابھیشیک کو او ٹی پی موصول ہوئے۔ اس کے بعد ان کے بینک کریڈٹ کارڈ سے چار الگ الگ لین دین کے ذریعے 4 لاکھ 3 ہزار 760 روپے نکال لیے گئے۔ ابھیشیک دھر نے نہ تو کسی کے ساتھ او ٹی پی شیئر کیا تھا اور نہ ہی کریڈٹ کارڈ سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم کی تھیں۔ انہوں نے گزشتہ رات اس واقعے کی شکایت درج کرائی۔
پولیس ڈپٹی کمشنر پریتی یادو نے بتایا کہ جیتیش ویشنو نے بھی گزشتہ رات سائبر کرائم تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔ وہ گریٹر نوئیڈا کی ایک سوسائٹی میں رہتے ہیں۔ متاثرہ شخص کے مطابق، 12 اکتوبر کو نامعلوم سائبر جرائم پیشہ افراد نے ان سے رابطہ کیا اور شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرکے بھاری منافع کمانے کا لالچ دیا۔
متاثرہ شخص ان کی باتوں میں آ گئے اور ان کے بتائے ہوئے مختلف بینک کھاتوں میں کئی مرتبہ مجموعی طور پر 8 لاکھ 35 ہزار روپے منتقل کر دیے۔ ان کے مطابق، ابتدا میں انہیں اپنے اکاونٹ میں سرمایہ کاری کی رقم بڑھتی ہوئی نظر آ رہی تھی، لیکن جب انہوں نے اپنی رقم نکالنے کی کوشش کی تو سائبر ٹھگوں نے مزید رقم جمع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد انہیں اپنے ساتھ ہوئی دھوکہ دہی کا احساس ہوا اور انہوں نے گزشتہ رات سائبر کرائم تھانے میں شکایت درج کرائی۔
ڈی سی پی نے بتایا کہ ایک دیگر معاملے میں پونم شرما نے بھی گزشتہ رات سائبر کرائم تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔ ان کے مطابق، ایک شخص نے فون کرکے خود کو ان کا جاننے والا ظاہر کیا اور اپنی باتوں میں الجھا کر 6 لاکھ 45 ہزار 774 روپے اپنے اکاو¿نٹ میں منتقل کروا لیے۔ اس طرح دھوکہ دہی کرکے ان کی رقم ہڑپ کر لی گئی۔
پولیس نے متاثرین کی شکایات پر مقدمات درج کرکے تمام معاملات کی جانچ شروع کر دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / عبدالسلام صدیقی